ریاستی دباؤ پاکستانی صحافت کو کیسے تباہ کر رہا ہے؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ریاستی دباؤ کے نتیجے میں مثبت رپورٹنگ کے نام پر حقائق کو مسخ کرتے ہوئے رہی سہی آزاد صحافت کا بھی جنازہ نکالا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت وقت اور ریاست کی ناکامیوں کے نتیجے میں ہونے والے انسانی جانوں کے ضیاع کو پس منظر میں دھکیل کر حکمرانوں کے بیانات اور دعوؤں کو نمایاں کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اصل مسائل جوں کے توں برقرار رہتے ہیں اور عوام کو سب اچھا ہے کا تاثر دیا جاتا ہے۔

 

حماد غزنوی نے اپنے سیاسی تجزیے میں کہا ہے کہ غیر جمہوری معاشروں میں رائج مثبت رپورٹنگ کے تصور کو اب پاکستان میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ انکا کہنا یے کہ ایسے ممالک میں میڈیا کا بنیادی کام حقائق سامنے لانے کے بجائے ریاست اور حکومت کی یقین ناکامیوں کو کامیابیوں کی صورت دینا ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال سے کیا کہ آخر مثبت رپورٹنگ کیا ہوتی ہے اور یہ کس طرح کام کرتی ہے۔ اس حوالے سے حماد غزنوی اپنے صحافی دوست احمد ولید کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انہوں نے 25 سال قبل مشرقِ وسطیٰ کے ایک ملک میں ایک اخبار میں کام کیا تھا۔ وطن واپسی پر جب ان سے وہاں کی آزادیٔ صحافت کے بارے میں پوچھا گیا تو احمد ولید نے بتایا کہ وہاں صرف وہی خبریں شائع کی جاتی ہیں جو مثبت ہوں۔ بادشاہ، شاہی خاندان، حکومت یا ریاستی اہلکاروں کے بارے میں کسی بھی قسم کی منفی خبر شائع نہیں کی جا سکتی۔

 

حماد غزنوی کے مطابق احمد ولید نے بتایا کہ حتیٰ کہ حادثات، جرائم اور انسانی جانوں کے ضیاع کی خبریں بھی اس انداز میں لکھی جاتی ہیں کہ وہ امید اور کامیابی کا تاثر دیں۔ کسی بھی ناکامی کو کامیابی اور کسی بھی شکست کو فتح بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ خبریں جھوٹی نہیں ہوتیں، بلکہ صرف اس قدر مثبت بنا دی جاتی ہیں کہ ان کا اصل اثر ختم ہو جاتا ہے۔

اس بات کو واضح کرنے کے لیے احمد ولید نے ایک مثال پیش کی۔ ایک واقعے میں ایک دکان میں آگ لگنے سے کروڑوں روپے کا سامان جل کر راکھ ہو گیا۔ ابتدائی طور پر یہی خبر دی گئی، تاہم میڈیا آزادی کی حدود کے باعث آگ لگنے کی وجوہات، فائر بریگیڈ کے پہنچنے میں تاخیر، عملے کی کارکردگی یا مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ جیسے نکات شامل نہیں کیے گئے۔ کچھ دیر بعد محکمۂ اطلاعات کے ایک افسر نے خبر ہی تبدیل کر دی اور ایک سرکاری بیان دے دیا گیا جس کی سرخی تھی کہ فائر بریگیڈ کے عملے نے فرض شناسی اور مستعدی کی ایک شاندار مثال قائم کی۔ بعد ازاں ان افسروں کو تمغے اور اسناد بھی دی گئیں۔

 

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ تب صحافی اس بات پر مسکراتے تھے کہ پاکستان میں اس کے مقابلے میں صحافتی آزادی کہیں زیادہ ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔

وہ مثال دیتے ہیں کہ کراچی کے گل پلازہ میں آتش زدگی کے ایک ہفتے بعد لاہور کے ایک ہوٹل میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ کراچی کے واقعے پر تو میڈیا نے سندھ حکومت کے بخیے ادھیڑ دیے لیکن لاہور کے ہوٹل میں آتش زدگی کی مثبت رپورٹنگ کی گئی تاکہ وزیر اعلی مریم نواز کو شکایت نہ ہو۔ اس واقعے کے بعد میڈیا کی سرخیاں یوں تھیں کہ گلبرگ کے ہوٹل میں آگ لگنے کے فوری بعد کارروائی، 180 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔ خبروں میں بتایا گیا کہ ریسکیو ٹیم نے منٹوں میں رسپانس دیا، وزیر اعلیٰ کی رہنمائی میں بروقت اقدامات کیے گئے اور صوبہ ایک بڑے سانحے سے بچ گیا، اس بات پر کسی نے فوکس نہیں کیا کہ اس آتش زدگی میں تین افراد جان کی بازی ہار گئے اور سات جھلس کر زخمی ہوئے۔

 

حماد غزنوی کے مطابق یہی مثبت رپورٹنگ ہے، جہاں توجہ اصل نقصان کے بجائے حکومت کے ردعمل پر مرکوز رہتی ہے۔

اسی طرح وہ بھاٹی گیٹ کے علاقے میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کا ذکر کرتے ہیں جہاں ایک ماں اور بیٹی کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گئیں۔ اس سانحے پر میڈیا کی سرخیاں وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے سخت ایکشن، افسران کی گرفتاری، نوکریوں سے برطرفی اور ٹھیکیدار کو ایک کروڑ روپے معاوضہ ادا کرنے کے احکامات پر مرکوز رہیں، جبکہ خبر میں حکومتی غفلت کی وجہ سے جاں بحق ہونے والی معصوم بچی اور اس کی والدہ کا ذکر تک نہیں تھا۔ ابتدا میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے تو یہ دعوی بھی کیا کہ ماں اور بیٹی کے گٹر میں گرنے کی خبر فیک نیوز ہے۔ بعد میں ماں اور معصوم بچی کی تصاویر دکھانے سے بھی گریز کیا گیا اور اس حادثے کو مریم نواز کی مثبت پروجیکشن کے لیے استعمال کیا گیا۔

پی ٹی آئی عمران کی فوج مخالف پالیسی سے پیچھے ہٹنے لگی

حماد غزنوی کے مطابق ایسی مثبت رپورٹنگ کا مقصد عوام کے جذبات کو ابھرنے سے روکنا اور یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ حکومت خود غصے اور سوگ میں ہے، سب کچھ کنٹرول میں ہے اور اب آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے۔ اب کھلے مین ہول نہیں ہوں گے اور اب ہر جگہ سٹریٹ لائٹس ہوں گی جیسے وعدے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات کی کوریج کو بھی اسی تناظر میں بیان کیا۔ مثال کے طور پر بلوچستان میں حملوں کی خبروں میں سرخیاں یہ لگائی جاتی ہیں کہ نو شہروں میں حملے ناکام بنا دیے گئے اور درجنوں دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جبکہ خبر کی تفصیلات میں معلوم ہوتا ہے کہ درجنوں سکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے، افسران مارے یا اغواء ہوئے، جیل توڑ دی گئی، قیدی رہا ہو گئے، بینک اور سرکاری عمارتیں جلائی گئیں اور بازاروں کو نقصان پہنچا۔ حماد غزنوی کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور مشکل جنگ جاری ہے، جس کی حساسیت سے انکار ممکن نہیں، لیکن مثبت رپورٹنگ کسی بھی سنگین مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی۔

Back to top button