کیا آئی ایم ایف پھر پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرنے والا ہے؟

عوام پر ٹیکسوں کی بھر مار کرنے کے بعد حکومت عالمی مالیاتی فنڈ سے قرضے کی اگلی قسط کیلئے پر امید دکھائی دیتی ہے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ اگلے ہفتے میں آنے کا امکان ہے۔پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی معاہدے کے تحت دوسری قسط کے اجرا سے قبل عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی ٹیم دو نومبر کو پاکستان پہنچ رہی ہے۔آئی ایم ایف کی ٹیم ملکی معاشی اشاریوں کو دیکھنے کے بعد پاکستان کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط جاری کرنے یا نہ کرنے پر فنڈ کو رائے دے گی۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد وزارتِ خزانہ، توانائی ریگولیٹری اداروں،اسٹیٹ بینک سمیت ایف بی آر اور صوبائی حکومتوں سے سے بھی مذاکرات کرے گا۔پاکستانی حکام پُرامید ہیں کہ مذاکرات کامیاب رہیں گے۔

ذرائع کے مطابق بی آئی ایس پی کے تحت پہلی سہ ماہی میں تقریباً 90 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں، بیرونی فنانسنگ کے معاملے پر پاکستان کو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہے۔ تاہم بیرونی فنانسنگ کے مسئلے پر آئی ایم ایف خدشات کا اظہار کر چکا ہے جبکہ کرنسی ایکسچینج کے معاملے پر بھی اختلافات موجود ہیں اور آئی ایم ایف درآمدات کنٹرول کرنے کے لیے دسمبر 2022ء کا سرکلر واپس لینے کا مطالبہ بھی کر چکا ہے۔ذرائع کے مطابق توانائی کے شعبے کا گردشی قرض کم کرنے کے لیے پاکستان بجلی و گیس کی قیمت میں اضافہ کر چکا ہے، غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر بھی آئی ایم ایف کے مطالبے کے مطابق ہیں اور پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کا اسٹیٹ بینک سے قرض تقریباً41 ارب روپے ہے جو مقرر کردہ حد کے مطابق ہے جبکہ ایف بی آر نے اکتوبر تک ٹیکس وصولیوں کے لیے مقرر کردہ ہدف سے 66 ارب روپے زیادہ اکٹھے کیے ہیں۔

ادھر نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے مقرر کردہ تمام اہداف بشمول ریونیو ٹارگٹس حاصل کر لیے ہیں۔ حکومت اس حوالے سے کافی آرام دہ صورتِ حال میں ہے۔ اُن کے بقول دوسری قسط کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ ملاقاتیں کامیابی سے مکمل ہو جائیں گی۔خیال رہے کہ پاکستان میں اگست میں قائم ہونے والی نگراں حکومت سے قبل پی ڈی ایم کی حکومت کے دوران پاکستان کو آئی ایم ایف سے جاری پرانے قرض پروگرام کی آخری دو اقساط کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا تھا۔آخر کار وہ پروگرام نامکمل ہی رہا تھا جس کے بعد فریقین جولائی کے اواخر میں نو ماہ کے نئے اسٹینڈ بائی معاہدے پر رضامند ہوئے تھے۔معاہدے کے تحت پاکستان کو تین ارب ڈالر ملیں گے اور اس سلسلے میں 1.2 ارب ڈالر کی پہلی قسط پہلے ہی پاکستان حاصل کر چکا ہے۔تاہم ماضی کے برعکس دوسری قسط کے جلد اجرا کے لیے اس بار حکام کافی پرامید نظر آتے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت کی کارکردگی اس حوالے سے سابقہ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی سے مختلف نظر آرہی ہے۔مقامی بروکریج ہاؤس ابا علی سیکیورٹیز میں ریسرچر اور تجزیہ کار سلمان نقوی نے نشاندہی کی کہ پچھلی حکومتوں کو محصولات بڑھانے پر عوامی دباؤ کا سامنا تھا۔اُن کے بقول سیاسی حکومتیں بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے پر بھی سیاسی نقصان اٹھانے کے باعث اضافہ کرنے سے کترا رہی رہی تھیں جس سے گیس سیکٹر میں گردشی قرضے کا حجم بڑھتا چلا گیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں گیس مہنگی تھی، لیکن پاکستان کی حکومت دنیا سے مہنگی گیس خرید کر سستی گیس ملک میں فروخت کر رہی تھی۔ کم و بیش ایسی ہی وجوہات کی بناٗ پر بجلی کے سیکٹر میں بھی گردشی قرضے میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔تاہم یہ بھی دیکھا گیا کہ اس سب کے باوجود ملک سے اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور پھر ایکسچینج ریٹ بڑھنے کے سبب مہنگائی 40 سالہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی اور اس سے پی ڈی ایم جماعتوں کی سیاسی مقبولیت پر بھی فرق پڑا۔سلمان نقوی کے مطابق اس کے مقابلے میں موجودہ نگراں حکومت نے اسے اب تک تو بہتر طریقے سے ہینڈل کیا ہے۔اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا ہے اور حوالہ ہنڈی کو کنٹرول کر کے روپے کی قیمت بھی کسی حد تک بہتر ہوئی ہے۔سلمان نقوی کے بقول نگراں حکومت کو معیشت کی بحالی کے لیے ابھی مزید ایسے اقدامات کرنا ہوں گے اور اس میں ان کے نزدیک سب سے اہم ملک کے ٹیکس نظام میں اصلاحات ہیں۔اُن کے بقول پاکستان میں کاروبار کو آسان بنانے کے لیے متعدد اقدامات سمیت برآمدات کو ترجیح دینا ہو گی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ آئی ایم ایف فی الحال حکومت کے موجودہ اقدامات سے مطمئن ہو جائے گا اور نئی قسط جاری کر دی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس وقت بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں ساڑھے چار ارب ڈالر کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کے لیے حکومت بین الاقوامی کمرشل بینکس سے قرضے حاصل کرنے کے ساتھ ڈیڑھ ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔لیکن اس وقت پاکستان کی گری ہوئی کریڈٹ ریٹنگ اور دنیا بھر میں شرح سود زیادہ ہونے کے باعث یہ زیادہ سود مند نظر نہیں آتا۔ تاہم آئی ایم ایف پروگرام میں موجودگی سے کمرشل بینکس اور دیگر مالیاتی ادارے قرضوں کی ری شیڈولنگ سمیت دیگر شرائط نرم کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

Back to top button