عمران  کی ملکیتی جائیدادوں کی نیلامی حقیقت کیاہے؟

بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض حسین کی ضبط شدہ جائیدادوں کی فروخت کا عمل شروع کرنے کے بعد اب نیب نے عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ کی نیلامی کا اشتہار بھی شائع کروا دیا ہے

یاد رہے کہ ملک ریاض حسین کی طرح عمران خان کی جائیداد کی نیلامی بھی القادر ٹرسٹ کیس میں کی جا رہی ہے جسے 190 ملین پاؤنڈز کے اس کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ عمران خان کا گھر بھی القادر ٹرسٹ کیس میں مبینہ کرپشن کی ریکوری کیلئے نیلام کیا جارہاہے

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے خلاف نیب ریفرنس میں جائیداد نیلامی کے معاملے پر بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسسٹنٹ کمشنر سیکریٹریٹ کی جانب سے عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ کی نیلامی کا اشتہار جاری کردیا گیا ۔

اسسٹنٹ کمشنر سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کئے گئے نیلامی کے اشتہار کے مطابق عمران خان کی نیلام کی جانے والی زمین موہڑہ نور کی حدود میں واقع ہے، نیلامی میں 248 کنال 8 مرلے رقبہ اور 405 کنال 3 مرلے رقبہ نیلام کیا جائے گا،

اسسٹنٹ کمشنر سیکریٹریٹ اسلام آباد کی جانب سے جاری کیئے گئے اشتہار میں کہا گیاہے کہ بنی گالہ کی نیلامی  میں حصہ لینے والے  ہر خاص و عام کو ٹوکن کے اجراء کیلئے 50 لاکھ روپے کا چیک پے آرڈر چیئرمین نیب کے نام بنانا ہوگا،اشتہار میں کہا گیا کہ متعلقہ پٹواری نیلامی میں حصہ لینے والوں کو تمام تفصیلات فراہم کرے گا جبکہ نیلامی ایولیوایشن کمیٹی کی جانب سے منظور کی گئی شرائط و ضوابط کے تحت انجام پائے گی،  اشتہار کے مطابق نیلامی میں دلچسپی رکھنے والے شخص کو جائیداد کی سائٹ کے دورے سمیت تمام معلومات بہم پہنچائی جائے گی۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل  سلمان اکرم راجہ  نے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بنی گالہ رہائش گاہ کی مبینہ نیلامی کی خبرآج ہی سامنے آئی ہے، اگریہ خبریں درست ہیں تو یہ کسی خفیہ کارروائی کا نتیجہ ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں سلمان اکرم راجا نے مزید کہا کہ بنی گالہ کے منتظمین لاعلم ہیں، ہماری لیگل ٹیم معاملے کی تہ تک پہنچنے میں سرگرم عمل ہے، جلد صحیح معلومات سامنے آجائیں گی۔

دوسری جانب نیب نے واضح کیا ہے کہ ان کی طرف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائش گاہ کی نیلامی کے حوالے سے کوئی اشتہار شائع نہیں کروایا گیا ہے۔ بنی گالہ کی فروخت بارے اشتہار اسسٹنٹ کمشنر سیکرٹریٹ نے جاری کیا ہے

سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان کے گھر کی نیلامی نہ صرف القادر ٹرسٹ کیس کو ایک نئے موڑ پر لے جائے گی بلکہ عمران خان کیلئے سیاسی و قانونی محاذ پر دباؤ کو بھی کئی گنا بڑھا دے گی۔ تجزیہ کاروں کے بقول عمران خان کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہنے والے بنی گالہ رہائش گاہ کی نیلامی نہ صرف ان کی علامتی سیاسی طاقت پر کاری ضرب ہوگی بلکہ یہ نیلامی عوامی تاثر میں بھی ایک بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔جبکہ  یہ پیش رفت تحریک انصاف کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان بیانیے کی ایک نئی جنگ کو جنم دے سکتی ہے، جہاں ایک طرف حکومت اور اس کے حامی اس اقدام کو احتساب کے عمل کا تسلسل قرار دیں گے، وہیں پی ٹی آئی اسے سیاسی انتقام کا حصہ قرار دے گی۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نیلامی کا عمل مکمل ہو جاتا ہے تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک مثال بن جائے گا، جہاں کسی سابق وزیراعظم کی ذاتی رہائش گاہ کو عدالتی فیصلے اور کرپشن کیس کے نتیجے میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہو۔دوسری طرف، عوامی سطح پر بھی اس معاملے نے شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک طبقہ اسے "قانون کی بالادستی” کی علامت قرار دے رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اس اقدام کو "ریاستی جبر” اور "سیاسی مخالفین کو دبانے کا ہتھیار” کہہ رہا ہے۔ واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس پہلے ہی ملکی سیاست میں ایک حساس اور متنازع موضوع بن چکا ہے، اور اب بنی گالہ کی نیلامی سے اس تنازعے میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔

Back to top button