وفاقی حکومت نے باجوڑ پر طالبان کا قبضہ کیسے ناکام بنایا ؟

 

 

 

گنڈاپور سرکار کی مخالفت کے باوجود وفاقی حکومت باجوڑ میں بروقت فوجی آپریشن کر کے طالبان کو پٹہ ڈالنے اور ان کی پیش قدمی روکنے میں کامیاب ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی مربوط کارروائیوں کے ذریعے اگر دہشتگردوں کو بالائی باجوڑ تک محدود نہ کیا جاتا تو آج شاید پورا صوبہ ان کے رحم و کرم پر ہوتا اور آج وہ خیبر پختونخوا پر قابض ہو چکے ہوتے۔

خیال رہے کہ صوبائی حکومت کی مخالفت کے باوجود خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کے لیے جاری ٹارگٹڈ فوجی آپریشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جس سے نہ صرف قبائلی اضلاع میں شدت پسندوں کو قابو میں رکھنے میں مدد ملی ہے بلکہ باجوڑ سمیت 9 مختلف اضلاع سے بھی دہشتگردوں کی صفائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو صوبے کے کم از کم 10 دیگر اضلاع کے لیے سنگین سیکیورٹی خطرات پیدا ہوسکتے تھے اور افغانستان سے متصل صوبے کی مجموعی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کے امکانات موجود تھے۔ اگر شدت پسندوں کو باجوڑ کے بالائی علاقوں میں محدود نہ کیا جاتا تو وہ خیبر پختونخوا پر قابض ہو جاتے۔

 

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق’’باجوڑ کا جغرافیہ ایسا ہے کہ اگر اسے کلیئر نہ کیا جاتا تو شدت پسند وادی سوات اور دیر تک اپنی رسائی بڑھا سکتے تھے۔ موجودہ آپریشن وقتی طور پر خطرہ ٹالنے میں کامیاب رہا ہے لیکن اس کی کامیابی کا اصل امتحان اس وقت ہوگا جب ان علاقوں میں پائیدار سویلین ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔تاہم بعض مبصرین کے بقول علاقے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے حوالے سے ریاست کی پالیسی ہمیشہ عسکری حل پر مرکوز رہی ہے لیکن جب تک مقامی آبادی کو روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتیں نہیں دی جاتیں، عسکریت پسندی کی جڑیں مکمل طور پر کاٹنا ناممکن ہے کیونکہ عسکریت پسند بے روزگار اور مایوس نوجوانوں کو مختلف طرح کے لالچ دے کر اپنا ہتھیار بنانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ درست ہے کہ دہشتگردوں کو وقتی طور پر پسپا کیا گیا ہے لیکن اصل خطرہ اس وقت دوبارہ جنم لیتا ہے جب یہ گروہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں جمع ہو کر دوبارہ کارروائی کرتے ہیں۔ ایک جامع بارڈر پالیسی کے بغیر دیرپا امن کے قیام کو خواب شرمندہ تعبیر ہونا آسان دکھائی نہیں دیتا۔

 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ بہت بڑے خطرے میں تھا اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے تھے، ٹارگٹڈ کارروائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شدت پسند علاقے چھوڑنے پر مجبور ہوئے تاہم اب بھی علاقوں سے بھاگنے والے دہشتگردوں کے سرحد کے قریبی علاقوں میں جمع ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق  سیکیورٹی فورسز نے 36 میں سے 11 علاقے کلیئر کر لیے ہیں اور عارضی طور پر بے گھر ہونے والے 3 ہزار سے زائد خاندان اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں بھی کلئیرنس کا عمل جاری ہے اور جلد بے گھر ہونے والے افراد کو اپنے گھروں میں جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

دہشت گردی کا جن بے قابو ہونے کا ذمہ دار عمران خان کیوں ہے ؟

حکام کا ماننا ہے کہ اگر موجودہ رفتار سے ٹارگٹڈ کارروائی جاری رہی تو بقیہ علاقے بھی جلد کلیئر ہو جائیں گے اور لوگ سردیوں سے قبل گھروں کو واپس جا سکیں گے،حکام کا ماننا ہے کہ باجوڑ میں جاری آپریشن دیگر عسکریت زدہ اضلاع کے لیے ایک ماڈل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ علاقہ وار ٹارگٹڈ فوجی آپریشن مقامی آبادی کو شامل کرکے کیا گیا ہے، آپریشن شروع کرنے سے قبل عوام کو کہا گیا تھا کہ شدت پسندوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کریں تاکہ ان کی جائیدادوں اور گھروں کو نقصان نہ پہنچے اور وہ بے گھر ہونے سے بچ سکیں۔انتظامیہ نے 30 جولائی کو مقامی عمائدین سے رابطے کا عمل شروع کیا، یہ مذاکرات 14 دن جاری رہے لیکن شدت پسندوں نے علاقے سے نکلنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد مقامی رہائشیوں نے ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے اپنے علاقے خالی کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی اور وہ رضا کارانہ طور پر اپنے گھر چھوڑ کر دیگر محفوظ علاقوں میں منتقل ہو گئے۔ جس کے بعد سیکورٹی اداروں نے مربوط آپریشنز میں متعدد دہشتگردوں کو نشان عبرت بنایا جبکہ باقی مانندہ شرپسند علاقے چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔

Back to top button