لیبیا کشتی حادثے میں ملوث برطرف FIAافسران نوکریوں پر واپس کیسے آئے؟

بحیرہ روم کی لہروں میں ڈوبنے والے پاکستانی نوجوانوں کی چیخیں ابھی تک ملک کے اجتماعی حافظے سے محو نہیں ہوئیں کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ لیبیا اور یونان کشتی سانحات کے بعد جن سرکاری اہلکاروں کو مبینہ سہولت کاری کے الزام میں نوکریوں سے برطرف کیا گیا تھا، انہی میں سے درجنوں اہلکاروں کی دوبارہ بحالی نے پورے احتسابی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایک طرف ریاست انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت مؤقف کا دعویٰ کر رہی ہے اور دوسری طرف اسی ادارے کے فیصلوں میں تضادات بحث کا مرکز بن چکے ہیں۔

یونان اور لیبیا کشتی حادثات نے پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا تھا، جن میں سینکڑوں نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی راستوں کے ذریعے یورپ جاتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان سانحات کے بعد ملک میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع ہوئیں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اندر بھی احتساب کا عمل تیز کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ بعض سرکاری اہلکار مبینہ طور پر ان نیٹ ورکس کو سہولت فراہم کرتے رہے ہیں، جس کے بعد متعدد اہلکاروں کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا اور کئی کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج ہوئے۔

سرکاری ریکارڈ اور رپورٹوں کے مطابق ان سانحات کے بعد مجموعی طور پر بڑی تعداد میں انکوائریاں مکمل کی گئیں، جن میں متعدد اہلکاروں کو مختلف سزائیں دی گئیں اور درجنوں کو ملازمت سے فارغ کیا گیا۔ قومی سطح پر یہ تاثر دیا گیا کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف زیرو برداشت کی پالیسی اپنائی گئی ہے اور ریاستی ادارے اس نیٹ ورک کے خلاف سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔

تاہم حالیہ انکشافات کے مطابق فیڈرل سروس ٹربیونل اسلام آباد نے چودہ اپریل دو ہزار چھبیس کو مختلف اپیلوں پر فیصلہ دیتے ہوئے ان برطرفیوں کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم تینتالیس اہلکاروں کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے کے دفتر سے جاری حکم نامے کے تحت ان اہلکاروں کو نہ صرف دوبارہ سروس میں شامل کیا گیا بلکہ انہیں تمام واجب الادا سروس فوائد بھی دینے کی منظوری دی گئی۔

بحال ہونے والوں میں مختلف رینکس کے اہلکار شامل ہیں جن میں سب انسپکٹر، اسسٹنٹ سب انسپکٹر، ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان اہلکاروں کی دوبارہ تعیناتی مختلف زونز اور سرکلز میں شروع کر دی گئی ہے اور بعض اہلکار عملی طور پر اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال چکے ہیں۔یہ صورتحال اس وقت مزید سوالات کو جنم دے رہی ہے جب پارلیمانی کمیٹیوں کو دی جانے والی بریفنگ میں سخت احتساب اور بڑی تعداد میں سزاؤں کا ذکر کیا گیا تھا۔ اب یہ تضاد سامنے آ رہا ہے کہ ایک طرف احتسابی کارروائیوں کو کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا اور دوسری طرف انہی فیصلوں کو قانونی سطح پر چیلنج کر کے کالعدم قرار دے دیا گیا۔

ناقدین کے بقول یہ تمام معاملہ صرف انتظامی یا قانونی تنازعہ نہیں بلکہ ایک بڑے انسانی بحران کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ لیبیا اور یونان کشتی حادثات میں جان گنوانے والے نوجوانوں کا تعلق ملک کے مختلف علاقوں سے تھا، جہاں سے انہیں بھاری رقوم کے عوض غیر قانونی راستوں پر بھیجا گیا۔ ان سانحات نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو تباہ کیا بلکہ ریاستی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھا دیے۔

ناقدین کے مطابق اگر برطرف کیے گئے اہلکار واقعی بے قصور تھے تو پھر ابتدائی سطح پر ان کے خلاف سخت کارروائیاں کیوں کی گئیں، اور اگر وہ ذمہ دار تھے تو ان کی بحالی کس بنیاد پر کی گئی۔ اس تضاد نے احتسابی نظام کی ساکھ کو متاثر کیا ہے اور اداروں کے اندر بھی بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔پارلیمانی حلقوں میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ اس فیصلے کے بعد انسانی اسمگلنگ کے خلاف جاری قومی مہم کی ساکھ پر کیا اثر پڑے گا۔ پاکستان پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کے حوالے سے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، اور ایسے میں یہ پیش رفت مزید سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ مبصرین کے بقول مجموعی طور پر یہ معاملہ صرف چند اہلکاروں کی بحالی کا نہیں بلکہ پورے نظام احتساب، ادارہ جاتی شفافیت اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف ریاستی بیانیے کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید وضاحتیں اور فیصلے اس کی سمت متعین کریں گے۔

Back to top button