با بار وزیر مشیر بدلنے کے باوجود کپتان کی ٹیم ناکام کیوں؟

گزشتہ ساڑھے تین برس میں عمران خان نے وفاقی کابینہ کے دو تہائی وزرا کو کرپشن اور نا اہلی کے الزامات پر فارغ کیا یا انکے محکمے تبدیل کیے، لیکن اسکے باوجود انکی ٹیم ڈلیور کرنے میں اس لیے ناکام رہی کہ ایک تو کرپٹ وزرا کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی اور دوسرا نااہل وزرا کو ایک وزارت سے نکال کر دوسری وزارت دے دی گئی۔ لہذا اپنی ٹیم کی ناکامی کی ذمہ داری بھی وزیراعظم عمران خان پر ہی آتی ہے جو کہ ٹیم کے کپتان ہیں۔

خیال رہے کہ جب وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو ان کی کابینہ کے ارکان کی تعداد 21 تھی جو اب بڑھتے بڑھتے نصف سینچری مکمل کر چکی ہے۔ اب تک ابتدائی کابینہ کے دو تہائی ارکان مستعفی ہوئے یا انھیں کابینہ سے نکالا گیا جن میں سے کچھ کو دوبارہ کابینہ کا حصہ بنا دیا گیا۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کے استعفیٰ کے بعد سال 2022 کا آغاز بھی کابینہ کے استعفوں سے ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ تین برسوں کی طرح اس سال بھی کابینہ میں مسلسل ردو بدل کا امکان دکھائی دے رہا ہے جبکہ بہت سے وزراء اپنی پسندیدہ وزارتوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم اس سے قبل متعدد مرتبہ وفاقی کابینہ میں ردو بدل کر چکے ہیں۔ کچھ چہرے مستقل کابینہ کا حصہ ہیں، اگرچہ ان کے قلمدان تبدیل ہوتے رہتے ہیں، تاہم کابینہ کے کئی ارکان جن میں وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی شامل ہیں، مستعفی ہونے کے بعد اب گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں یا پارٹی ذمہ داریوں میں مصروف ہیں۔

اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق مستعفی ارکان میں قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے رکن اور سابق وفاقی وزیر صحت عامر کیانی پہلے وزیر تھے جن سے استعفیٰ لیا گیا تھا جس کی وجہ ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ قرار دیا گیا تھا۔ ان پر یہ الزام بھی سامنے ایا تھا کہ انھوں نے ادویہ ساز کمپنیوں کو کمیشن کے چکر میں فائدہ پہنچایا۔

انھیں کابینہ میں واپس تو نہیں لیا گیا تاہم انھیں پارٹی کا مرکزی سیکرٹری جنرل بنایا گیا لہذا ان کے خلاف کرپشن الزامات پر بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ وہ کچھ عرصہ پہلے تک پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر براجمان تھے تاہم خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد تنظیم تحلیل ہونے پر انھیں بھی عہدے سے ہاتھ دھونے پڑے۔

اسی طرح مسلح افواج کے سابق ترجمان اعر سی پیک اتھارٹی کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو وزیراعظم عمران خان نے اپنا معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کیا تھا۔ ان کے خاندان کے اربوں روپے کے کاروبار بارے سکینڈل سامنے آنے کے بعد انھوں نے وزیراعظم کو استعفیٰ کی پیشکش کی تھی لیکن خان صاحب نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں اور سوشل میڈیا پر ان پر تنقید کا سلسلہ نہ رک سکا جس کے بعد وہ عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ اسی طرح وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں اپنا نام آنے کے بعد عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ نئی تحقیقاتی رپورٹ میں ان کا نام شامل نہیں تھا لیکن اس کے باوجود وہ کابینہ کا دوبارہ حصہ نہیں بن سکے۔ تاہم وہ پارٹی کے معاملات اور اوورسیز کے مسائل کے حوالے سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف کا حصہ بننے والے ندیم افضل چن کا شمار ان افراد میں ہوتا تھا جنھیں وزیراعظم بہت اہمیت دیتے تھے لیکن چن معاون خصوصی اور وزیر اعظم کا ترجمان ہونے کے باوجود بعض معاملات پر حکومتی مؤقف کو درست قرار دینے کے بجائے اس کے خلاف بات کر دیتے تھے۔ ندیم چن نے وزیراعظم کی جانب سے ہزارہ سانحہ کے وقت کوئٹہ نہ جانے کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا جس پر وزیراعظم نے ایک اجلاس میں کہا کہ جس کو حکومتی پالیسیوں سے اتفاق نہیں وہ مستعفی ہو جائے۔ اس پر چن استعفیٰ دے کر حکومت سے علیحدہ ہوگئے تھے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کو گزشتہ سال ملک میں پٹرولیم بحران کے بعد صورت حال کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ اس دوران ان پر ایک پاور پروڈیوسنگ کمپنی کو مالی فائدہ پہنچانے کے الزامات بھی عائد ہو گئے جس وجہ سے وزیراعظم نے انھیں فارغ کر دیا۔ لیکن ندیم بابر کے خلاف بھی کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی بھی بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے پر گھر بھیجے گئے تھے لیکن ان کے خلاف بھی کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈیجیٹل پاکستان کے حوالے سے معاون خصوصی تانیہ ایدروس دوہری شہریت کے حامل معاونین خصوصی تھے۔ اس بنا پر ان دونوں کو سخت تنقید کا سامنا تھا لہذا ان دونوں کو بھی فارغ کر دیا گیا۔

اسی طرح وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ محصولات ڈاکٹر وقار مسعود، معاون خصوصی برائے خوراک جمشید اقبال چیمہ، معاون خصوصی برائے توانائی و پیٹرولیم تابش گوہر اور معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا بھی مستعفی ہونے والے کابینہ اراکین میں شامل ہیں۔ اگرچہ کابینہ سے فارغ کئے جانے والے کسی مشیر یا معاون خصوصی کو دوبارہ کابینہ میں جگہ نہیں مل سکی تاہم رضاکارانہ طور پر کابینہ سے نکلنے والے کئی وزراء خوش قسمت ثابت ہوئے کیونکہ انھیں دوبارہ کابینہ کا حصہ بنایا گیا۔

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹر اعظم سواتی تب وفاقی کابینہ سے علیحدہ ہوئے جب ان کے فارم ہاؤس پر پیش آنے والے ایک ناخوشگوار واقعے کے بعد تنازع کھڑا ہوا۔ ایک غریب خاندان پر پرچہ کروانے کے حوالے سے جے آئی ٹی نے انھیں اختیارات کے ناجائز استعمال کا مرتکب قرار دے کر سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کی تو وہ مستعفی ہوگئے۔ تاہم بعد ازاں انھیں دوبارہ کابینہ کا حصہ بناتے ہوئے وزارت ریلوے کا قلمدان دیا گیا۔

فراغت کے بعد شہزاد اکبر کا بیرون ملک نکل جانے کا امکان

اسد عمر جنھیں وزیر اعظم عمران خان کی ٹیم کا ’اوپننگ بلے باز‘ کہا جاتا تھا ملک کے وزیر خزانہ تھے لیکن آئی ایم ایف پروگرام اور ملک کی معاشی صورت حال پر کاکردگی نہ دکھا سکے تو ان سے بھی استعفی لے لیا گیا۔ لیکن کچھ ہی مہینوں بعد وزیراعظم نے انھیں وزارت منصوبہ بندی کا قلمدان سونپ کر دوبارہ کابینہ کا حصہ بنا لیا اور اب وہ تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل بھی بن چکے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور نندی پور سکینڈل کی تحقیقات کے دوران بابر اعوان نے اپنے عہدے سے تب استعفی دیا جب احتساب عدالت میں ان کے خلاف ریفرنس زیر سماعت تھا۔ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے انہیں دوبارہ مشیر پارلیمانی امور کے عہدے پر تعینات کر دیا۔ بیرسٹر فروغ نسیم کپتان کابینہ کے واحد وزیر ہیں جنھوں نے دو مرتبہ رضا کارانہ استعفیٰ دیا تاکہ وہ سپریم کورٹ میں پیش ہو سکیں۔ بعد ازاں کام ہو جانے کے بعد انہوں نے دوبارہ وزارت کا حلف اٹھا کر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

وہ پہلی بار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے تھے جبکہ دوسری بار سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کے خلاف وفاق کی نمائندگی کرنے کے لیے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو وزیر اعظم نے فواد چودھری سے وزارت اطلاعات کا قلمدان لے کر معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کیا۔ وہ کچھ عرصے تک اس عہدے پر رہیں تاہم بعد ازاں وزیراعظم نے ان سے استعفیٰ طلب کر لیا۔ فروس عاشق اعوان کو دوبارہ وفاقی کابینہ کا حصہ تو نہ بنایا گیا بلکہ پنجاب کابینہ میں بھی وزیر اعلیٰ کی معاون خصوصی اطلاعات تعینات کر دیا گیا۔

لیکن وہاں بھی زیادہ عرصہ نہ گزار سکیں اور انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ شہریار آفریدی کو وزیر مملکت برائے داخلہ اور بعد ازاں وزیر مملکت برائے انسداد منشیات کا چارج دیا گیا لیکن وزیراعظم نے ان کی کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے ان سے وزارت کا قلم دان واپس لے لیا۔وہ ان دنوں کابینہ کا حصہ تو نہیں ہیں لیکن ان کے پاس پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کی سربراہی ہے اور انہیں وزیر مملکت کا درجہ حاصل ہے۔

وفاق کے علاوہ تحریک انصاف کی پنجاب اور خیبر پختونخوا کی کابینہ میں ہر دوسرے روز وزراء کو نکالنے اور کابینہ میں تبدیلی کی خبریں آنا اب معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عمران خان نے اپنے وعدوں کے برعکس کسی حکومتی وزیر مشیر یا معاون خصوصی کا احتساب نہیں کیا۔

اگر کابینہ سے کسی وزیر کو غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنا پر فارغ کیا تو کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ نئی زمہ داری سونپ دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ نااہل اور کرپٹ ٹیم کے ساتھ کپتان نے بدترین پرفارمینس کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور پاکستان کو مشکلات کی دلدل میں دھنسا دیا۔

Back to top button