کیا شکست خوردہ مودی دوبارہ پاکستان سے پنگا لینے والا ہے؟

امریکہ اور بھارت کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے ایک مرتبہ پھر پاک بھارت جنگ بندی کروانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ انڈیا کو شکست ہضم نہیں ہوئی اور وہ کسی بھی وقت دوبارہ جنگ کا پنگا لے سکتا ہے۔

اپنے دورہ امریکہ کے دوران پاکستانی کمیونٹی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے دعویٰ کیا کہ انڈین ’جارحیت نے خطے کو ایک خطرناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور ایک چھوٹی سی غلطی بھی دوبارہ دونوں ممالک کو ایک بڑے تصادم کی طرف لے جا سکتی یے۔ پاک فوج کے سربراہ نے امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان صدر ٹرمپ کا انتہائی مشکور ہے جن کی سٹریٹیجک قیادت کی بدولت نہ صرف انڈیا-پاکستان جنگ رُکی بلکہ خطے میں ایک ممکنہ نیوکلیئر جنگ کا خطرہ بھی ٹل گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے اس اشتعال انگیزی کا پُرعزم اور بھرپور جواب دیا۔ ہم نے وسیع تر تنازعہ روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ لیکن جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ انڈیا ’اب بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر بضد ہے۔ لیکن انڈیا یاد رکھیں کہ اس کی جانب سے کسی بھی جارحیت کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے کہا کہ کشمیرکسی طرح بھی انڈیا کا ’اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک نامکمل بین الاقوامی ایجنڈا ہے۔ محمد علی جناح نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی ’شہ رگ‘ ہے اور ہم بانی پاکستان کے اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘محض ڈیڑھ ماہ کے وقفے کے بعد میرا دوسرا دورہ پاکستان، امریکہ تعلقات کے حوالے سے ایک نئی جہت کی علامت ہے۔ ‎ان دوروں کا مقصد تعلقات کو ایک تعمیری، پائیدار اور مثبت راستے پر گامزن کرنا ہے۔۔۔ امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے کی بدولت بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے۔’

خیال رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی کی چار روزہ کے تین ماہ بعد بھی دونوں اطراف کے فوجی سربراہان کی جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے جس میں دونوں اپنی کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔  انڈین فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کے جواب میں کیا جانے والا ’آپریشن سندور‘ کسی روایتی مشن سے مختلف تھا جس میں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی تاہم انہوں نے اس کامیابی کی تفصیل نہیں بتائی چونکہ بظاہر تو اس جنگ میں پاک فضائیہ نے بھارت کے پانچ جنگی طیارے بشمول 3 رافیل جہاز مار گرائے تھے۔ انڈین آرمی چیف کی طرح انڈین ایئر چیف اے پی سنگھ نے بھی جنگ ختم ہونے کے تین مہینے بعد اچانک دعویٰ کر دیا ہے کہ اسکی ائیر فورس نے مئی کی جنگ میں پاکستان کے 6 طیارے گرا دئیے تھے۔ تاہم پاکستانی وزیر دفاع نے اس دعوے کو بچگانہ قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان نے رفال سمیت متعدد انڈین طیارے گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر ڈرون اور میزائل حملے بھی کیے تھے۔ اس دوران 10 مئی کو امریکی صدر ٹرمپ نے بھارتی حکومت کی جانب سے رابطہ ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جہاں پاکستان نے جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کا کردار تسلیم کرتے ہوئے ان کے لیے نوبیل امن انعام کی سفارش کی وہیں بھارتی حکومت نے سیز فائر میں صدر ٹرمپ کا کردار سرے سے تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ تب سے صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کے مابین تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدہ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اب بھارت پر عائد 25 فیصد ٹیرف کو دوگنا کرتے ہوئے 50 فیصد ٹیرف کر دیا ہے۔

Back to top button