عمران خان نے سانحہ 9 مئی کا ذمہ دار عمرانڈوز کو قرار دے دیا

سانحہ 9 مئی کے دوران ہونے والی تمام شرپسندی کے کھڑے زمان پارک کی طرف جاتے دیکھ کر عمران خان نے پر تشدد واقعات کا ذمہ دار پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو قرار دے دیا ہے۔ عمران خان نے اپنے گناہ عمرانڈوز کے سر تھوپنے ہوئے قرار دیا ہے کہ 9 مئی کو ہونے والے پر تشدد واقعات کے وہ ذمہ دار کیسے ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ جیل میں تھے ان تمام واقعات کی ذمہ داری اس وقت موجود پارٹی رہنماؤں اور کارکنان پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عسکری املاک پر حملے کی سازش کے حوالے سے متعلقہ تحقیقاتی اداروں نے تمام ثبوت اکٹھے کر لئے ہیں جن کی بنیاد پر اس سازش کے ماسٹر مائنڈ عمران خان ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کا اپنے کئے کا الزام کارکنان اور پارٹی رہنماؤں کو دے کر انجام سے بچ نکلنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

خیال رہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں سابق وزیراعظم عمران خان نے ریڈ لائن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ لائن کا مطلب یہ ہے کہ ایسا ملک ہے کہ جہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہے، اور لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ اگر مجھے جیل میں بند کریں گے تو اس کا ایک ردِعمل آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سب کا ذمہ دار میں نہیں بلکہ کارکنان اور پارٹی راہنما ہیں۔ اور اگر وہ کہتے ہیں کہ عمران خان ہماری ریڈ لائن ہے تو کیا میں کہتا کہ میں ریڈ لائن نہیں ہوں؟ مجھے کیا کہنا چاہیے تھا؟

 عمران خان کے انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شدید ردِ عمل دیکھنےمیں آیا جس میں عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ کیسے انہوں نے خود کو 9 مئی کے واقعات سے بری الذمہ قرار دیتے ہوئے سارا ملبہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنان پر ڈال دیا۔ راجا کبیر نامی صارف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ سانحہ 9 مئی کوجلاؤ گھیراؤ، تباہی، بربادی، فساد دہشتگردی میں میری پارٹی کے ورکرز اور رہنما ملوث ہیں لیکن میں بے قصور ہوں کیونکہ میں جیل میں تھا۔

 صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے سانحہ 9 مئی کے واقعات سے خود کو بری الذمہ قرار دے کر کہا ہے کہ واقعات کے ذمہ دار پارٹی ممبران اور کارکنان تھے۔  شمع جونیجو کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ’ریڈ لائن‘ کا مطلب اپنی گرفتاری کی صورت میں پر تشدد ردِ عمل کو کہا ہے لیکن پھر انہوں نے یو ٹرن لے لیا کہ میں نے کارکنان کو ایسا کرنے کا نہیں کہا۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ عمران خان اپنا دفاع کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

 تحریک انصاف خیبر پختونخوا حکومت کے سابق وزیر ڈاکٹر ہشام انعام نے عمران خان کے بدلتے موقف میں تضادات کی نشاندہی کی اور کہا کہ ’اس میں ان کے لیے بہت اہم سبق ہے جن کی صبح عمران خان سے شروع اور شام انہی پر ختم ہوتی ہے‘۔ان کا مزید کہنا تھا تھا کہ جو لوگ زندہ ہیں ان میں سے بہت سے شاید اب بھی اس پر سوچنے سے قاصر ہیں لیکن جو اس دیوانگی میں اپنی جان کھو بیٹھے ہیں وہ آج قبروں میں ضرور تڑپتے ہوں گے۔ یقیناً تحریکوں کے اصول اب بدل گئے ہیں، رہبر زندہ اور محفوظ رہے، کارکنان اس انقلاب کی ایندھن میں جلتے اور مرتے رہیں گے۔

 ایک اور صارف منیب قادر نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب انٹرویو کے دوران عمران خان سے پوچھا گیا کہ آپ کے پیروکار کہتے ہیں کہ آپ ان کی ریڈ لائن ہیں تو جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں ان کو نہیں روک سکتا تھا۔ صارف کا کہنا تھا کہ اگر آپ واقعی اپنے ملک اور کارکنان کی بھلائی چاہتے تو آپ ان کو روک دیتے۔ آپ کا ملک آپ کی ریڈ لائن ہونی چاہیے۔

 ایک اور انٹرویو میں جب میزبان نے ان سے سوال کیا کہ کیا وہ نہیں سمجھتے کہ اپنی گرفتاری کو ریڈ لائن قرار دینا اس پُر تشدد احتجاج کی وجہ بنی؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی خود ایسا نہیں کہا، مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، مجھے گولیاں لگیں تو پارٹی کے اندر خوف تھا کہ یہ پھر سے مجھے قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ ان کے لیے ریڈ لائن ہے۔

 واضح رہے کہ برطانیہ کے قومی نشریاتی ادارہ ”بی بی سی“  نے 29 مئی کو چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان سے زمان پارک لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ پر انٹرویو لیا۔ بی بی سی کے مطابق عمران خان کے گزشتہ چند ہفتے انتہائی مشکل رہے ہیں کیونکہ ان کے ہزاروں حامی جیلوں میں قید ہیں جبکہ دو درجن سے زائد پارٹی راہنما عمران خان سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، ان کی جماعت پر پابندی کے بھی امکانات ہیں جبکہ عمران خان کو فوجی عدالت میں بھی بلایا جا سکتا ہے۔ عمران خان کی پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا، عمران خان کے حامی بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ صورتحال بہت زیادہ مشکل ہو چکی ہے، عمران خان تیزی سے تنہائی کا شکار ہوتے نظر آ رہے ہیں جبکہ ان کے گھر کے باہر حامیوں کا وہ ہجوم بھی نظر نہیں آ رہا جو کبھی وہاں موجود ہوتا تھا، اب زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ کے اندر صرف پارٹی کے چند وکلاء ہی نظر آتے ہیں۔

عمران خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال میرے کیلئے بڑا مسئلہ نہیں ہے، جو لوگ پارٹی چھوڑ کر چلے گئے ہیں، ہم ان کی جگہ نوجوانوں کو آگے لائیں گے لیکن شاید انہیں بھی گرفتار کر لیا جائے، اس طرح کے دہشتگردانہ حربے تھوڑے وقت کیلئے ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں مگر یہ صورتحال قابلِ برداشت نہیں ہے۔انٹرویو کے دوران عمران خان سے سوال پوچھا گیا کہ آپ کے حامی آپ کو اپنی ”ریڈ لائن“ قرار دیتے رہے ہیں، اس کا کیا مطلب ہے؟عمران خان نے جواب دیا کہ اس کا یہی مطلب ہے کہ میرے خلاف مقدمات میں مجھے گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا تو ایک ردعمل آئے گا لیکن میں اس ردعمل کا ذمہ دار نہیں ہوں بلکہ یہ ذمہ داری پارٹی راہنماؤں اور کارکنان پر عائد ہوتی ہےمیزبان صحافی نے عمران خان کو بتایا کہ آپ کے حامیوں کو اسلام آباد میں پولیس پر غلیلوں، پتھروں اور ڈنڈوں سے حملے کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور ایسی ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں آپ کے حامی فوجی املاک کو نذرِ آتش کر رہے ہیں۔عمران خان نے خاتون جرنلسٹ کی یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔بی بی سی کے مطابق عمران خان کی باتیں اب ایک مفاہمت پسند شخص کی گفتگو لگ رہی ہیں، وہ فوج کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں اور اب عمران خان کی رائے میں یہ کہنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے کہ فوج کا پاکستانی سیاست میں کردار ختم ہو جائے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں اسٹیبلشمنٹ میرے بارے میں کیا سوچتی ہے، کیا مجھے باہر کرنے سے پاکستان کو فائدہ ہو گا؟ مجھے نہیں معلوم کہ اب کیا ہونے والا ہے، ہو سکتا ہے کہ مجھے جیل میں ڈال دیا جائے۔بی بی سی کے مطابق عمران خان فوج سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اب وہ فوج کے سامنے ایسا کون سا مؤقف اختیار کریں گے جو پہلے نہیں کیا۔ مزید برآں، اگر پہلے فوج کے ساتھ بات چیت مشکل تھی تو اب تو اس کے امکانات انتہائی کم نظر آ رہے ہیں کیونکہ اب عمران خان بہت زیادہ کمزور سیاسی پوزیشن میں پہنچ چکے ہیں۔عمران خان کو گزشتہ برس اقتدار سے بےدخل ہونے کے بعد کرپشن اور بغاوت سمیت متعدد مقدمات کا سامنا ہے لہذا 9 مئی کو ان کی گرفتاری کوئی غیر متوقع بات نہیں تھی۔ عمران خان سیاسی طور پر ایک کونے میں پھنس چکے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی منصوبہ

کیا آئی ایم ایف بھی عمرانڈو  ہو چکا ہے؟

نہیں ہے۔

Back to top button