قبائلی اضلاع میں طالبان کے ڈرون حملے پاک فوج کے لیے بڑا چیلنج

خیبر پختون خواہ کے قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بڑھتے ہوئے ڈرون حملے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

طالبان عسکریت پسند ڈرون حملوں کے ذریعے سیکیورٹی فورسز کے علاوہ فوج کا ساتھ دینے والے سویلینز کو بھی اپنا نشانہ بنارہے ہیں، ان حملوں سے جہاں مکانات اور املاک تباہ ہو رہی ہیں وہیں عورتیں، بچے، اور عام لوگ بھی جان کی بازی ہار رہے ہیں۔

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع بھی تسلیم کرتے ہیں کہ کے پی کے قبائلی علاقوں میں طالبان کی جانب سے ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال خطرناک ہے اور فوج کے لیے بڑا درد سر بن چکا ہے۔ پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں شدت پسند گروہوں نے "کمرشل” کواڈ کاپٹرز کو ایک مہلک ہتھیار میں تبدیل کر دیا ہے۔ بنوں، وزیرستان اور ٹانک جیسے اضلاع میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے علاوہ اب سویلین آبادی پر کواڈ کاپٹرز کے ذریعے حملے ہو رہے ہیں اور وہاں مارٹر شیل اور دیسی بم گرائے جا رہے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق طالبان عسکریت پسند فورسز اور سویلینز پر حملوں کے لیے تجارتی بنیاد پر دستیاب کواڈکاپٹرز اور ڈرونز استعمال کر رہے ہیں، جو ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ پولیس حکام کے مطابق پچھلے تین مہینوں میں بنوں اور اس کے ملحقہ علاقوں میں پولیس اور فورسز پر کم از کم درجن بھر ڈرون حملے ہو چکے ہیں۔ طالبان کواڈ کاپٹرز کو اپنے اہداف پر مارٹر شیل گرا رہے ہیں۔ پولیس حکام اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے پاس دہشت گردوں کے ڈرون حملے روکنے کے لیے مطلوبہ ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ صوبائی پولیس چیف ذوالفقار حمید نے تسلیم کیا کہ "پولیس کے پاس اس نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے وسائل موجود نہیں کیونکہ شدت پسند پولیس سے ذیادہ بہتر ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

یاد رہے کہ جنگوں میں ڈرونز کا استعمال کوئی نئی بات نہیں رہا۔ یوکرین کے محاذِ جنگ سے لے کر پاک-بھارت تناؤ تک، بغیر پائلٹ کے حملہ کرنے والے اس فضائی نظام نے بتدریج طے کر دیا ہے کہ جنگیں کس طرح لڑی جاتی ہیں۔ لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ جو ٹیکنالوجی کبھی صرف ریاستی افواج تک محدود تھی، وہ اب طالبان جیسے غیر ریاستی عناصر کے ایمونیشن کا حصہ بن گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی طالبان تجارتی طور پر دستیاب ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کو اپنی ضرورت کے دھماکہ خیز مواد سے لیس کر کے خطرناک حملے کر رہے ہیں۔

پاکستانی سکیورٹی ادارے پہلے سے ہی دہشتگردوں کی نگرانی کے علاوہ انہیں ٹارگٹ کرنے کے لیے ڈرونز استعمال کر رہے تھے، لیکن یہی ٹیکنالوجی شدت پسندوں کے ہاتھ میں آنے کے بعد میدانِ جنگ کا نقشہ بدل گیا ہے۔ اب متنازعہ علاقوں میں موجود ہر ڈرون ایک سوال بن جاتا ہے کہ یہ فوجی ڈرون ہے یا طالبان کا ہے؟ یہ ابہام تحریک طالبان کے خلاف کارروائیوں کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ خیبر پختون خواہ کے قبائلی رہائشیوں کے لیے ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے کیے جانے والے حملے خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔ یہ غیر یقینی صورتحال ریاست پر عوام کے اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہے۔

حالات یہ ہیں کہ ہر نئے ڈرون حملے کے بعد متاثرہ علاقے کے تعلیمی ادارے بند ہو جاتے ہیں، وہاں کے کاشتکار کھیتوں میں کام بند کر دیتے ہیں، دکاندار معمول سے پہلے دکانیں بند کرنا شروع کر دیتے ہیں اور سفر بند ہو جاتا ہے۔ مانیٹرنگ اداروں کے مطابق صرف جولائی میں خیبر پختون خواہ میں میں 28 ڈرون حملے ہوئے، جن میں کئی بڑے حملے بھی شامل تھے۔ بنوں کے میریان تھانے پر بار بار فضائی حملے کیے گئے، جبکہ سب سے ہلاکت خیز واقعہ اورکزئی میں پیش آیا، جہاں آٹھ نیم فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ یہ ضلع پہلے نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا تھا، مگر اب شدت پسند اثر و رسوخ شمال کی طرف پھیلنے سے یہ تصور ٹوٹ رہا ہے۔

مسلسل ڈرون حملوں کے بعد خیبر پختون خواہ کے جنوبی اضلاع میں کشیدگی برقرار ہے اور کئی مقامات پر کرفیو نافذ کیا گیا۔ باجوڑ میں طالبان کی جانب سے علاقہ چھوڑنے سے انکار کے بعد کرفیو لگا خر بڑا آپریشن کیا جا رہا یے تاکہ شدت پسندوں کے مراکز کو ختم کیا جا سکے۔ لیکن یہ اقدامات نہ صرف نازک سکیورٹی صورتحال بلکہ دہشت گردوں سے نمٹنے کی ریاستی صلاحیت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال پاکستان میں طالبان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف شروع ہونے والی ڈرون جنگ ابتدائی مراحل میں ہے۔ لیکن ان کے مطابق اگر شدت پسندوں کو روکا نہ گیا تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جانب سے کیے جانے والے حملے اور بھی زیادہ مہلک ثابت ہو سکتے ہیں، جیسا کہ دیگر جنگی علاقوں میں دیکھا گیا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں متحرک طالبان شدت پسندوں کے لیے ڈرون ایک کثیرالمقاصد ہتھیار ہے۔ کم قیمت کوآڈ کوپٹرز کے ذریعے طالبان بم یا بارودی مواد گرانے کے علاوہ فوجی چوکیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور براہِ راست ویڈیوز اپنے کمانڈ مراکز تک پہنچاتے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ ڈرونز سم کارڈز، بیٹریاں، طبی سامان اور تکنیکی پرزے بھی ایک سے دوسرے علاقوں میں پہنچا رہے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں زمینی سفر خطرناک ہے۔ 2024 کے آغاز سے ٹی ٹی پی کے میڈیا چینلز پر طالبان کی جانب سے ہونے والے ڈرون حملوں کی ویڈیوز تو شیئر ہو رہی تھیں، مگر باضابطہ ان حملوں کا اعتراف نہیں کیا جا رہا تھا۔ لیکن 2025 میں ٹی ٹی پی نے کھل کر ڈرون حملوں کی ذمہ داری لینا شروع کر دی ہے۔

Back to top button