سلیکٹرزاورخفیہ ہاتھ ملکی سیاست کا محور کیوں ہیں؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ نگار مظہر عباس نے کہا ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک پاکستانی سیاست کا محور اور مرکز خفیہ ہاتھ، ایمپائرز اور سلیکٹرز ہی رہے ہیں۔ بس ٹیم اور کپتان بدلتے رہے ہیں۔ اس وقت بھی کچھ ایسا ہی سلسلہ چل رہا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس سوال کرتے ہیں کہ تاریخ نواز شریف کو کیسے یاد رکھے گی ایک مجرم، نااہل اور کرپٹ سیاست دان کے طور پر یا ایک مقبول سیاسی رہنما کے طور پر، قانون کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں، مگر تاریخ کے اپنے، لیکن تاریخ میں زندہ رہنے کیلئے کبھی کبھی ذوالفقار علی بھٹو بننا پڑتا ہے۔ اس وقت نااہل اور مجرم ہونے کے باوجود میاں صاحب کی سیاسی گرفت پنجاب میں خاصی مضبوط ہے اور یہی وزیر اعظم عمران خان کا سب سے بڑا چیلنج بھی ہے۔
اس لیے ان کی تقریروں میں عدلیہ سے ناراضی بھی نظر آتی ہے اور سیاسی پریشانی بھی، آنے والے بلدیاتی الیکشن کے نتائج اگر ضمنی الیکشن کی طرح کے ہوئے تو دھچکا کپتان کے پورے بیانیہ کو لگے گا جبکہ فتح کی صورت میں وہ قبل از وقت الیکشن کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔
بقول مظہر عباس، میاں صاحب کی سیاست میں کرکٹ، ایمپائر اور سلیکٹرز کا بڑا ہاتھ ہے۔ تب کی سلیکشن ٹیم میں جنرل ضیاء الحق، بریگیڈیر (ر) عبدالقیوم، جنرل اقبال اور مجید نظامی شامل تھے، جنہوں نے بڑے میاں صاحب یعنی میاں محمد شریف سے یہ درخواست کی تھی کہ آپ اپنے بڑے بیٹے کو سیاست میں آنے دیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کاروبار بھی کریں اور سیاست بھی۔اسی ڈگر میں انہیں بھٹو کے زمانے میں قومیائی گئی اتفاق فیکٹریاں بھی واپس مل گئیں۔
لہٰذا نواز شریف نے سیاست کا آغاز جنرل جیلانی کی انگلی پکڑ کر چلنے سے کیا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہر بچہ بڑا ہو کر خود چلنا چاہتا ہے اور اپنے فیصلے بھی خود کرتا ہے۔ جب میاں صاحب نے بھی یہی کیا تو ’بڑے‘ ناراض ہو گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس خاندان کا سیاست سے کوئی لین دین نہیں تھا، اس کو سیاست میں زبر دستی کیوں لایا گیا کیونکہ مقصد دوسرے سیاسی خاندان کو سیاسی طور پر ختم کرنا تھا۔
مظہر عباس کے مطابق، میاں صاحب کی سیاسی تربیت میں جنرل حمید گل اور حسین حقانی کا بھی کافی ہاتھ ہے۔ وہ خاصا عرصہ ان سازشوں کا حصہ رہےجو دراصل دوسرے سیاسی حریف کو ناکام بنانے کیلئے تیار کی جاتی رہی ہیں۔ جنرل ضیا ء نے انہیں صرف بھٹو یا پی پی پی کے خلاف ہی استعمال نہیں کیا بلکہ اپنے ہی نامزد کردہ وزیر اعظم محمدخان جونیجو کے خلاف بھی استعمال کیا۔ اس وقت تک بڑے سیاسی فیصلے میاں محمد شریف کیا کرتے تھے۔
کامران خان کا عمران کی کرپشن بے نقاب کرنے کا اعلان
اس دوران شہباز شریف بھی سیاست میں آنا چاہتے تھےاور 1990میں وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے خواہش مند تھے مگر فیصلہ غلام حیدر وائیں کے حق میں آیا اور انہیں مزید انتظار کرنا پڑا۔آہستہ آہستہ نواز شریف نے فیصلے خود کرنا شروع کر دیے۔ انکا پہلا بڑا فیصلہ 1993میں ’’ڈکٹیشن‘‘ نہ لینے کا تھا. ان کی اس تقریر نے ان کو ابتدائی تعلیم دینے والوں کو بھی پریشان کر دیا، پھر انہوں نے شہباز شریف پر توجہ دینا شروع کر دی اور آج ان قوتوں کی نظر میں وہ بڑے بھائی سے زیادہ قابل اعتماد ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھائی کے فیصلوں کے خلاف جا نہیں سکتے۔
1992 میں پاکستان جب ورلڈ کپ جیتا تو عمران خان کپتان تھے اور تب ملک کے سب سے مقبول ’’ہیرو‘‘ بھی۔ یہ وہ وقت تھا جب میاں صاحب وزیر اعظم تھے۔ عمران کرکٹ سے ریٹائر ہوئے اور شوکت خانم کینسر اسپتال کی تعمیر کیلئے کام شروع کیا تو میاں صاحب نے بھی ان کی کافی مدد کی۔ اس دوران جنرل حمید گل نے ان کو سیاست میں آنے کا مشورہ دیا۔
بقول مظہر عباس، عمران خان کا دھیان بھی اس طرف گیا مگر پھر وہ پیچھے ہٹ گے۔ جب عمران نے تین سال بعد 1996 میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تو سب سے پہلے شریف خاندان ہی خوفزدہ ہوا کیونکہ انہیں اسکی مقبولیت کا بھی اندازہ تھا اور اس کے سر پر ’’ہاتھ‘‘ رکھنے والوں کا بھی۔ ہماری سیاست کا محور ’’ ہاتھ، ایمپائر اورسلیکٹرز ہی رہے ہیں۔ بس ٹیم اور کپتان بدلتے رہے ہیں۔اس وقت بھی کچھ ایسا ہی سلسلہ چل رہا ہے۔
میاں صاحب نے سیاست میں بڑی غلطیاں بھی کیں اور غیر ضروری تنازعات میں بھی الجھے جن میں شاید سب سے بڑی غلطی 1997 میں دو تہائی اکثریت کے باوجود فوج اور عدلیہ سے تنازعہ اور پھر 12 اکتوبر 1999کے بعد ڈیل کرکے باہر جانا تھیں۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ ’’پانامہ‘‘ کیس میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا، اگر تب میاں صاحب استعفیٰ دے دیتے تو بات شاید اتنی آگے نہ جاتی، ان کی سیاسی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔ مگر اس وقت ان کا مسلسل باہر رہنا انہیں سیاسی نقصان پہنچا رہا ہے۔
سیاست اور تاریخ میں زندہ رہنے کے لیے بڑے مشکل فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔ بھٹو کے آخری دنوں میں انہیں NRO کی پیشکش ہوئی تھی۔ ترکی جا سکتے تھے۔ لیکن جب بیگم بھٹو انہیں ملنے گئیں تو بھٹو نے ایک ہی جملہ کہا، کہ ’’میں تاریخ میں زندہ رہنا چاہتا ہوں‘‘۔
