تحریک عدم اعتماد سے فرار اپوزیشن کیلئے بڑا دھچکا قرار

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے دعوؤں کو تب ایک بڑا دھچکا پہنچا جب 25 جنوری کو اسلام آباد میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اجلاس میں اس معاملے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا اور اپوزیشن اتحاد نے سپیکر قومی اسمبلی، چئیرمین سینٹ ی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا آئیڈیا ترک کردیا۔ پی ڈی ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد بارے اتفاق رائے نہ ہو سکنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اپوزیشن کو یہ یقین نہیں ہے کہ ایسی کسی تحریک کو سازش سے ناکام نہیں بنا دیا جائے گا۔

پی ڈی ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ یا وزیراعظم کے خلاف لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوئی تو اپوزیشن کا مومینٹم ٹوٹ جائے گا جس کا فائدہ وزیر اعظم کو ہوگا۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پی ڈی ایم کے اجلاس سے چند روز پہلے ہی مسلم لیگ نون کی قیادت اور مولانا فضل الرحمن کے مابین باہمی مشورے سے یہ طے ہو گیا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کی جائے گی۔ یاد رہے کہ تحریک عدم اعتماد لانے کی تجویز بلاول بھٹو کی جانب سے آئی تھی جن کا خیال تھا کہ پہلے مرحلے میں اسپیکر قومی اسمبلی کو فارغ کر کے ایوان پر قبضہ کیا جائے اور پھر وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت پر امید تھی کہ پی ڈی ایم کی قیادت نہ صرف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مثبت فیصلہ کرے گی بلکہ اپنا 23 مارچ کا مجوزہ لانگ مارچ بھی پیپلزپارٹی کی دی گئی 27 فروری کی تاریخ پر منتقل کر دے گی۔ تاہم ایسا نہیں ہو پایا جس کے بعد اپوزیشن کی جانب سے مستقبل قریب میں عمران خان کے گھر چلے جانے کے دعوے زمین بوس ہوگئے ہیں۔

25 جنوری کو اسلام آباد میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے یومِ پاکستان کے موقع پر احتجاج ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے قائد مولانا فضل نے اپنے منصوبے کے مطابق مہنگائی کے خلاف 23 مارچ کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد لانے کا اقدام یہ کہتے ہوئے ملتوی کر دیا کہ اس کے لیے ابھی وقت اور صورت حال مناسب نہیں ہے۔ اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کے اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے 23 مارچ کو فوجی پریڈ کے موقع پر اور کچھ غیر ملکی معززین کی موجودگی کے باعث دارالحکومت کو سیل کرنے کے منصوبے پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو مظاہرین اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔ پی ڈی ایم اجلاس میں نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

جب مولانا کی توجہ 23 مارچ کو فوجی پریڈ اور اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے باعث اسلام آباد میں کرفیو جیسی صورتحال نافذ کرنے کے حکومتی منصوبے کی جانب دلائی گئی تو انکا کہنا تھا کہ ‘پی ڈی ایم اسلام آباد میں داخل ہوگی، حکومت کو پہلے ہی علم تھا کہ پی ڈی ایم اسلام آباد آنے والی ہے اس لیے ایک سازشن کے تحت یہ سفارشات کی گئیں’۔ سربراہ پی ڈی ایم نے مزید کہا کہ جہاں تک پریڈ کا معاملہ ہے وہ صبح ہوتی ہے اور ظہر کے وقت تک ختم ہوجاتی ہے جبکہ ہم ظہر کی نماز کے بعد آئیں گے اس لیے تصادم کا کوئی امکان نہیں۔

یاد رہے کہ پی ڈی ایم نے 23 مارچ کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا جس پر وفاقی وزیر داخلہ نے ان سے درخواست کی تھی چونکہ 23 مارچ کو فوجی پریڈ اور غیر ملکی مہمان اسلام آباد آئیں گے اس لیے اپنے احتجاج کی تاریخ تبدیل کردیں۔ ساتھ ہی شیخ نے کہا تھا کہ ممکن ہے سیکیورٹی اقدام کے تحت حکومت اسلام آباد کو اس روز سیل کردے۔

تاہم میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمٰن یہ سوال خوبصورتی سے گول کر گئے کہ کیا پی ڈی ایم اپنا مارچ 23 مارچ کو ملک کے مختلف حصوں سے شروع کرے گی یا اس دن اسلام آباد پہنچے گیں۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ لانگ مارچ کے شرکا یوم پاکستان کے موقع پر ‘یقیناً’ اسلام آباد میں داخل ہوں گے اور شاہراہ دستور پر پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کے سامنے موجود ڈی چوک پر دھرنا دیں گے۔

اگر میری دھمکی نے کام نہ کیا تو میں پاؤں پڑ جاؤں گا

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے احتجاج کو طویل دھرنے میں تبدیل کرنے کے امکان کو مسترد کیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ ابھی تک اس کی مدت کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تجویز ترک کرنے کی وجہ کے بارے میں پوچھے جانے پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایسے فیصلے ہمیشہ خفیہ رکھے جاتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے انہیں 342 رکنی قومی اسمبلی میں کم از کم 172 ارکان کی حمایت درکار ہوگی جو کہ ان کے پاس فی الحال نہیں ہے۔ عباسی نے کہا کہ وہ تحریک عدم اعتماد تب پیش کریں گے جب اسمبلی میں 172 ارکان کی حمایت حاصل ہونے کا یقین ہوجائے گا اور یہ بھی طے ہو جائے گا کہ فوجی ‘اسٹیبلشمنٹ’ حکمران اتحاد کے پیچھے کھڑی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں امید ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ اب حکومت کا ساتھ نہیں دے گی کیونکہ ہماری کوشش تب ہی کامیاب یو گی جب فوجی اسٹیبلشمنٹ مداخلت نہیں کرے گی۔
دوسری جانب اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘تحریک عدم اعتماد

جمہوری اور پارلیمانی نظام کا حصہ ہے لیکن اس کے لیے مکمل تیاری کی ضرورت ہے اور اس وقت تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکتا جب تک تمام اپوزیشن جماعتیں اور پارلیمنٹ کے اندر موجود قوتیں ایک پیج پر نہ ہوں۔

Back to top button