ایران امن معاہدے سے امریکی کسانوں کے مالا مال ہونے کا امکان کیوں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا عبوری معاہدہ امریکی کسانوں اور زرعی شعبے کے لیے نمایاں مالی فوائد کا باعث بنے گا، تاہم ایرانی حکام نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق معاہدے کے تحت ایران کے بعض منجمد اثاثوں تک رسائی بحال کی جا سکتی ہے اور ان فنڈز کو امریکی زرعی مصنوعات، خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو مکئی، گندم، سویابین اور دیگر زرعی اجناس کی ضرورت ہے، جس سے امریکی کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔

دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ غیر منجمد ہونے والے اثاثوں کے استعمال کا اختیار صرف تہران کے پاس ہوگا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ زرعی مصنوعات کی خریداری قیمت اور معیار کی بنیاد پر ہوگی، نہ کہ کسی سیاسی شرط کے تحت۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جس جنگ کو ایران کو کمزور کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، اب اسے امریکی کسانوں کو فائدہ پہنچانے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

جنیوا میں ایران کے سفیر علی بحرینی نے بھی امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران خود فیصلہ کرے گا کہ غیر منجمد اثاثے کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، اس لیے یہ واضح نہیں کہ ایرانی فنڈز کے استعمال پر کس حد تک پابندیاں یا شرائط عائد کی جا سکیں گی۔ ماہرین کے مطابق ایران کی زرعی درآمدات کا بڑا حصہ برازیل، ترکیہ، بھارت، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا اور ارجنٹینا سے آتا ہے، اس لیے صرف امریکی مصنوعات کی خریداری کی شرط عملی طور پر پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔

ادھر امریکی محکمہ خزانہ نے محدود مدت کے لیے ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت کی اجازت دی ہے، تاہم جاری کیے گئے اعلامیے میں منجمد اثاثوں کے طریقہ کار یا ایسکرو اکاؤنٹس کی تفصیلات شامل نہیں تھیں۔سیاسی اور معاشی مبصرین کے مطابق معاہدے کے اقتصادی پہلوؤں پر واشنگٹن اور تہران کے بیانات میں نمایاں فرق مستقبل کے مذاکرات میں ایک اہم تنازع بن سکتا ہے۔

Back to top button