اگر میری دھمکی نے کام نہ کیا تو میں پاؤں پڑ جاؤں گا

ہر طرف سے مشکلات میں گھرے ہوئے کپتان نے کہا ہے کہ میں نے خطرناک ہو جانے کی دھمکی ان لوگوں کو ڈرانے کے لیے دی تھی جو میری حکومت کے خلاف سازش کر رہے ہیں لیکن اگر وہ پھر بھی خوفزدہ نہ ہوئے اور ڈٹ گئے تو میں انکے پاوں پڑ کر انہیں منا لوں گا۔

اس عزم کا اظہار کپتان نے اپنی ایک تخیلاتی تقریر میں کیا ہے جو کہ سینئر صحافی سلیم صافی نے اپنی تحریر میں پیش کی ہے۔ بقول سلیم صافی، کپتان اپنی تقریر میں قوم سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں: میرے پاکستانیو!
حالانکہ میں ریاستِ مدینہ بنانے میں مصروف ہوں لیکن پھر بھی کچھ لوگ مجھے فارغ کرنے کی سازش میں لگے ہیں۔ مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ میری کشتی سے لوگ کیوں چھلانگیں رہے ہیں۔ میں جان گیا ہوں کہ مجھے رخصت کیا جارہا ہے لیکن میں ایسا کرنے والوں کو خبردار کرتا ہوں کہ حکومت سے نکل کر میں اور بھی زیادہ خطرناک ہو جائوں گا۔

لیکن میرے پاکستانیو! یہ صرف دھمکی ہے۔ جو لوگ مجھے قریب سے جانتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ میں ایسا کچھ نہیں کرسکوں گا۔ ایک وجہ تو یہ کہ اتنا تو میں بھی جانتا ہوں کہ جن کو میں نے دھمکی دی ہے، اگر انکے بارے میں زبان کھول دی تو پھر وہ بہت بری طرح سے سزا دیتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ وہ لوگ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کے پاس مجھ سے متعلق مواد کے انبار پڑے ہیں۔

تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ وہ لوگ ناراض یو کر جیل میں بھی ڈال دیتے ہیں۔ ایسے میں ایک آزاد منش انسان ہونے کے ناطے میں مشقت تو کرسکتا ہوں لیکن جیل نہیں جاسکتا۔ کچھ لوگوں نے میری دھمکی کو یوں ہی سنجیدہ لے لیا ہے ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں ان کے بارے میں وہ سب کچھ کہہ دوں جو کہ صرف میں جانتا ہوں۔

سلیم صافی کے بقول اپنے تخیلاتی خطاب میں کپتان نے کہا کہ میں نے تو ویسے ہی ان لوگوں کو دھمکی لگائی تھی کہ شاید وہ ڈر جائیں لیکن اگر وہ نہ ڈریں تو پھر میں ان کے قدموں میں بیٹھ کر انہیں راضی کرلوں گا۔ آپ لوگ فکر نہ کریں۔ مجھے اس کام کا خوب تجربہ ہوچکا ہے۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ دھمکی دے کر اور چھیڑخانی کرکے پھر منت ترلہ کرکے ان کو منا چکا ہوں۔

کپتان مزید فرماتے ہیں، میرے پاکستانیو، بطور حکمران میں نے آپ کو ایک ایسی ٹیم دی جس پر میرے سوا آپ سب شرما رہے ہیں۔ میں نے پنجاب میں آپ کو عثمان بزدار اور خیبر پختونخو میں بزدار پلس دیا۔ بلوچستان میں نے جام کمال کے سپرد کیا۔ ان سب کی یہ خوبی ہے کہ وہ میرے یا میرے پرنسپل سیکرٹری کے اشاروں پر چلتے ہیں اور ماشااللہ ہر ایک نے اپنے اپنے صوبے کا بیڑہ غرق کردیا۔ میں نے ”ان لوگوں“ سے دونوں بھائی مانگے تھے لیکن زبیر عمر نہیں مانے اور انہوں نے مجھے اسد عمر تھما دیا۔ اسد نے مجھے باور کرایا تھا کہ وہ معیشت کے ماہر ہیں۔

مجھے سو دن کا پلان دیا تھا اور یہ یقین دلایا تھا کہ سو دن کے اندر اندر پاکستانی معیشت ٹھیک کر دیں گے لیکن بعد میں مجھے پتہ چلا کہ وہ معیشت کے الف ب سے بھی واقف نہیں بلکہ مارکیٹنگ کے آدمی ہیں اور مارکیٹنگ بھی اپنی پروڈکٹ کی نہیں بلکہ صرف اپنی ذات کی کرسکتے ہیں لیکن میں انہیں وزیر خزانہ بنا کر پھنس چکا تھا۔

چنانچہ انہوں نے معیشت کی تباہی کی ایسی بنیادیں رکھ دیں کہ میں تین وزیرخزانہ تبدیل کرکے بھی اسے ٹریک پر نہیں لاسکا۔ لہذا اب ہم نے سب کچھ آئی ایم ایف کے حوالے کردیا ہے اور یہ جو ہر پندرہ دن بعد آپ پر مہنگائی کا بم گراتے ہیں تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ جو کچھ کرتا ہے وہ آئی ایم ایف ہی کرتا ہے۔

فراغت کے بعد شہزاد اکبر کا بیرون ملک نکل جانے کا امکان

میرے پاکستانیو! میں نے آپ سے احتساب کا وعدہ کیا تھا لیکن ظاہر ہے اپنا یا پھر زلفی بخاری جیسے اپنے چہیتوں کا تو میں احتساب نہیں کرسکتا تھا تاہم چونکہ احتساب تو کرنا ہی تھا، اس لیے میں نے اپوزیشن والوں، فواد حسن فواد جیسے بیوروکریٹس اور کچھ میڈیا پرسنز کو ان سے پکڑوا اور ذلیل کروادیا۔ اس میں بھی چیئرمین نیب اگر مگر کررہے تھے لیکن شکر ہے کہ ان کا کچھ آڈیو وڈیو مواد میرے ہاتھ آگیا، جس سے بلیک میل کروا کر میں ان سے کام چلا رہا ہوں ورنہ وہ تو شاید الٹا میرے بندوں کو اندر کردیتا۔

میرے پاکستانیو! میں نے حکمران بننے کے لیے ”بھائی لوگوں“ سے الیکٹ ایبلز مانگے تھے۔ اللہ گواہ ہے کہ شاہ محمود قریشی مجھے زہر لگتے ہیں اور میں ان کو، لیکن ”بھائی لوگوں“ نے مجھے ایک طرف وہ تھما دیا اور دوسری طرف جہانگیر ترین۔ ”بھائی لوگوں“ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ میری حکومت میں انہیں وزیراعلیٰ بنائیں گے لیکن الیکشن کے دوران صوبائی انتخابات میں ان کو ایک آزاد امیدوار سلمان نعیم نے شکست دے دی جبکہ وہ کہتا ہے کہ میری وزارتِ اعلیٰ کا خواب جہانگیر ترین نے پورا نہیں ہونے دیا۔ میں نے انہیں وزیرخارجہ بنا دیا لیکن وہ اس سے خوش ہیں نہ مطمئن۔

چنانچہ میرے پاکستانیو، روزانہ جان بوجھ کر کبھی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بگاڑتے ہیں، کبھی کسی دوسرے ملک کے ساتھ۔ ہم دونوں چونکہ بادل ناخواستہ ایک دوسرے کو برداشت کررہے ہیں، اس لیے مل بیٹھ کر کوئی جامع خارجہ پالیسی نہیں بناسکے۔ اب امریکہ بھی ہم سے ناراض ہے اور چین بھی غیرمطمئن۔ سی پیک پر کام رکوانے اور اس کا حلیہ بگاڑنے میں بھی میرا ذاتی قصور نہیں۔

چینیوں کو یا تو اسد عمر نے ناراض کیا، رزاق دائود نے یا خسرو بختیار نے۔ میں نے تو اس کے لیے سی پیک اتھارٹی بناکر جنرل عاصم باجوہ کو سربراہ بھی بنا دیا لیکن ان کے دوسرے مسائل نکل آئے۔ جہاں تک مراد سعید کا چینیوں کو ناراض کرنے کا تعلق ہے تو اس میں مراد سعید کا کوئی قصور نہیں۔ انہوں نے جو پریس کانفرنس کی اور کرپشن کے الزامات لگائے، وہ نواز شریف اور احسن اقبال کی دشمنی میں تھے۔ یوں اگر چینی ناراض ہیں اور سی پیک پر عملاً کام رک گیا ہے تو اس میں بھی میرا کوئی قصور نہیں۔

میرے پاکستانیو! میں چونکہ پاکستان سے کرپشن کے خاتمے کے لیے سیاست میں آیا تھا۔ اس لیے کابینہ بناتے وقت میں نے پوری کوشش کی کہ کرپشن کے ماہر پرانے سیاستدانوں کو زیادہ اہم وزارتیں نہ دوں۔ لہٰذا میں نے چن چن کر نئے چہروں کو متعارف کرایا۔ جس نے لندن میں میری خدمت کی تھی، جس نے کراچی میں میزبانی کی تھی، جس نے امریکہ میں میری مہمان نوازی کی تھی یا جو پاکستان میں میرے خوشامدی تھے، میں نے اصل اختیارات ان کو دیے۔

حتی کہ میں نے اپنا اے ڈی سی بھی فیصل جاوید کے بھائی کو لگا دیا۔ میرا خیال تھا کہ یہ لوگ میرے چہیتے بن کر دیگر وزرا پر بھی نظر رکھیں گے لیکن مصیبت یہ ہے کہ بعض معاملات میں وہ تجربہ کاروں سے بھی زیادہ تجربہ کار نکلے۔ اب اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ میں تو تبدیلی لانا چاہتا تھا لیکن مصیبت یہ ہے کہ حکمران بننے کے بعد میرے لوگ بدل گئے۔

Back to top button