تاریخ یہاں کون سی پڑھائی جاتی ہے

تحریر: ایاز میر
بشکریہ: روزنامہ دنیا
اس تاریخ میں اتنا تو لکھنا چاہیے کہ پہلی جنگ عظیم میں ہندوستان سے تقریباً ساڑھے چھ لاکھ فوجی برطانوی سامراج کے جھنڈے تلے برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ اس تعداد میں سے بھاری اکثریت پنجاب سے تھی‘ ہندو‘ سکھ‘ ڈوگرے اور مسلمان۔ سبھی نے برطانوی وردی پہنی۔ کسی ہندوستانی لیڈر نے نہیں کہا کہ یہ تمہاری جنگ نہیں‘ تمہارا اس میں چلے جانا بنتا نہیں۔ کہتے بھی کیا جب تب کے لیڈروں میں بھاری اکثریت انگریز حاکمیت کی وفادار تھی۔ آزادی کی بات چلنے لگی تھی‘ پر بڑے دھیمے انداز میں۔ انگریز کے خلاف عَلم بغاوت کسی نے نہیں اٹھایا۔
حیرانی اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ پہلی جنگِ عظیم ہو گئی‘ ہندوستانیوں کی قربانیوں کو انگریز بھول گئے‘ جلیانوالہ باغ امرتسر میں نہتے ہندوستانیوں پر گولی چلتی ہے‘ سینکڑوں لوگ مارے جاتے ہیں اور پھر بھی انگریز سامراج کے خلاف جو وحدت پیدا ہونی چاہیے تھی وہ نہ ہو سکی۔ بادشاہی مسجد لاہور میں ایک احتجاجی اجتماع ہوا جس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل تھے لیکن وہ یگانگت کی روح زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکی اور آزادی کی موومنٹ جلد ہی ہندو مسلم تفرقے کا شکار ہو گئی۔ دنیا کی تاریخ میں تمام بڑے انقلاب بزورِ شمشیر اپنی منزل کو پہنچے۔ انگریز ہندوستان پر حکومت بزورِ شمشیر کر رہا تھا اور گاندھی جی کا پرچار تھا کہ جدوجہد پُرامن رہے اور تشدد کی طرف کبھی نہ جائے۔ یعنی انگریز جو تشدد کر رہا ہے وہ کرتا رہے اُس کے خلاف کوئی پتھر نہیں اٹھانا۔ یہی وجہ ہے کہ بھگت سنگھ جیسے چند دیوانے جو انقلابی جدوجہد کی بات کرتے تھے‘ کسی بڑے نیتا نے اُن کے فلسفے کی تائید نہ کی۔ اتنا بڑا ملک اتنی بڑی آبادی اور انقلاب کی چنگاری یہاں دہک نہ سکی۔
دہکتی بھی کیسے جب تاریخ اس سرزمین کی یہ تھی کہ چند ہزار برطانوی فوجی آئے اور وہ بھی ایک تاجر کمپنی‘ ایسٹ انڈیا کمپنی کے جھنڈے لہراتے اور آہستہ آہستہ وہ اتنے بڑے ملک پر قابض ہو جاتے ہیں۔ شروع دن سے انگریزوں کو اپنی ماتحتی اور نوکری کیلئے یہاں سے لوگ میسر ہوئے۔ کیا حال یہاں کا ہو گا‘ کیا ذہنی کیفیت ہو گی کہ چند روپوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت اختیار کرنے کیلئے یہاں کے لوگ تیار ہو جاتے تھے۔ نچلے درجے کے لوگ سپاہی ہو جاتے تھے اور اونچے درجے کے لوگ انگریزوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے۔ اُس وقت کی پوری تاریخ میں چند ہی نام نظر آتے ہیں جو انگریزوں کے خلاف کھڑے ہوئے۔ حیدر علی اور اُن کا بیٹا ٹیپو سلطان۔ یہ دونوں پہلے اور آخری ہندوستانی ہیں جو میدانِ جنگ میں انگریزوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ٹیپو سلطان آخر میں ہارتے ہیں تو صرف انگریز قوت کے سامنے نہیں بلکہ انگریزوں کو نظام دکن اور مرہٹوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ ایک بڑے مقصد کیلئے آپس میں اتحاد کرنا‘ یہاں کے باسی اور یہاں کے راجے مہاراجے یہ چیز کبھی نہ پا سکے۔ اور بتدریج پھر انگریز وسیع سرزمین کے بلاشرکتِ غیرے حکمران بن جاتے ہیں۔ ایسی شروعات ہوں تو کوئی عجوبہ نہیں کہ یہاں کے لاکھوں سپاہی پہلی جنگ عظیم میں انگریز سامراج کیلئے لڑے اور مرے۔ یہاں کی سوچ یوں دیکھئے کہ اب بھی بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ فلاں صوبیدار کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلا مسلمان تھا جس نے وکٹوریہ کراس حاصل کیا۔ ہمیں یہ بات عجیب لگتی ہی نہیں کہ کسی اور بادشاہ کے نام پر یہ اعزاز ملا۔
یہ بات بھی عجیب نہیں لگتی کہ گیلی پولی کمپین میں جب انگریز فوج ترکوں کے خلاف لڑنے گئی تو انگریز فوج کا ایک بہت بڑا حصہ ہندوستانیوں پر مشتمل تھا۔ ہندو اور سکھ تو کہہ سکتے ہیں کہ ترکوں کے ساتھ ہمارا کون سا بھائی چارہ تھا لیکن برطانوی فوج کے جو مسلمان سپاہی تھے ان کے ذہنوں میں یہ سوال نہ اٹھا کہ سامنے چوٹیوں پر ترک فوج مورچہ زن ہے اور ہم سنگینیں لگا کر پہاڑیوں پر چڑھ رہے ہیں؟ یہ بھی یاد رہے کہ اُس کمپین میں ترک فوج کی ایک ڈویژن کے کمانڈر مصطفی کمال تھے جنہوں نے بعد میں لقب اتا ترک کا پایا۔ میاں نواز شریف جب تیسری بار وزیراعظم تھے تو گیلی پولی کمپین کی ایک تقریب ہوئی جس میں حضور بھی شمولیت کیلئے پہنچ گئے‘ یہ سمجھے بغیر کہ وہاں اُن کی حاضری بنتی بھی ہے یا نہیں۔ کیا ہماری تاریخ کی کتابوں میں گیلی پولی کمپین کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے؟ ہمارے سکول اور کالجوں میں اتا ترک کے بارے میں کتنا بتایا جاتا ہے؟ بہت سے لوگ ہمارے ہاں اتا ترک پہ لعن طعن کرتے ہیں کہ وہ لادین یا اسلام مخالف تھا۔ یہ تو اتا ترک کا اعزاز ہے کہ میدانِ جنگ میں سرخرو رہا انگریزوں کے خلاف اور پھر پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر یونانیوں کے خلاف۔ نہیں تو پتا نہیں اُس کا حشر کیا ہوتا۔
بھگت سنگھ شہید کے بارے میں ہمارے ہاں اتنی ہچکچاہٹ کیوں ہے؟ چند ہی لوگ ہیں جو ان کا نام لیتے ہیں اور اُن کی یاد میں سال میں ایک دو بار کوئی چھوٹی موٹی تقریب کر لیتے ہیں۔ لیکن جس قسم کی جانکاری ہماری قوم میں بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔ کیمپ جیل لاہور میں بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں کو پھانسی لگی تھی۔ کیمپ جیل کے پاس ہی شادمان چوک ہے۔ کبھی کبھار کوئی آواز اٹھتی ہے کہ اِس چوک کو بھگت سنگھ کے نام سے منسوب کیا جائے لیکن فوراً ہی مخالف آوازیں اٹھتی ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کاش وہ دن آئے کہ اس چوک کو بھگت سنگھ شہید کے نام سے جانا جائے اور اس بات پر ہمارے لوگ فخر محسوس کریں۔
یہاں کی کتابوں میں اتنا تو بتایا جائے کہ جاپانی حملے کے سامنے بغیر کسی خاطر خواہ مزاحمت کے انگریزوں نے سنگاپور میں ہتھیار ڈال دیے۔ عددی تعداد انگریزوں کی زیادہ تھی جاپانیوں کی کم۔ ان محاذوں پر لڑائی کے دوران بہت سے ہندوستانی فوجی جاپانی قید میں گئے اور انہی ہندوستانی قیدیوں میں سے سبھاش چندر بوس کی انڈین نیشنل آرمی بنی۔ یعنی یہ ہندوستانی قیدی انگریز سامراج کے خلاف لڑنے کیلئے تیار ہو گئے۔ انڈین نیشنل آرمی کا نام آج بھی ہندوستان میں عزت سے لیا جاتا ہے۔ لیکن ہماری کتابوں میں کم ہی اس کا ذکر ملے گا‘ حالانکہ انڈین نیشنل آرمی میں بہت سے مسلمان افسر بھی تھے۔ انہی عوامل سے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کی پتا نہیں کون سی رجعت پسندانہ سوچ اور ذہنیت تھی۔
کچھ نہ کچھ ایسی سوچ ہو گی کہ پاکستان بننے کے چند ہی سال بعد کوئی امریکہ نواز ملٹری اتحاد نہیں بنا جس میں پاکستان شامل نہیں تھا۔ بغداد پیکٹ کے ہم ممبر‘ سینٹو کے ممبر‘ سیٹو کے ممبر۔ کچھ فوجی سازو سامان ملا‘ کھاریاں جیسی چھاؤنی بنی اور یہاں کے حکمران فخر کرتے رہے۔ اوّل مقابلہ تو غربت اور جہالت سے ہونا چاہیے تھا لیکن نئی اسلامی ریاست کا اوّل مقابلہ ہندوستان سے بنا۔شاید اس دشمنی کی ضرورت بھی تھی کیونکہ یہی جواز تھا امریکی کیمپ میں جانے کا۔ امریکی کیمپ میں ہم اس لیے گئے کہ ہندوستان کے خلاف ہمیں اسلحے کی ضرورت ہے۔ اس قسم کی ذہنی کھچڑی یہاں شروع دن سے پکتی آئی ہے۔
چین سے ہماری دوستی پہاڑوں سے اونچی اور سمندروں سے گہری ہے لیکن چینی انقلاب کے بارے میں ہم کتنا جانتے ہیں‘ کتنا کچھ اس انقلاب کے بارے میں ہماری درسگاہوں میں پڑھایا جاتا ہے؟ چینی انقلاب سے یہاں بس اتنی ہی واقفیت ہے کہ دس یا بیس کلومیٹر کا سیاسی سفر طے کرنا ہو تو اُسے لانگ مارچ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ کچھ نصاب کو وسعت ملے کچھ ذہنی وسعتوں پر بھی اللہ کی مہربانی ہو۔
