عمران پر حملے کے دوران مرنے والا گارڈز کی فائرنگ سے مرا؟

عمران خان کے کنٹینر پر حملے کے دوران فائرنگ سے مارے جانے والے وزیرآباد کے رہائشی معظم کے حوالے سے اب یہ خبر سامنے آ رہی ہے کہ اسے حملہ آور نوید احمد کی نہیں بلکہ جوابی فائرنگ کے دوران عمران خان کی سکیورٹی پر مامور گارڈز کی گولی لگی۔ حملے کی تفتیش کرنے والے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ معظم کی موت حملہ آور کی فائرنگ سے ہوئی یا گارڈز کی فائرنگ سے، یہ واضح نہیں کیونکہ اس کے سر میں لگنے والی گولی نہیں مل پائی۔ گولی اور ہتھیار کا فرانزک تجزیہ کرنے سے ہی پتہ چلے گا کہ آیا معظم کو نوید کی گولی لگی یا کسی اور کی؟ لیکن بظاہر گولی اونچائی سے آئی اور کافی فاصلے سے لگی جبکہ ملزم زمین پر موجود تھا اور مقتول کو پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

عمران پر حملہ کرنے والے ملزم نوید احمد نے بھی اپنے بیان میں پولیس کو بتایا ہے کہ مارا جانے والا شخص ان کی فائرنگ کا نشانہ نہیں بنا چونکہ کنٹینر سے جوابی فائرنگ کے بعد وہ بھاگ رہا تھا جبکہ چند لوگ اسے پکڑنے کے لیے اسکے پیچھے دوڑ رہے تھے، ویسے بھی اسکی پسٹل میں گولی پھنسی چکی تھی اور وہ مزید فائر کرنے کے قابل نہیں تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ معظم دراصل عمران کے گارڈز کی فائرنگ سے مارا گیا۔

صحت یابی کے بعد دوبارہ سڑکوں پر نکلوں گا

گولی اوپر سے آئی اور اسکے سر میں لگی چونکہ عمران کے گارڈز مجھے نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ لانگ مارچ کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہونے والے معظم گوندل، جائے وقوعہ یعنی اللہ والا چوک سے تین کلومیٹر دور واقع مصطفیٰ آباد کے رہائشی تھے۔ معظم نے سوگوران میں دو کمسن بیٹے اور ایک نوعمر بیٹی چھوڑی ہے۔ بڑے بیٹے کی عمر دس برس ہے اور وہ تعزیت کرنے کے لیے آنے والوں سے ملنے کے دوران اپنے آنسوئوں پر قابو نہیں رکھ پا رہا۔ اسکا چھوٹا بیٹا اتنا کم عمر ہے کہ وہ صرف لوگوں کو حیرانگی سے دیکھتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسے واقعے کی سنگینی کا ابھی اندازہ ہی نہیں ہے۔

معظم گوندل بسلسلہ روزگار کویت میں مقیم تھے اور ایک ہفتہ پہلے ہی چھٹی پر گھر آئے تھے۔ ایک ماہ اپنے بچوں کے ساتھ گزارنے کے بعد انھوں نے واپس کام پر کویت چلے جانا تھا۔ مقتول کے معمر والد محمد بشیر نے بتایا کہ ان کا بیٹا اپنے دو کمسن بیٹوں کے ساتھ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے گیا تھا۔ مجھے پتا ہوتا کہ وہاں فائرنگ ہونی ہے تو اپنے بیٹے کو روک لیتا اور اسے نہ جانے دیتا، میں نہیں جانتا کہ مجھے کیسے صبر آئے گا، وہاں ہزاروں لوگ موجود تھے میرا بیٹا ہی کیوں مارا گیا۔ معظم کا بڑا بیٹا کلاس چہارم جبکہ چھوٹا بیٹا پہلی کلاس کا طالبعلم ہے۔

Back to top button