عمران خان کو خود پر حملے کا پہلے سے کیسے معلوم تھا؟

وزیر آباد میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے عمران خان کو پہلے سے معلوم تھا کہ ان پر کوئی مذہبی جنونی کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے اور وہ ماضی میں اپنی تقاریر میں اس خدشے کا کھل کر اظہار بھی کر چکے تھے۔ چنانچہ ان کے خدشات کے عین مطابق تحریک لبیک کے ایک جنونی نے وزیر آباد میں ان کے کنٹینر پر فائرنگ کر دی لیکن خوش قسمتی سے ان کی جان بچ گئی۔ حملے کے بعد پنجاب پولیس نے حملہ آور کو حراست میں لیا تو اسکا ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آ گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نے عمران خان کو مارنے کی کوشش کی کیونکہ وہ نبی پاکؐ سے اپنا موازنہ کرتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کر رہا تھا۔

یاد رہے کہ ستمبر 2022 میں ایک جلسے کے دوران عمران خان نے خود پر ممکنہ حملے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’چار لوگوں نے بند کمرے میں فیصلہ کیا مجھے مروانے کا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ ابھی بھی اس سازش پر لگے ہوئے ہیں۔ عمران نے کسی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ ’میرے مخالفین نے مریم نواز اور جاوید لطیف سے یہ کہلوایا کہ عمران نے خدانخواستہ مذہب کی توہین کی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ اس وجہ سے مجھ پر اگر کوئی حملہ ہو، تووہ کہیں گے کہ مذہبی جنونی نے حملہ کیا اور اس کو مار دیا۔ یہ ان کا منصوبہ ہے۔‘

عمران پر حملے کے دوران مرنے والا گارڈز کی فائرنگ سے مرا؟

اسکے بعد ایک عمران خان نے سیالکوٹ میں ایک جلسے کے دوران بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہیں قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے انہوں نے اپنا ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا کر محفوظ کروا دیا ہے۔ عمران نے کہا تھا کہ انکے خلاف ایک سازش ہو رہی ہے اور ان کی جان لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو میری ایک ویڈیو ریلیز ہو جائے گی جس میں گذشتہ سال شروع ہونے والی سازش کے ایک ایک کردار کا نام لیا گیا ہے۔ پھر بولے کہ اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو میں چاہتا ہوں سارے پاکستانی جان لیں کہ کون کون اس سازش کا حصہ تھا اور ملک کے اندر سے کس کس نے اس میں حصہ لیا۔

عمران کے اس بیان کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔عمران کے علاوہ تحریک انصاف کے کئی رہنما بھی کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے چیئرمین کی جان کو خطرہ ہے۔ عمران پر حملے کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد عمر نے کہا کہ ’میری دو دن پہلے عمران سے بات ہوئی۔ بہت زیادہ خبریں آ رہی تھیں کہ سکیورٹی کا خطرہ ہے۔ اسد عمر نے کہا ہے کہ میں نے ان کو فون کال کر کے بتایا کہ یہ خبر آرہی ہے، تو انہوں نے کہا کہ وہ تو تھیک ہے لیکن ہم تو جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں لہذا ہمیں سب کچھ اللہ پر چھوڑنا چاہیے۔ اسد عمر نے کہا کہ اب سے تھوڑی دیر پہلے عمران خان نے مجھے ہسپتال بلا کر کہا ہے کہ میری طرف سے یہ بیان جاری کر دو کہ تین لوگوں نے مجھ پر حملہ کروایا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے شریف برادران کے علاوہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس میجر جنرل فیصل نصیر کا نام بھی لے دیا جن کو موصوف اپنی تقریروں میں ڈرٹی ہیری کے نام سے بھی مخاطب کرتے رہے ہیں۔

اس سے بھی پہلے عمران کی جانب سے لانگ مارچ شروع کرنے کے اعلان کے بعد ایک پریس کانفرنس میں فیصل واوڈا نے بھی کہا تھا کہ لانگ مارچ میں مجھے خون ہی خون اور جنازے ہی جنازے نظر آ رہے ہیں۔ تاہم اس پریس کانفرنس کے بعد عمران خان نے فیصل واوڈا کی پارٹی رکنیت ختم کر دی تھی۔

Back to top button