فٹ بال ٹیم کی آڑ میں انسانی سمگلنگ کرنے والا گینگ پکڑا گیا

 

 

 

انسانی سمگلرز نے زمینی راستوں پر سختی اور سمندری راستوں پر جان جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد نیا طریقہ واردات اپناتے ہوئے اب لوگوں کو جعلی دستاویزات پر بیرون ممالک بھجوانا شروع کر دیا ہے۔  جاپان میں پکڑے جانے والی 22رکنی فٹبال ٹیم نے جعلی دستاویزات اور فرضی شناختوں کے ذریعے افراد کو قانونی پردے میں بیرونِ ملک بھیجنے کے سکینڈل کو بے نقاب کر دیا ہے،تاہم ناقدین کے مطابق جعلی فٹبال ٹیم کا پاکستان سے جاپان پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جعل ساز، ریاستی اداروں کے کرپٹ اہلکاروں سے مل کر انسانی سمگلنگ کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس واقعے نے نہ صرف پاکستان کی سفارتی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ ملک میں کھیل، شناخت، اور قانونی نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسانی سمگلر نے پاکستان سے 22 رکنی فٹبال ٹیم جاپان بھیجنے کی جعل سازی کیسے کی؟ اور پاکستان سے جانے والے 22 ’فٹبالر‘ جاپان کے ائیرپورٹ پر کیسے پکڑے گئے؟

 

 

اس کیس میں درج ایف آئی آر کے مطابق تمام 22 لڑکوں کو سپورٹس یونیفارم میں سفر کروایا گیا اور ان کو سفر کروانے سے پہلے فٹبال کی بنیادی تربیت بھی دی گئی تھی۔ مبینہ انسانی سمگلر نے جاپان بھجوانے کے عوض تمام 22 لڑکوں سے فی کس 40 لاکھ روپے وصول کیے، جو مجموعی طور پر آٹھ کروڑ 80 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ اس حوالے سے جاری ایف آئی اے کی انکوائری میں یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ مبینہ ایجنٹ نے ’گولڈن فٹبال ٹرائل‘ کے نام سے جعلی کلب بنا رکھا تھا اور اس کلب کا پاکستان فٹبال فیڈریشن کے ساتھ الحاق کا بھی جعلی لیٹر موجود تھا، جس کے بعد تمام لڑکوں کو فٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں کی طرح تربیت دی گئی تھی اور جعلی دستاویزات کی بنیاد پر جاپان کی ایمبیسی سے لڑکوں کے ویزے لگوائے گئے تھے۔تاہم جو لڑکے ڈی پورٹ ہوئے ان کا فٹبال کے کھیل سے کسی طرح کوئی تعلق نہ تھا۔

 

ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے فٹ بال فیڈریشن کی جعلی رجسٹریشن دستاویزات بنائیں۔ جعلی دستاویزات کے مطابق ملزمان کے جاپان میں فٹبال میچز شیڈول تھے، ملزم نے پاکستانی وزارت خارجہ کے جعلی کاغذات بھی تیار کروائے۔ ان تمام افراد کے پاکستان واپس پہنچنے کے بعد جب ایف آئی اے نے پاکستان فٹبال فیڈریشن سے گولڈن فٹبال ٹرائل کے الحاق کے لیٹر کی تصدیق کی تو پاکستان فٹبال فیڈریشن نے اس کلب کے ساتھ الحاق سے انکار کیا اور آگاہ کیا کہ اس ضمن میں پیش کیے جانے والا لیٹر جعلی ہے۔ بعدازاں ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم نے جب اُس ٹریول ایجنسی کے مالک سے رابطہ قائم کیا جہاں سے جاپان جانے کےلیے تمام 22 افراد کی ٹکٹیں خریدی گئی تھیں تو انھوں نے بتایا کہ ان تمام لڑکوں کے لیے ٹکٹیں اس مقدمے میں نامزد مبینہ انسانی سمگلر ملک وقاص نے ہی خریدی تھیں اور اس کے عوض ادائیگی بھی اسی ایک شخص نے کی تھی۔

 

دوران تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گوجرانوالہ سے فٹ بال ٹیم کے روپ میں انسانی سمگلنگ کا یہ واقعہ پہلا نہیں ہے بلکہ یہی ایجنٹ اس سے پہلے بھی ایک کامیاب کارروائی کر چکا ہے۔ ایف آئی اے  کے مطابق ملزم نے جنوری 2024 میں بھی17 نوجوانوں کو جعلی فٹبال ٹیم کا رُکن ظاہر کر کے جاپان بھجوا چکا ہے، جس میں ویزا حصول کے لیے پاکستان فٹبال فیڈریشن کا جعلی لیٹر اور وزارتِ خارجہ کا جعلی این او سی استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم یہ معلومات ابھی سامنے آئی ہیں۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے نوجوان جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانےوالے فراڈ کی زد میں کیسے آرہے ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت، بے روزگاری اور تیز تر معاشی بہتری کی خواہش اکثر نوجوانوں کو ایسے راستوں کی طرف دھکیل دیتی ہے جہاں جعلی کاغذات، جعلی ادارہ جاتی شناختیں اور غیر قانونی راستے ’شارٹ کٹ‘ کے طور پر بیچے جاتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق انسانی سمگلرز نے زمینی راستوں پر سختی اور سمندری راستوں پر جان جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد نیا طریقہ واردات تلاش کر لیا ہے جس کے تحت اب لوگوں کو جعلی دستاویزات پر بیرون ممالک بھجوایا جانے لگا ہے۔ گذشتہ دو سال میں کشتی الٹنے کے متعدد واقعات میں وسطی پنجاب کے سینکڑوں لڑکے جانیں گنوا بیٹھے ہیں اور سرکاری اداروں نے بھی اس سلسلے میں کافی پکڑ دھکڑ کی، شاید یہی وجہ ہے کہ جعلی دستاویزات پر بیرون ملک بھجوانے کا کام مزید تیز ہو گیا۔

Back to top button