وزارتِ قانون اور صحافیوں کا شوشہ

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا

وزارتِ قانون کو اہم وزارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت کے وہ سینیٹرز یا ارکانِ اسمبلی جو وکالت کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں‘ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وزیر قانون بنیں یا پھر اٹارنی جنرل کے منصب تک پہنچ جائیں۔ ہر جماعت میں بڑے بڑے وکلا موجود ہیں جنہوں نے اپنی جماعت کی حکومت آنے پر عموماً یہی عہدے حاصل کئے۔ ان کے درمیان ایک دوسرے سے مقابلہ بھی چلتا رہا اور گروہ بندیاں بھی ہوتی رہیں۔ میں کئی مثالیں دے سکتا ہوں جب ان حضرات نے یہ عہدے حاصل کرنے کیلئے باقاعدہ لڑائیاں لڑیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ اگر آپ بڑے وکیل ہیں اور آپ کا مخالف کسی ایک سیاسی جماعت میں شامل ہو گیا ہے تو آپ ا س کی مخالف جماعت میں جگہ تلاش کریں گے۔عام خیال یہ ہے کہ اکثر وکلا حضرات کا اپنی جماعت کے سیاسی نظریات سے تعلق نہیں ہوتا۔ ہاں‘ وقت کے ساتھ جماعت کے لیے کچھ ہمدردی یا کسی لیڈر سے ذاتی تعلق پیدا ہو جائے اور اسے نظریاتی وابستگی کا نام دے دیا جائے تو الگ بات ہے‘ ورنہ اکثریت کیلئے یہ ایک پیشہ ورانہ معاملہ ہوتا ہے اور وہ اسے اسی انداز میں لیا جاتا ہے۔
یہ ایک پرانی کہانی ہے جب سیاستدانوں پر مقدمات کی بھرمار ہوئی تو انہیں احساس ہوا کہ اعلیٰ درجے کے وکلا کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔ اب جبکہ مقدمات کی تعداد درجنوں میں تھی‘ اگر وہ ہر مقدمے میں کسی مضبوط وکیل کو بھاری فیس ادا کرتے رہتے تو کنگال ہو جاتے کیونکہ اقتدار اور مقدمات تو ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں‘ چند سال اقتدار اور پھر چند سال جیل؛ چنانچہ وکلا مستقل ضرورت بن گئے۔ یوں سیاستدانوں نے سمجھداری کا فیصلہ کیا کہ کیوں نہ بڑے بڑے وکیلوں کو اپنی جماعتوں میں ہی شامل کر لیا جائے۔ اس طرح ان کے مقدمات مفت لڑے جائیں گے‘ سیاسی اور عدالتی محاذ بھی سنبھال لیا جائے گا۔بار اور بینچ کی سیاست کو بھی کنٹرول کیا جاسکے گا۔پھر ہر جماعت نے اپنے حامی وکلا کو پوسٹیں دیں یا وزارتِ قانون میں ایڈجسٹ کیا۔ وہ سرکاری محکموں کے مقدمات بھی لڑتے رہے۔ جو زیادہ بڑے اور اثر و رسوخ والے تھے انہیں ایڈووکیٹ جنرل سے لے کر اٹارنی جنرل تک کے عہدے ملے اور پھر وہ آگے اپنے دوستوں کو بھی مختلف جگہوں پر ایڈجسٹ کرتے رہے۔ یوں یہ سلسلہ طویل عرصے تک چلتا رہا۔یاد پڑتا ہے کہ ایک بڑے ہوٹل چین کے مالک نے ایک دفعہ بڑے فخر سے بتایا کہ انہیں ایک بڑے سیاسی لیڈر نے سینیٹ کا ٹکٹ آفر کیا تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ میں نے کہا کہ یہ فخر کی نہیں شکر کی بات ہے۔ آپ بچ گئے اور پورے کاروباری ثابت ہوئے۔ انہوں نے آپ سے سیاست نہیں بلکہ کاروبار کرنا تھا۔ سینیٹ کی ایک سیٹ دے کر وہ پورے ملک میں پھیلے آپ کے ہوٹلوں کی ایک طرح سے ملکیت حاصل کر لیتے۔ انہیں مفت کے ہوٹل کمرے‘ قیام اور پارٹی فنکشنز کیلئے مستقل سہولتیں مل جاتیں۔ میرا جواب سن کر اُن کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔
میں نے جن وزرائے قانون کو بہت قریب سے دیکھا ہے ان میں ڈاکٹر بابر اعوان سرفہرست ہیں۔ میں انہیں ایک ذہین انسان مانتا ہوں‘ چاہے میں اور آپ ان کے خیالات سے متفق نہ ہوں۔ بہت سے وزرائے قانون آئے لیکن ان جیسا شاید ہی کوئی ہو۔ وہ ایک طاقتور وزیر تھے۔ بہت مشکل ہوتا ہے کہ کوئی شخص بیک وقت ذہین بھی ہو اور بہادر بھی‘ لیکن ان میں یہ دونوں خوبیاں موجود تھیں۔ یقینا ہر انسان کی طرح ان میں خامیاں بھی ہوں گی۔ ان کا دور بڑا مشکل تھا‘ جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور صدر آصف علی زرداری کے مابین براہِ راست محاذ آرائی چل رہی تھی اور اس جنگ میں ہراول دستے کا کردار بابر اعوان ادا کر رہے تھے۔ میں نے چیف جسٹس اور بابر اعوان کی اس لڑائی کو بہت قریب سے دیکھا۔ شاید ہی کسی اور وزیر قانون نے کسی چیف جسٹس کو اس جرأت اور ثابت قدمی کے ساتھ ٹف ٹائم دیا ہو‘ جیسے انہوں نے دیا۔ اس کا نتیجہ انہیں توہینِ عدالت کی کارروائی اور وکالت کا لائسنس معطل ہونے کی صورت میں بھگتنا پڑا‘ لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے۔
یہ سب باتیں مجھے اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ آج کل ٹیلی کام بل پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس معاملے میں یقینا وزارتِ قانون کا کردار بہت اہم ہے۔ بابر اعوان کی اپنی وزارت کی ایک ایک چیز اور ایک ایک شخص پر نظر ہوتی تھی کہ کون کیا اور کیوں کر رہا ہے‘ اور کہیں کوئی اپنا الگ کھیل تو نہیں کھیل رہا۔ اب سینیٹ میں ٹیلی کام بل پر شور مچنے کے بعد وزیراعظم نے گیارہ رکنی کمیٹی بنا دی ہے‘ لیکن اس کے ممبر وہی وزرا اور سیکرٹریز ہیں جنہوں نے یہ بل تیار کیا اور اسمبلی سے منظور بھی کرایا۔ مطلب جن کے خلاف انکوائری ہونی چاہیے وہی اپنے اوپر جج بھی بنا دیے گئے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس پورے معاملے میں بہت بڑی ذمہ داری وزارتِ قانون کی تھی۔ ہر وزارت کے پاس ایسے قابل لوگ نہیں ہوتے کہ وہ کوئی بل تیار کر سکیں۔ یہ کام وزارتِ قانون کے ڈرافٹس مین کرتے ہیں۔ اس بل نے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں۔ کیا وزارتِ قانون کے پاس اتنے اہل لوگ موجود ہیں کہ وہ کسی بھی بل کی زبان مناسب انداز میں لکھ سکیں؟ یا پھر کسی وزارت کی وارداتوں کو عوامی مفاد میں پکڑ سکیں؟ وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ بل کی زبان مناسب نہیں اور اسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی زبان کس نے لکھی اور اسے درست کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟ کیونکہ پہلے اسے وزارتِ آئی ٹی نے تیار کرایا‘ پھر وزارتِ قانون نے اسے قانونی زبان دے کر سمری تیار کی‘ پھر کابینہ سے منظوری لی گئی‘ پھر اسے اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ وہاں آئی ٹی کی قائمہ کمیٹی نے اسے منظور کیا‘ پھر اسمبلی نے بھی منظور کر دیا اور جب یہ سینیٹ میں پہنچا تو پتا چلا کہ کتنی بڑی واردات ہونے جا رہی ہے۔ اس سارے عمل کے دوران وزارتِ قانون کے افسران اور ڈرافٹس مین کو اس بل کی زبان اور اس کے پیچھے چھپے ارادوں کا اندازہ نہیں ہوا؟ حالانکہ انہیں لاکھوں روپے تنخواہ ملتی ہے اور وہ پچیس کروڑ لوگوں کی جائیدادیں ایک شعبے کی صوابدید پر چھوڑنے جا رہے تھے۔
اب وزیر قانون صحافیوں کو کہتے ہیں کہ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں‘ بس چند سینئر صحافیوں نے اسے ایشو بنا دیا۔ اندازہ کیجیے کہ ان کے نزدیک یہ کوئی بڑا مسئلہ ہی نہیں۔ اگر ایسا ہی تھا تو پھر بل کو سینیٹ میں کیوں روکا گیا؟ وزیراعظم نے گیارہ رکنی کمیٹی کیوں تشکیل دی؟ پورا ملک اس بل پر ششدر اور خوفزدہ ہے اور وزیر قانون فرما رہے ہیں کہ یہ سب چند سینئر صحافیوں کا پیدا کردہ معاملہ ہے‘ جن کے پاس شاید اور کوئی خبر نہیں تھی۔ ہمارے قابلِ احترام دوست ہارون الرشید اکثر لکھا کرتے تھے کہ قومیں غلطیوں سے نہیں غلطیوں پر اصرار اور ضدسے تباہ ہوتی ہیں۔

Back to top button