گھڑی چوری میں ملوث عمران خان پرلوٹا چوری بھی ثابت ہوگئی

اقتدار سے بے دخلی کے بعد گھڑی چوری کے الزامات کا سامنا کرنے والے عمران خان اب لوٹا چور بھی ثابت ہو گئے۔ پی ٹی آئی کے سابق رہنما فیاض الحسن چوہان نے صادق و امین کا چورن بیچنے والے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اصل چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے انھیں "لوٹا چور”قرار دے دیا۔ فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب کے دوران سکھ کمیونٹی کی جانب سے ایک خالص سونے کا لوٹا تحفے میں دیا گیا۔تاہم عمران خان کی ہدایات پر ’اس قیمتی تحفے کو راولپنڈی کے صرافہ بازار سے پیتل کے لوٹے سے تبدیل کیا گیا، پھر اس پر سونے کی قلعی چڑھا کر اسے توشہ خانہ میں جمع کروا دیا گیا جبکہ اصل لوٹا عمران خان نے اپنے پاس رکھ لیا۔
چوہان نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں ’نوسرباز، لالچی اور حریص‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ عمران خان کی مبینہ کرپشن کی ایک جھلک ہے۔سابق صوبائی وزیر نے یہ بھی انکشاف کیاکہ عمران خان کو ملائیشیا سے ملنے والا ایک قیمتی ڈنر سیٹ بھی فروخت کردیا گیا۔ ان کے مطابق سیٹ میں شامل پیالیاں راولپنڈی کے راجا بازار میں بیچ دی گئیں۔فیاض الحسن چوہان نے عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور ان کے حواری بانی پی ٹی آئی کی پارسائی کے قصیدے پڑھتے دکھائی دیتے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ عمران خان بنیادی طور پر سونے کا لوٹا چوری کرنے والے شخص ہیں۔ بدقسمتی سے عمران خان پاکستان کے واحد سابق وزیراعظم ہے جنھیں لوٹا چور کہا جا سکتا ہے۔
ناقدین کے مطابق پاکستان کی سیاست میں یہ شاید پہلی بار ہو رہا ہے کہ ایک جماعت کے سابق ساتھی خود اپنے قائد کو ’’چور‘‘، ’’نوسرباز‘‘ اور ’’لالچی‘‘ کے القاب سے نواز رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ الزامات صرف ذاتی انتقام یا تلخی کا اظہار نہیں بلکہ یہ ایسے سیاسی بہروپیوں کا پردہ چاک کر رہے ہیں۔ جو برسوں سے "ایماندار قیادت” کے نعرے کے پیچھے چھپ کر عوام کو دھوکہ دیتے رہے ہیں۔ حقیقت میں سیاست کے اس گندے تالاب میں کرپشن کی بدبو اور تعفن اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ فیاض الحسن چوہان جیسے عمران خان کے قریب ترین سابق ساتھی بھی انھیں "لوٹا چور” کہنے پر مجبور ہیں۔ فیاض الحسن چوہان کا یہ الزام محض ذاتی شکوہ نہیں بلکہ اس نام نہاد ’صادق و امین‘ کے نقاب کی دھجیاں اُڑاتا ہوا وہ واضح ثبوت ہے جو برسوں قوم کو دیانت کے خواب بیچتا رہا۔مبصرین کے مطابق جو عمران خان اپنی جیب کی چمک کیلئے تحفے میں ملنے والا سونے کا لوٹا بھی پیتل میں بدل کر غائب کیا جا سکتا ہو تو سوچیں قومی خزانے کے ساتھ وہ کیا سلوک کرتا ہوگا۔
خیال رہے کہ عمران خان پر لوٹا چوری اور ڈنڑ سیٹ چوری کے الزامات کوئی انہونی بات نہیں اس سے قبل بھی توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر قیمتی گھڑیوں، زیورات اور دیگر تحائف کی خردبرد کے الزامات سامنے آ چکے ہیں، اور نیب سمیت مختلف اداروں میں ان کے خلاف گواہی دینے والے کئی افراد ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں اور وہ بتا چکے ہیں کہ کس طرح عمران خان نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر توشہ خانہ سے قیمتی گھڑیاں چرانے کے علاوہ سونے کے زیورات آچکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں کی گواہیوں سے عمران خان کے صداقت اور دیانت کے بیانیے کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ پارٹی کے اندر سے اس طرح کے بیانات کا سامنے آنا اس بات کی علامت ہے کہ عمران خان ملکی مفاد کی بجائے ہمشیہ ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے جو کھلاڑی کل تک ان کے دفاع میں جان لڑاتے تھے، آج ٹی وی پر بیٹھ کر ان کی ’’چوری چکاری‘‘ کے واقعات بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ناقدین کے مطابق چوہان جیسے پی ٹی آئی رہنماؤں کے الزامات اور انکشافات محض شخصی کردار کشی نہیں بلکہ ملکی سیاسی تاریخ میں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب ایک لیڈر اپنے وعدوں اور کردار میں تضاد رکھتا ہے تو بالآخر اس کے اپنے لوگ ہی اس کے خلاف ہو جاتے ہیں۔عمران خان کے خلاف سابق رہنماؤں کا کھل کر سامنے آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ قانونی میدان میں اگر وہ بچ بھی نکلے تو سیاسی میدان میں عمران خان کی اخلاقی پوزیشن مزید کمزور ہو گی۔
