اچکزئی مفاہمتی سیاست چھوڑ کر مزاحمت کی راہ کیوں اختیار کرنے لگے؟

پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جس کے بعد اب وہ بھی مفاہمت اور مذاکرات کی بجائے زیادہ سخت مؤقف اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ پانچ ماہ قبل جب انہیں اپوزیشن لیڈر کے طور پر آگے لایا گیا تھا تو توقع کی جا رہی تھی کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے کا پل بنیں گے اور سیاسی کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کریں گے، تاہم حالیہ پارلیمانی اور سیاسی سرگرمیاں اس کے برعکس منظر پیش کر رہی ہیں۔ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں محمود خان اچکزئی نے حکومت کو "غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن کو احتجاج، جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ان کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جبکہ سپیکر کی جانب سے قومی اداروں پر تنقید سے گریز کی تنبیہ نے ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا۔ اپوزیشن نے اس اقدام کو اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔
سیاسی حلقوں کے مطابق اچکزئی کو بنیادی طور پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سامنے لایا گیا تھا۔ اس عمل کا سب سے اہم مقصد بانی پی ٹی آئی کے علاج، طبی سہولیات اور ذاتی معالجین تک رسائی جیسے معاملات کو حل کرنا تھا، تاہم احتجاجی تحریکوں اور دھرنوں کے باوجود ان مطالبات پر کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث پارٹی کے اندر بے چینی بڑھ رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ مذاکراتی حکمت عملی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔ پارٹی رہنما علی محمد خان نے بھی اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی دعوت موجود ہے اور اب محمود خان اچکزئی کو وہ مقصد حاصل کرنے کے لیے عملی پیش رفت دکھانا ہوگی جس کے لیے انہیں یہ ذمہ داری دی گئی تھی۔ اس حوالے سے پارٹی کے اندر سے مزید سخت آوازیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بعض رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکراتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے کردار اور اختیارات پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر مذاکرات اور احتجاج کی حکمت عملی پر اختلافات موجود ہیں اور قیادت پر نتائج دینے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید نے محمود خان اچکزئی کو ایک تجربہ کار اور جمہوری سوچ رکھنے والا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ ان کے اختیارات اور سیاسی سپورٹ کا ہے، نہ کہ ان کی صلاحیت کا۔ ان کے مطابق ریاست کسی دباؤ یا تصادم کے ذریعے فیصلے کرنے کے بجائے آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق معاملات آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر بانی پارٹی سے متعلق معاملات کو فوری طور پر حل کرنے کی خواہش بڑھ رہی ہے، جبکہ مذاکراتی عمل کی سست رفتاری نے قیادت پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں مذاکرات کے ذریعے کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو امکان ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے اندر بھی نئی صف بندیاں اور حکمت عملی میں تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
