کامران خان کا عمران کی کرپشن بے نقاب کرنے کا اعلان

ساڑھے تین برس تک وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کی مدح سرائی کرنے والے معروف ٹی وی اینکر کامران خان نے اب بدلتی ہوئی سیاسی ہواؤں کے پیش نظر کپتان کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے ان کی سرپرستی میں ہونے والی کرپشن کو بے نقاب کرنے کا عزم کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرکامران خان نے لکھا کہ موجودہ دور حکومت میں اربوں روپے کی کرپشن ہوئی لیکن ایک بھی شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اس۔کیے میں انشاء اللہ بہت جلد ثابت کر دوں گا کہ عمران خان کے دور حکومت میں کرپٹ مافیا کی اعانت ہوئی۔ کرپٹ مافیا کو سزائیں دینے کا وعدہ اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ کامران خان نے لکھا کہ مشیر احتساب شہزاد اکبر کا استعفیٰ عمران خان کے لئے بڑا دھچکہ ہے۔

اب عمران خان کا سب سے بڑا وعدہ کرپشن کا خاتمہ، کرپٹ مافیا کو سزائیں اور لوٹی دولت کی واپسی اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران حکومت بننے سے پہلے ہی سینکڑوں ارب روپوں پر محیط جعلی بینک اکاؤنٹس منی لانڈرنگ کیس میں شاندار تحقیقات کے نتیجے میں درجنوں ٹھوس کیسز بن چکے تھے۔ لیکن کپتان حکومت نے ایک بھی بڑے ملزم کو نہ تو گرفتار کیا اور نہ ہی سزا دلوائی۔ کامران نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں چن چن کر بڑے بڑے ملزمان کو ریلیف فراہم کیا گیا، دولت لوٹنے والوں کو سیسہ پلایا گیا اور ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا گیا جس کے بدلے میں حصہ وصول کیا گیا۔

خیال رہے کہ ساڑھے تین برس کپتان حکومت کی قصیدہ گوئی کرنے والے کامران خان پچھلے چند مہینوں سے عمران خان سے مایوس ہوچکے ہیں اور ان پر تنقید کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل کامران خان نے وزیراعظم کے بعض اقدامات کو ناقابل فہم اور ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فیصلہ سازی کی وجہ سے ناصرف ان کی حکومت بلکہ ملک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے اپنے دل کی یہ بھڑاس سلیم صافی کے یوٹیوب چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں نکالی۔

کامران خان کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے آدمی ہیں۔ انھیں جو کہا جائے، وہ وہی کرتے ہیں، ان کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی۔ لیکن صافی پروگرام کے دوران انہون نے اس تائثر کی بھی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تبدیلی کو سپورٹ کیا تھا لیکن اب ساڑھے تین سال بعد بھی جب عمران خان ڈیلیور ہی نہیں کر پا رہے تو میں کیوں ان کی حمایت کروں، میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاناما کیس اور مسلم لیگ ن کی حکومت کا خاتمہ ہماری نظروں کے سامنے ہوا۔ مورخ اس کے بارے میں نہ جانے کب تک لکھتا رہے گا۔ اس میں کوئی چھپے ہوئے معاملات نہیں تھے۔ یہ واضح طور پر تھا کہ ن لیگ کی حکومت کو ختم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو تاحیات نااہل کیا گیا۔ ان کو اور ان کی صاحبزادی مریم کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے حوالے سے کئی اور فیصلے ایسے آئے جس نے واضح طور پر ن لیگ کے سیاسی مستقبل کو تالے لگانے کی کوشش کی گئی۔

با بار وزیر مشیر بدلنے کے باوجود کپتان کی ٹیم ناکام کیوں؟

کامران نے کہا کہ اس کے بعد نظام تبدیل ہو گیا اور تحریک انصاف کی حکومت برسر اقتدار آ گئی۔ عمران کو آتے ہی جن بے پناہ معاشی چینجلز کا سامنا کرنا پڑا، اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ میں نے سوچا کہ ہم کب تک حکومتوں کو غلط کہتے رہیں گے، چلیں اب اسے آزما کر دیکھتے ہیں جو ملک میں تبدیلی کی بات کر رہا ہے۔

انہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض ایسے ایشوز سامنے آئے جو ناقابل فہم اور ناقابل معافی تھے۔ مثال کے طور پر عمران خان کا عثمان بزدار کو ہی وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر تعینات رکھنے پر بضد رہنا۔ پنجاب میں 6 آئی جیز کو تبدیل کر دینا۔ 6 چیف سیکرٹری تبدیل کر دینا۔ اسی انداز کو وفاق میں بھی اپلائی کرنا۔ ہر چند ماہ کے بعد اہم عہدوں پر تعینات افسروں کو، تین وزرائے خزانہ، 6 سیکرٹری خزانہ اور بورڈ آف انوسٹمنٹ کے 6 سربراہوں کی تبدیلی اس بات کی نشانی ہے کہ عمران خان کی فیصلہ سازی مستحکم نہیں ہے۔

کامران کا کہنا تھا کہ اب ہم کیسے کہہ دیں کہ سب اچھا ہے۔ ملک کی جو صورتحال ہو چکی ہے، اس میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ملک کو جو معاشی مسائل ہیں اس کیلئے مشترکہ سوچ پر عمل ہونا چاہیے تھا۔ شہباز شریف نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر چارٹر آف اکانومی کی تجویز پیش کی تھی لیکن عمران خان نے اسے انتہائی بری طریقے سے رد کر دیا۔ قومی سلامتی کے اہم معاملات میں بھی انہوں نے اپوزیشن کیساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کیا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ملک کو عدم استحکام کی طرف ڈالنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔

ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ خطے میں عالمی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ پوری دنیا ہمارے طرف دیکھ رہی ہے، ہم کسی بھی غلطی، تجربات اور آزمائشں کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ عمران خان نے اپنے ہاتھ سے اپنی جماعت کی مقبولیت کو فنا کر دیا۔

Back to top button