شہبازحکومت امیروں کاٹیکس احتساب کرنےسےپیچھے کیوں ہٹ گئی؟

پاکستان میں ٹیکس اصلاحات کا نعرہ ہر حکومت کے منشور میں شامل ہوتا ہے، مگر جب بھی احتساب کا دائرہ بااثر تاجروں اور سرمایہ کاروں تک پہنچتا ہے، تو حکومت کی ہوا نکل جاتی ہے اور ٹیکس اصلاحات بارے ریاستی عزم کمزور پڑنے لگتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل شہباز شریف کے دور اقتدار میں حکومت کو ایک بار پھر ٹیکس اصلاحات کا مروڑ اٹھا اور ایف بی آر نے ٹیکس چوری کے خلاف ملک گیر آپریشن کا اعلان کر دیا تاہم جیسے ہی زور و شور سےکارروئیاں شروع ہوئیں تو تاجروں نے زیادتی کا واویلا مچانا شروع کر دیا۔بعدازاں تاجروں کے احتجاج، ملاقاتوں، اور سیاسی مداخلت کے بعد یہ سلسلہ ایک بار پھر رک گیا۔ نہ صرف ایف بی آر کے افسران کو کارروائیوں سے روک دیا گیا بلکہ ان کے اختیارات بھی محدود کر دئیے گئے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ایف بی آر کو قانونی اختیار دے کر، پھر انہی اختیارات کو ضوابط کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہو۔ اس سے پہلے بھی جیسے ہی حکومت ٹیکس چوری کی روک تھام کیلئے کوئی اقدامات اٹھاتی ہے،تاجر نمائندے پہلے شور مچاتے ہیں، پھرحکام بالا سے ملاقاتیں کرتے ہیں، اور بالآخر قوانین میں نرمی کرا لیتے ہیں۔ جس سے ایف بی آر افسران کے اختیارات محدود، ان کی عزت مجروح، اور ٹیکس نظام کی ساکھ مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ ناقدین کے مطابق حکومت کے اس دہرے معیار اور سیاسی لچک نے پاکستان میں ٹیکس نظام کو ایک ایسا مذاق بنا دیا ہے، جسے اب کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔

مبصرین کے مطابق رواں مالی سال کے دوران جب حکومت نے ایف بی آر کو ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے گرفتاریوں اور تیزتر تادیبی کارروائیوں کے اختیارات دئیےتو ابتدا میں لگتا تھا کہ واقعی اس بار حکومت کچھ مختلف کرے گی۔ قانون میں تبدیلی کے بعد بڑے شہروں میں چھاپے مارے گئے، چند گرفتاریاں بھی ہوئیں، اور یہ تاثر دیا گیا کہ اب ٹیکس چوروں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہو گی۔ مگر جلد ہی کاروباری حلقوں نے احتجاجی جلسے، مارکیٹ بندش، اور حکومت سے مذاکرات کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کیا، جس کے بعد ایف بی آر کو نئی ہدایات جاری کی گئیں، اور کارروائیاں پیچیدہ منظوریوں سے مشروط کر دی گئیں۔ جس کے بعد اب ایف بی آر افسران بھی دفاتر میں بیٹھے سب اچھا کی رپورٹس بھجواتے مزے کرتے نظر آتے ہیں۔

تاجروں کے دباؤ کے تحت سامنے آنے والی حکومتی ہدایات کی روشنی میں کسی بھی ٹیکس دہندہ کی گرفتاری کے لیے کم از کم تین سطحوں پر منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ کسی بھی ٹیکس دہندہ کی گرفتاری کا عمل شروع کرنے سے قبل کمشنر کی تحریری اجازت ضروری قرار دی گئی ہے، جس کے بغیر انکوائری شروع ہی نہیں کی جا سکتی۔ اس کے علاوہ، تحقیقات سے قبل ملزم کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کا ناانصافی نہ ہو۔ مزید برآں، گرفتاری کے لیے تین رکنی ایف بی آر کمیٹی کی منظوری کے علاوہ نئے حکمنامے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ کسی بھی ٹیکس نادہندہ کی گرفتاری صرف ان کیسز میں ممکن ہے جن میں ٹیکس فراڈ کی مالیت 50 ملین روپے سے زائد ہو۔ یہ تمام شرائط بظاہر شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کروائی گئی ہیں، مگر حقیقت میں ان شرائط نے ایف بی آر کے تفتیشی افسران کو تقریباً بے اختیار بنا دیا ہے۔

جاپان جانے والے 22 جعلی فٹ بال کھلاڑی کیسے پکڑے گئے؟

ناقدین کے مطابق اگر ہر بار دباؤ کے تحت قانون نرم کر دیا جائے، تو پھر ریاستی اداروں کی ساکھ کہاں باقی رہ جاتی ہے؟ ایک طرف ایف بی آر افسران کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کریں، جعلی انوائسز اور فراڈ روکیں مگر دوسری طرف جب بھی وہ حرکت میں آتے ہیں، سیاسی دباؤ سے ان کے ہاتھ باندھ دیے جاتے ہیں۔یہ "دوہری حکمت عملی” اور دوغلا پن صرف افسران کی حوصلہ شکنی ہی نہیں کرتا، بلکہ ادارے کے وقار کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اربوں روپے کا ٹیکس فراڈ رپورٹ ہونے کے باوجود عملی کارروائیاں نتیجہ خیز نہیں ہوتیں۔ مبصرین کے مطابق پاکستان میں ٹیکس نظام کی ناکامی صرف قوانین کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاست کی کمزوری، طاقتور طبقات کی مزاحمت، اور بیوروکریسی کی بے بسی کا مجموعی نتیجہ ہے۔جب تک ٹیکس قانون سب پر یکساں اور مسلسل نافذ نہیں ہوگا، پاکستان کی ٹیکس نیٹ میں توسیع صرف بجٹ تقریروں تک محدود رہے گی۔حکومت ٹیکس اصلاحات چاہتی ہے، تو اسے قانون کی بالا دستی پر سمجھوتہ بند کرنا ہوگا ورنہ طاقتور حلقے ملکی قوانین کو اپنے پاؤں تلے روندتے رہیں گے اور معیشت کبھی خود کفیل نہیں ہو سکے گی۔

Back to top button