فراغت کے بعد شہزاد اکبر کا بیرون ملک نکل جانے کا امکان

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے اس دعوے کے برعکس کہ وزیراعظم عمران خان بہت جلد شہزاد اکبر کو نئی ذمہ داری دیں گے، حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسا کوئی امکان نہیں لیکن یہ خدشہ ضرور ہے کہ شہزاد اکبر اگلے چند روز میں بیرون ملک روانہ ہو جائیں.
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی پرویز مشرف دور میں نیب میں خدمات انجام دینے کے بعد فوجی آمر کی فراغت پر شہزاد اکبر بیرون ملک چلے گئے تھے اور پھر عمران خان کے وزیراعظم بننے پر واپس آئے۔ ذرائع کا کہنا ہے اب کابینہ سے فارغ کیے جانے کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ شہزاد اکبر ایک مرتبہ پھر بیرون ملک روانہ ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ شہزاد اکبر پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں جو مشرف دور میں مختلف ریفرنسز میں نیب کو قانونی مشاورت فراہم کرتے تھے۔ نیب کے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ایک سابق اہلکار کے مطابق سابق آمر کے دور میں نیب کی جانب سے مختلف ممالک کے دورں پر جانے کے لیے شہزاد اکبر کو ترجیح دی جاتی تھی۔ دورے کے دوران ان کے قیام پر جتنے بھی اخراجات اتھتے تھے وہ نیب ہی برداشت کرتا تھا۔
یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ شہزاد اکبر دوہری شہریت رکھتے ہیں. اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کا دفاع کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر کی شہریت کے بارے میں بھی سوال اُٹھایا تھا اور کہا تھا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ شہزاد اکبر کی شہریت کیا ہے اور کیا وہ پاکستانی ہیں یا غیر ملکی اور کیا وہ دوہری شہریت رکھتے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اثاثہ جات ریکوری یورنٹ کی قانونی حثیت بھی سوال اُٹھائے تھے اور کہا تھا کہ قوم کے ٹیکسز سے جو پیسہ اس ادارے پر خرچ ہو رہا ہے وہ کیسے قانونی ہوسکتا ہے۔سپریم کورٹ کے جج نے یہ بھی سوال اُٹھایا کہ اُن کے اور ان کے بیوی بچوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے جو پیسہ خرچ ہوا اس کی قانونی حثیت کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جج نے اپنے جواب میں احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر احتساب شہزاد اکبر کے انکم ٹیکس ریٹرنز کے علاوہ ان کے بیوی بچوں کے ناموں اور ان کی شہریت کے بارے میں بھی سوالات اُٹھائے اور یہ بھی کہا ہے کہ شہزاد اکبر نے اپنے بیوی بچوں کے نام پاکستان یا بیرون ممالک جائیداوں کے بارے میں کیوں نہیں بتایا۔
اگرچہ بیرسٹر شہزاد اکبر کی کپتان کی ٹیم سے فراغت کی مختلف وجوہات بتائی جا رہی ہیں تاہم سبھی متفق ہیں کہ انہوں نے بطور مشیر احتساب، داخلہ اور سربراہ ایسٹ ریکوری یونٹ کپتان کو بے حد مایوس کیا جس کے بعد مجبوراً انہیں مستعفی ہونا پڑا۔ وہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک جائیداد بنانے کا کیس ثابت کرنے میں بھی ناکام رہے تھے اور سپریم کورٹ نے ریفرنس خارج کردیا تھا جس کے بعد تب کے اٹارنی جنرل انور منصور خان کو استعفی دینا پڑ گیا تھا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ موصوف نے مولاجٹ سٹائل میں بڑھکیں ماریں اور دھمکیاں دیں لیکن ان کی عملی کارکردگی صفر رہی۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر نے وزیراعظم کو جھوٹی کہانیاں سنا کر سہانے خواب دکھائے لیکن بالآخر مایوس کیا۔ شہزاد اکبر نے بطور مشیر احتساب شریف فیملی کو کرپشن مقدمات کی بنیاد پر جیلوں میں ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا لیکن نتیجہ ندارد۔ بطور مشیر داخلہ شہزاد اکبر لندن میں مقیم نواز شریف کو وطن واپس لانے میں بھی ناکام رہے۔ اس کے علاوہ موصوف غیر قانونی ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ بھی تھے لیکن بیرون ملک سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے میں بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ الٹا اس لاحاصل مشق میں قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر ڈالے۔
واضح رہے کہ شہزاد اکبر کو 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو جتوانے کے بعد 20 اگست 2018 کو وزیراعظم کا معاونِ خصوصی مقرر کیا گیا تھا۔ ستمبر 2018 میں انھیں بیرونِ ملک اثاثوں کی نشاندہی اور حصول کے لیے قائم کردہ ایسٹ ریکوری یونٹ کا سربراہ بنا دیا گیا تھا جبکہ جولائی 2020 میں انھیں وزیراعظم کا مشیر مقرر کیا گیا تھا اور انھیں وزیر اعظم کے احتساب کے دعوے پر عملدرآمد کی کوششوں کا سرخیل سمجھا جاتا تھا۔
اگر میری دھمکی نے کام نہ کیا تو میں پاؤں پڑ جاؤں گا
اپنے دور میں ان کی زیادہ توجہ شریف خاندان کے خلاف معاملات پر رہی جن پر وہ آئے روز پریس کانفرنسیں بھی کرتے نظر آتے تھے۔ شہزاد اکبر نے یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں دعوی کیا تھا کہ وہ ’قومی خزانہ لوٹنے والے 100 بڑے مگرمچھوں کی نشاندہی کر چکے ہیں اور جلد ہی منی لانڈرنگ کا پیسہ واپس لایا جائے گا۔
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ سوئس اکاؤنٹس میں پاکستانیوں کے تقریباً 280 ارب ڈالرز موجود ہیں جن کی واپسی کو ممکن بنایا جائے گا۔ شہزاد اکبر اس کے علاوہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کی کوششوں کے دعوے بھی کرتے رہے لیکن یہ کام بھی تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔
ان کے دور کا ایک اور تنازعہ اس وقت سامنے آیا تھا جب بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض برطانیہ میں نیشنل کرائم ایجنسی سے ایک تصفیے کے نتیجے میں 19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم واپس کرنے پر رضامند ہوئے تھے۔ نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق یہ پیسہ حکومت پاکستان کو واپس کیا جانا تھا لیکن ملک ریاض کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ رقم سپریم کورٹ کو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے واجب الادا رقم کی قسط کے طور پر جمع کرائی گئی ہے۔
اس سوال پر کہ یہ رقم بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں ملک ریاض پر واجب الادا رقم کی مد میں سپریم کورٹ کو کیسے منتقل کی جا سکتی ہے، بیرسٹر شہزاد اکبر نے سوالات کے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ رازداری کے حلف نامے کے تحت وہ اس کی تفصیلات بتانے سے قاصر ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ’کرپٹ افراد‘ کا احتساب اور ’لوٹی دولت‘ ملک واپس لانا، عمران خان کے سب سے بڑے وعدوں میں شامل تھے اور 2018 میں حکومت میں آنے کے بعد اسی کام کے لیے بیرسٹر شہزاد اکبر کو چنا گیا۔
سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ خاص طور پر اپوزیشن کے بعض رہنماؤں جن میں شہباز شریف، سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری اور کئی دیگر شخصیات پر لگنے والے کرپشن کے الزامات کو ثابت کریں گے تاہم ان مقدمات میں انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ان کے زیرانتظام ’ایسٹ ریکوری یونٹ‘ بھی متنازعہ رہا اور کوئی بڑی کامیابی سامنے نہیں لا سکا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر اعظم کو شہزاد اکبر سے ایک بڑی توقع یہ تھی کہ موصوف ان ملزمان کو ملک واپس لانے میں کامیاب ہوں گے جن کے کیسز پاکستان کی عدالتوں میں ہیں۔ وزیراعظم کو ان سے امید تھی کہ برطانوی حکام، نیشنل کرائم ایجنسی، ایسٹ ریکوری یونٹ، ایس ایف یو اور عدالتوں میں ان معاملات کا جائزہ لیں گے اور انٹرپول سے رابطے کریں گے اور مینج کریں گے کہ پاکستان سے بھاگے لوگوں کو واپس نہیں لا سکتے تو پھر کم از کم وہ پیسہ لایا جائے جو باہر ہے۔
اسی تناظر میں انھیں بطور مشیر وزارت داخلہ کا چارج بھی دیا گیا لیکن وہ مسلسل ناکام ہوئے۔ وہ کسی ملزم کو پاکستان لا سکے نہ ہی پیسہ لا سکے۔ خاص طور پر برطانوی حکومت کے ساتھ ملزمان کی واپسی یا ثبوتوں کی حوالگی پر تعاون میں پیشرفت نہ ہونا وزیراعظم ہاؤس میں ان کی بڑی ناکامی سمجھی گئی۔ اس تمام عرصے میں وہ ایسا کوئی معاہدہ بھی نہیں کرا سکے جس سے ملزمان، پیسہ یا کم از کم ثبوتوں کی منتقلی کے حوالے سے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کی راہ ہموار ہو سکتی۔
یہ وہ بنیادی امور تھے جہاں دیگر ممالک کے ساتھ اشتراک اور تعاون کی فضا قائم کرنا ان کے ذمے تھا اور وہ اس میں بری طرح ناکام رہے اور اختیارات ہونے کے باوجود وہ کوئی حکمت عملی تیار کر کے کام کروانے میں ناکام ہوئے جو مایوسی کا سبب بنا اور انکی چھٹی کروا دی گئی۔
