آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت کوکتنے کھرب ڈالر کا ٹیکا لگا؟

ایران امریکہ جنگ کے دوران دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کا کباڑہ نکال دیا ہے۔ خلیج سے دنیا بھر تک تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل میں رکاوٹ نے نہ صرف توانائی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا بلکہ عالمی تجارت، سپلائی چین اور مالیاتی استحکام کو بھی شدید متاثر کیا۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ بندی اور نئے امن معاہدے کے بعد اس آبی راستے کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے، لیکن اس بحران کے معاشی اور جغرافیائی اثرات آنے والے کئی برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی شہ رگ کہا جاتا ہے، کیونکہ دنیا کی مجموعی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی اور فوجی تنازع کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ کی مختلف وقفوں میں بندش نے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا۔معاشی تجزیوں کے مطابق تقریباً 34 روز تک جاری رہنے والی اس بندش کے نتیجے میں عالمی سطح پر کھربوں ڈالر کے معاشی نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر توانائی کی منڈیاں ہوئیں، جہاں خام تیل اور ایل این جی کی ترسیل میں رکاوٹ نے قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی تقریباً 34 روزہ بندش نے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا، جس کے نتیجے میں مجموعی معاشی نقصان کا تخمینہ 3 کھرب 57 ارب ڈالر یعنی 3.57 ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق 108 دنوں پر محیط جنگی صورتحال کے دوران یہ اہم آبی گزرگاہ مختلف وقفوں میں بند رہی، جس سے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی کے اندازوں کے مطابق اس بحران کے دوران روزانہ اوسطاً 2 ارب ڈالر کا براہِ راست معاشی نقصان ریکارڈ کیا گیا، جبکہ صرف خلیجی ممالک کو 68 ارب ڈالر سے زائد کا مالی جھٹکا برداشت کرنا پڑا۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل اور 20 فیصد ایل این جی (LNG) کی ترسیل ہوتی ہے، تاہم بندش کے باعث روزانہ 15.8 ملین بیرل تیل عالمی منڈی تک نہ پہنچ سکا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت میں فی بیرل 35 ڈالر تک اضافی پریمیم دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب قطر کی ایل این جی برآمدات بھی تقریباً مکمل طور پر معطل رہیں، جس نے توانائی کی عالمی منڈی میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا۔ اس بحران کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہوئی، سپلائی چین متاثر ہوئی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور ترقی پذیر ممالک کی کرنسیاں دباؤ کا شکار ہوئیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق انہی عوامل کے باعث 2025 میں عالمی تجارتی نمو کی 4.7 فیصد شرح کم ہو کر 2026 میں صرف 1.5 سے 2.5 فیصد کے درمیان رہ گئی، جو عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین انتباہ تصور کی جا رہی ہے۔

اس تنازع کے فوجی اور مالی اثرات بھی نمایاں رہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ کو فوجی کارروائیوں، دفاعی تنصیبات کی بحالی اور لاجسٹک اخراجات کی مد میں 25 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔ خطے میں موجود 20 امریکی فوجی اڈے مختلف حملوں سے متاثر ہوئے، جبکہ 228 فوجی اہداف کو نقصان پہنچا۔ اس دوران 13 امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً 290 زخمی ہوئے، جبکہ 42 جدید طیاروں اور ڈرونز کی تباہی سے 2.6 ارب ڈالر کا اضافی نقصان ہوا۔ مجموعی طور پر صرف فوجی تنصیبات اور فضائی اثاثوں کی تباہی کا تخمینہ 3.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ امن معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، تاہم خطے میں جاری سیاسی کشیدگی اور سلامتی کے خدشات کے باعث عالمی منڈیاں اب بھی غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہیں، اور حقیقی و پائیدار امن کے قیام تک عالمی معیشت پر اس بحران کے اثرات برقرار رہنے کا خدشہ موجود ہے۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافی دباؤ پیدا ہوا، جبکہ قدرتی گیس درآمد کرنے والے ممالک کو بھی متبادل ذرائع تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ قطر سمیت خلیجی ممالک کی برآمدات متاثر ہونے سے عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔

اس بحران کے اثرات صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہے۔ دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر اضافی مالی دباؤ جیسے مسائل بھی شدت اختیار کر گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں کی رفتار میں کمی نے عالمی اقتصادی نمو کی شرح کو بھی متاثر کیا۔

خلیجی ممالک کو براہِ راست مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ ان کی معیشتوں کا ایک بڑا حصہ توانائی کی برآمدات سے وابستہ ہے۔ دوسری جانب درآمد کنندہ ممالک کو مہنگی توانائی خریدنے اور متبادل سپلائی لائنز کے انتظام کے باعث اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔

علاقائی تنازع میں شامل بڑی طاقتوں کو بھی فوجی اور لاجسٹک نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ خطے میں فوجی تنصیبات، دفاعی سازوسامان اور بحری سرگرمیوں پر بڑھتے ہوئے اخراجات نے مجموعی مالی بوجھ میں اضافہ کیا۔

اگرچہ حالیہ امن کوششوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ خطے میں موجود سیاسی اور سکیورٹی خدشات اب بھی برقرار ہیں۔ بعض فریقوں کی جانب سے معاہدے کی مخصوص شقوں پر تحفظات اور ممکنہ عسکری اقدامات کے اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی۔

عالمی مبصرین کے مطابق موجودہ معاہدہ مستقل امن کا ضامن نہیں بلکہ کشیدگی میں عارضی کمی کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی تنازعات جیسے بنیادی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔اس تمام صورتحال نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو یہ احساس دلایا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اس کی بندش کے اثرات چند ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا بھر کے صارفین، صنعتوں اور مالیاتی اداروں کو متاثر کرتے ہیں۔ ماہرین کے بقول آنے والے دنوں میں عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ خطے میں پائیدار استحکام کو یقینی بنایا جائے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی مستقبل میں ایسے بحرانوں سے محفوظ رہ سکے۔

Back to top button