اسٹیبلشمنٹ کی گود میں پلی تحریک لبیک خونی بلا کیسے بنی؟

 

 

 

پاکستانی سیاست کے پیچیدہ منظرنامے میں تحریک لبیک کی کہانی ایک ایسے مذہبی شدت پسند پریشر گروپ کی ہے جسے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ریاستی سرپرستی میں پالا پوسا تا کہ جمہوری جدوجہد کرنے والی مین سٹریم سیاسی جماعتوں کو بوقت ضرورت دباؤ میں لایا جائے جا سکے۔ لیکن اس غلط پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ٹی ایل پی ایک خونی بلا بن کر اسی اسٹیبلشمنٹ اور ریاست کے لیے سب سے بڑا دردِ سر بن چکی ہے۔

 

تحریک لبیک پاکستان ریاست کے لیے اتنا بڑا چیلنج بن چکی ہے کہ ایک مرتبہ پھر اسے انتہا پسند تنظیم قرار دے کر پابندی لگانے پر غور ہو رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سربراہی میں ہونے والے ایک اعلی سطحی اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اس انتہا پسند جماعت کی قیادت کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا، جب کہ اسکی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔ جماعت کی جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے کیے جائیں گے، اور ان کے تمام اشتہارات، بینرز اور پوسٹرز پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹی ایل پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے جائیں گے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔

 

یاد رہے کہ اکتوبر 2021 میں عمران خان حکومت نے بھی تحریک لبیک کی جانب سے ریاستی رٹ چیلنج کیے جانے کے بعد اس پر پابندی عائد کر دی تھی، لیکن پھر ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں ایک ماہ بعد ہی نومبر 2021 میں پابندی ختم کر دی گئی۔ ٹی ایل پی کی بنیاد 2015 میں علامہ خادم حسین رضوی نے رکھی تھی، جو ایک سخت گیر مذہبی رہنما تھے۔ ان کی جماعت نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل پولیس گارڈ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد بریلوی مکتبہ فکر کے جذبات اکسا کر ناموسِ رسالت کے تحفظ کے نعرے کے تحت تیزی سے اثر و رسوخ حاصل کیا۔

 

آج کل کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی سرپرستی میں اسے پنجاب میں مسلم لیگ ن کے خلاف سیاسی توازن قائم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا کیونکہ پروجیکٹ عمران خان لانچ کیا جا چکا تھا، 2016 میں نواز شریف کے اقتدار کے آخری دنوں میں تحریک لبیک نے فیض آباد چوک پر جو دھرنا دیا تھا اسے ختم کرانے کے لیے معاہدے پر فیض حمید نے خود دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں تب کے وزیر قانون شاہد حامد کو استعفی دینا پڑا تھا۔ اس واقعے سے ریاست کی رٹ کمزور ہوئی اور تحریک کے لبیک کی رٹ قائم ہو گئی۔ اس دھرنے کے نتیجے میں ٹی ایل پی آئی ایس آئی کا ایک ایک ایسا طاقتور ہتھیار بن گئی جو عوامی احتجاج اور پرتشدد کارروائیوں سے کسی بھی وقت کسی بھی حکومت کو دباؤ میں لا سکتی تھی۔

 

تاہم جب فیض حمید اور جنرل باجوا کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں عمران خان کو برسر اقتدار لایا گیا تو تحریک لبیک ان کے گلے پڑ گئی۔ 2021 میں ٹی ایل پی نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملکیرے احتجاج شروع کیا تو درجنوں پولیس والے مارے گئے اور امن و امان شدید متاثر ہوا۔ رد عمل میں عمران حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگائی اور قیادت کو گرفتار کیا، لیکن یہ پابندی چند یفتے ہی برقرار رہ سکی کیونکہ اسکی سٹریٹ پاور کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ نومبر 2021 میں یہ پابندی اٹھا لی گئی۔

 

آج ٹی ایل پی نہ صرف پنجاب اسمبلی میں موجود ہے بلکہ اس کا اثر و رسوخ پنجاب کے شہری اور نیم شہری علاقوں میں بڑھ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریاست نے جس انتہا پسند گروپ کو وقتی فائدے کے لیے بنایا اور پالا پوسا، وہ اب ایک ایسی خونی بلا بن چکی ہے جسے قابو کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ تحریک لبیک کا سفر پاکستانی ریاست کی فیصلہ ساز فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک سبق ہے۔ اس نے جو زہریلا بیج بویا گیا، ابھی ویسی ہی زہریلی فصل کاٹنی پڑ رہی ہے، لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اس ’خون آشام بلا‘ کو قابو کر پائے گی یا اس کے ہاتھوں مزید تباہی کا شکار ہو گی؟

 

 

Back to top button