27 ویں آئینی ترمیم :عدلیہ کا سیاسی کردار ختم کرنےکا فیصلہ

حکومی تردیدوں کے بعد اسلام آباد کے باخبر حلقوں کا دعویٰ ہے کہ آئین میں مجوزہ 27 ویں ترمیم کے مسودے پر کام جاری ہے جسکا بنیادی مقصد عدلیہ کے غیر ضروری اختیارات میں مزید کمی کر کے اس کا سیاسی کردار مزید محدود کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے مابین سینارٹی، تقرری اور تبادلوں سے متعلق پرانے تنازعات کو بھی حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
خیال رہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود 26ویں آئینی ترمیم اب تک تنازعات کی زد میں ہے۔ گزشتہ برس اتحادی حکومت کی جانب سے 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں کی گئیں تھیں، جن میں چیف جسٹس کی تقرری کیلئے صرف سینارٹی پر انحصار کے خاتمے، آرٹیکل 184(3) اور 199 کے تحت درخواستوں کی سماعت کیلئے آئینی بنچز کے قیام، اور ججز کی تقرری و توثیق کیلئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل نو شامل تھی۔ تاہم سیاسی جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے وفاقی آئینی عدالت کے قیام سمیت متعدد معاملات اُس وقت حل نہیں ہو سکے تھے جنہیں اب وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہےاور اب انہیں 27 ویں ترمیم میں شامل کرنے کا ارادہ ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا تصور دراصل 2006ء میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان طے پانے والے ’’چارٹر آف ڈیموکریسی‘‘ کا حصہ ہے۔ یہ معاہدہ فوجی آمریت کے خاتمے، سیاسی مفاہمت، سیاسی انتقام کے خاتمے، شفاف انتخابات، عدلیہ کی آزادی اور پارلیمانی بالادستی پر مبنی ایک روڈ میپ تھا۔ 26 ویں ترمیم کے وقت حکومتی اتحاد نے اس عدالت کے قیام کا منصوبہ بنایا تھا، مگر دو تہائی اکثریت نہ ہونے کے باعث حکومتی اتحاد کو آئینی عدالتوں کے قیام کے مطالبے سے پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔ اس وقت سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت مخصوص نشستوں سے محروم حکومتی اتحاد کو مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی (ف) کی حمایت درکار تھی لیکن انہوں نے آئینی عدالتوں کے قیام کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے آئینی بنچ کے حق میں رائے دی تھی۔ جس کی وجہ سے حکومت کو لامحالہ مولانا کی تجویز کا ماننا پڑا تھا۔ تاہم اب جبکہ مخصوص نشستوں کا معاملہ آئینی بنچ کے فیصلے سے حکومتی اتحاد کے حق میں طے پا چکا ہے جس کے بعد حکومت کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت بھی حاصل ہو گئی ہے، جس کے بعد حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئینی عدالت کے قیام کا فیصؒہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی آئینی عدالت 27 ویں ترمیم کا مرکزی حصہ ہو گی۔ اس مقصد کیلئے آئین کے آرٹیکل 175 میں ترمیم کر کے سپریم کورٹ کے بعد وفاقی آئینی عدالت کا ذکر شامل کیا جائے گا۔
مجوزہ ترمیم میں ججز کی باہمی سینئرٹی کا مسئلہ بھی حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں ججز کی سینارٹی سے متعلق تنازعات کے حل کیلئے ایک مستقل ’’جوڈیشل کیڈر‘‘ قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاکہ ہائی کورٹس کے درمیان ججز کے تبادلوں کا شفاف نظام بنایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق ہائیکورٹس یا سپریم کورٹ کے ججز کی سینارٹی لسٹ تقرری کی تاریخ اور عمر کی بنیاد پر مرتب ہو گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ججز کی سنیارٹی لسٹ بارے قانون کی تبدیلی کے علاوہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمرمیں اضافہ بھی ممکنہ ترمیم کا حصہ ہو گا۔ آئین کے آرٹیکل 179 کے مطابق اس وقت سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال اور ہائی کورٹ کے جج کی عمر 62 سال ہے۔
ذرائع کے مطابق آرٹیکل 200 کے تحت فی الحال ہائی کورٹ کے جج کے تبادلے کیلئے اُس کی رضامندی اور صدر مملکت کی چیف جسٹس آف پاکستان اور متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز سے مشاورت لازمی ہے۔ نئی تجویز میں رضامندی کی شرط ختم کر کے تبادلے کا اختیار براہِ راست جوڈیشل کمیشن کو دینے کا امکان ہے۔ یہ شق 26 ویں ترمیم کے ابتدائی مسودے میں شامل تھی مگر ترمیم کو حتمی شکل دیتے وقت نکال دی گئی تھی۔
مبصرین کے مطابق اگرچہ 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ابھی کوئی باضابطہ مسودہ سامنے نہیں آیا، لیکن حکومتی اور قانونی حلقوں میں اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ مخالفین کا مؤقف ہے کہ بار بار آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کے ڈھانچے کو بدلنا ادارہ جاتی استحکام کے بجائے عدم توازن پیدا کرے گا، جبکہ حامیوں کے مطابق یہ اصلاحات عدلیہ کو ’’سیاسی معاملات سے دور‘‘ رکھنے اور مقدمات کی بروقت سماعت کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہیں۔
