عمران نے شوکت خانم کے فنڈز کا غیرقانونی استعمال کیسے کیا؟

گھڑی فروش سابق وزیراعظم عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ انہوں نے عوام سے اکٹھے کیے گئے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے 30 لاکھ ڈالرز کے فنڈز کو ایک نجی ہاؤسنگ پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کے لئے استعمال کیا۔ عمران خان نے یہ اعتراف اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں اپنی جانب سے خواجہ آصف کیخلاف دائر کردہ دس ارب روپے ہرجانہ کیس کی سماعت کے دوران کیا۔ عمران کے اعتراف کے بعد خواجہ آصف کا یہ الزام سچ ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ زکوٰۃ، فطرانے اور دیگر مد میں شوکت خانم ٹرسٹ کو ملنے والے فنڈز کا غلط اور ناجائز استعمال کرتے رہے۔

عمران خان 21 جنوری کو اپنے وکلا کے ہمراہ ویڈیو لنک کے ذریعے زمان پارک لاہور سے عدالت میں پیش ہوئے جہاں خواجہ آصف کے وکیل حیدر رسول مرزا اور عمران کے وکیل نعمان فاروقی موجود تھے۔ خواجہ آصف کے وکیل بیرسٹر حیدر رسول نے عمران پر جرح کی اور ان سے ہاؤسنگ پراجیکٹ میں شوکت خانم فنڈز سے غیر قانونی سرمایہ کاری کے حوالے سے سوالات کیے جس کی قانون میں اجازت نہیں ہے۔ عمران نے عدالت میں جرح کے دوران شوکت خانم فنڈز کی نجی ہاؤسنگ پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ شوکت خانم کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے مجھے اس حوالے سے بتایا گیا تھا لیکن یاد نہیں کہ ہاؤسنگ پراجیکٹ کا نام کیا تھا۔ وکیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو بورڈ کی طرف سے اس حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا تو عمران نے بتایا کہ اس وقت یاد نہیں کہ تحریری طور پر آگاہ کیا تھا یا نہیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ 30 لاکھ ڈالرز شوکت خانم ہسپتال کے بورڈ ممبر کی جانب سے ہسپتال کے اکاؤنٹ میں واپس جمع کرا دیئے گئے تھے لہٰذا معاملہ ختم ہو گیا۔

لیکن خواجہ آصف کے وکیل نے کہا کہ معاملہ یہاں پر ختم نہیں بلکہ شروع ہوتا ہے، کیونکہ جب 30 لاکھ ڈالرز کی بھاری رقم سے سرمایہ کاری کی گئی تو تب ڈالر کا ریٹ 60 روپے تھا اور جب یہ رقم واپس آئی تو تب تک ڈالر کا ریٹ دوگنا ہو کر 120 روپے ہو چکا تھا۔ اس موقع پر عمران خان غصے میں آ کر بولے کہ اگر آپ ادھر ادھر کے فضول سوالات کرنے کے بجائے سچ پر آئیں تو معاملہ جلدی ختم ہو سکتا ہے، اس کے بعد انہوں نے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے قبول کرلیا۔ تاہم اس موقع پر خواجہ آصف کے وکیل کا کہنا تھا کہ انھیں 28 جنوری کی اگلی سماعت میں صرف دو گھنٹے دیے جائیں تاکہ وہ اپنے دلائل مکمل کر لیں۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے 2012 میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کے 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔ خواجہ آصف نے یکم اگست 2012 کو ایک پریس کانفرنس میں تب کے وزیر اعظم عمران خان پر شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کے فنڈز کے غلط استعمال اور انکے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ تحریک انصاف کے سربراہ زکوٰۃ، فطرانے اور دیگر مد میں شوکت خانم ٹرسٹ کو ملنے والے فنڈز ریئل سٹیٹ کے جوئے میں ہار گئے تھے۔

تب کے وزیراعظم عمران خان نے خواجہ آصف کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کرتے ہوئے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان پر شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کے فنڈز کی خورد برد اور منی لانڈرنگ کے الزامات بے بنیاد ہیں جن سے انہیں کم از کم دس ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ ان الزامات کو ’جھوٹے اور ہتک آمیز‘ قرار دیتے ہوئے عمران نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال کی سرمایہ کاری کی سکیموں پر فیصلے ان کی مداخلت کے بغیر ایک ماہر کمیٹی نے کیے تھے۔ عمران خان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے جان بوجھ کر اور بدنیتی سے جھوٹے بیانات دیے جنکا مقصد پاکستان کے اندر اور باہر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔ درخواست میں کہا گیا کہ خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کے دوران انکا موازنہ ’ڈبل شاہ‘ سے کیا، جو کہ ایک بدنام زمانہ دھوکہ باز تھا، جس نے جھوٹ کی بنیاد پر لوگوں کا پیسہ نکلوا کر انہیں ان کی محنت سے کی گئی بچت سے محروم کردیا تھا۔ عمران نے دعوی ٰکیا کہ وہ خود 1991 سے 2009 تک شوکت خانم ٹرسٹ کے سب سے بڑے انفرادی عطیہ دہندہ تھے اور ان پر ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں جس سرمایہ کاری کا الزام عائد کیا گیا ہے وہ بغیر کسی نقصان کے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ نے پوری واپس حاصل کرلی تھی۔

اس موقع پر عدالت میں ایک حلف نامہ جمع کرواتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میرا محتاط اندازہ ہے کہ خواجہ آصف کے ہتک آمیز الزامات کی وجہ سے مجھے پہنچنے والے نقصان کی حد دس ارب روپے ہے جسے ادا کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے، گمراہ کن اور انتہائی ہتک آمیز بیانات کے نتیجے میں آبادی کا ایک بڑا حصہ ان جھوٹے الزامات پر یقین کر کے گمراہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شوکت خانم ٹرسٹ کے عطیات دہندگان نے مجھ سے الزامات کے حوالے سے وضاحتیں مانگنا شروع کر دیں، ان جھوٹے اور ہتک آمیز بیانات نے بہت سے لوگوں کے اندازے میں میری ساکھ کو کم کیا جو ان بیانات پر یقین کرنے سے گمراہ ہوئے اور اس سے لوگوں کے ذہنوں میں میری مالی سالمیت اور شوکت خانم ٹرسٹ کے معاملات کے بارے میں شکوک پیدا ہوئے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ عدالت بے بنیاد الزامات کے اس کیس پر ایک مثالی فیصلہ دے گی اور ایک مثال قائم کرے گی۔ تاہم اب عمران خان نے اس کیس کی سماعت کے دوران تسلیم کر لیا ہے کہ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال کے لئے وصول کیے جانے والے فنڈز میں سے تیس لاکھ ڈالرز کو ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں انویسٹ کیا تھا جس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔

پرویزالٰہی اورPTI کا نگران وزیراعلیٰ پنجاب کا تقرر چیلنج کرنے کااعلان

Back to top button