ریاست دشمن عمران خان کو IMFنے بھی ٹھینگا دکھا دیا

تحریک انصاف کی ریاست مخالف ایک اور سازش ناکام ہو گئی۔عمران خان کو ریاست مخالف سازش میں اس وقت منہ کی کھانی پڑی جب بانی چیئرمین تحریک انصاف کے عالمی مالیاتی ادارے کو مبینہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات تک کوئی بھی امداد فراہم نہ کرنے کے مطالبے پر مبنی خط لکھنے کے ایک روز بعد ہی آئی ایم ایف نے پی ٹی آئی کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے پر آمادگی کا اعلان کر دیا ہے۔

آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے اقتصادی استحکام اور خوشحالی کے لیے نئی حکومت کے ساتھ  کام کے منتظر ہیں۔ایگزیکٹیو بورڈ نے 11 جنوری کو سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے ریویو کی منظوری دی تھی جس کے تحت پاکستان کو ایک اعشاریہ نو ارب ڈالر جاری ہوئے۔ آئی ایم ایف حکام نے نگراں حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نگراں حکومت کے دور میں حکام کی جانب سے معاشی استحکام برقرار رکھا گیا جو کہ مالیاتی اہداف پر سختی سے عمل اور سماجی تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کی بدولت ممکن ہوا۔
جب ان سے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مبینہ دھاندلیوں کے حوالے سے خط لکھنے کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے تبصرے سے احتراز کرتے ہوئے کہا کہ  وہ پاکستان میں جاری سیاسی امور پر بات نہیں کریں گے ۔

خیال رہے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے معاہدے کی مدت مدت اپریل میں ختم ہو جائے گی۔
جولائی 2023 میں نو ماہ کے لیے کیے گیے معاہدے کے تحت پاکستان کو تین ارب ڈالر فراہم کیے گئے تھے جس کی وجہ سے معیشت کو کچھ سہارا ملا تھا، تاہم نئی حکومت کو ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ہی اگلے بجٹ کی تیاری اور ملک میں معاشی توازن برقرار رکھنے کے لیے مزید رقم کی ضرورت ہو گی۔ اور استحکام کے لیے اس کو آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنا پڑے گا۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر رضا باقر کے مطابق پاکستان کا موجودہ زر مبادلہ آٹھ ارب ڈالر کے قریب ہے جبکہ اس کو اگلے پانچ سالوں میں سات ارب ڈالر محض بیرونی قرضوں کی مد میں ادا کرنے ہیں۔ ملک کے دیگر اخراجات اور معیشت کی بڑھوتری کے لیے درکار سرمایہ اس سے الگ ہو گا۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سےآئی ایم ایف کو خط لکھنے کے حوالے سے اہم بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ممکنہ طور پر مارچ 2024کے پہلے ہفتے میں حلف اٹھانے والی آنے والی حکومت کے پاس موجودہ 3 ارب ڈالرز کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) پروگرام کو پورا کرنے کے اور پھر ڈالر کے خلا کو پُر کرنے کے بڑے سائز کو مدنظر رکھتے ہوئے کوٹہ میں اضافے کی درخواست کے ساتھ 36 ماہ کے نئے بیل آؤٹ پیکج پر دستخط کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔آنے والی حکومت کو اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے فوراً بعد آئی ایم ایف کو باضابطہ درخواست بھیجنی ہوگی کہ وہ دوسری نظرثانی کی تکمیل کیلئے اپنی جائزہ ٹیم اسلام آباد روانہ کرے جو کہ 15مارچ 2024 تک مکمل ہو جانا چاہیے تاکہ 12اپریل 2024تک 1.1ارب ڈالر کی آخری قسط کے اجراء کے لیے بورڈ سے منظوری لی جا سکے۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی پر آئی ایم ایف کو خط لکھنے بارے نون لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئی ایم کو خط لکھنے کا مقصد بیرونی مداخلت کو دعوت دینے کی کوشش ہے‘پچھلی بار بھی ان کی سازش پکڑی گئی تھی ‘ ان کے مذموم مقاصدکے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے‘ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہورہی ہے . آئی ایم ایف کو خط لکھنا ملک دشمنی ہے ‘یہ پاکستان کی مالی اور سیاسی خود مختاری پر حملہ ہے‘ان تمام سازشوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوں گے۔اس سے پہلے بھی عمران خان نے آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان کا پیکیج رکوانے کی کوشش کی تھی اس میں وہ ناکام ہوئے تھے۔پاکستان میں بیرونی مداخلت کی دعوت کی اس سے بڑی مثال نہیں ہوسکتی جو پاکستان میں کسی لیڈر نے کی ہو۔یہ پاکستان کی مالی خود مختاری اور سیاسی خود مختاری پر حملہ ہے۔

دوسری جانب ملک کے بڑے صنعتکاروں اور تاجر برادری نے پاکستان کو امداد کی فراہمی رکوانے کیلئے پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک دشمنی سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہے اور اس مرحلے پر ایسا کوئی اقدام ملک کو مزید بحران سے دوچار کردیگا۔

دوسری طرف سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ رول ہی نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی داخلی انتخابی سیاست، الیکشن کی سیاست اور نتائج میں دخل اندازی اورآڈٹ کرے،پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے قائدین اور مشیران آئی ایم ایف کے بنیادی مقاصد اور دائرہ کار سے ناواقف ہیں.پی ٹی آئی کے بانی ان کے سیاسی معاونین اور قانونی مشیران یکے بعد دیگرے ایک زبان ہو کر یہ بیانات دے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے بانی آئی ایم ایف کو خط بھیج رہے ہیں کہ پاکستان کے حالیہ انتخابات میں ہونے والی بے قاعدگیوں اور بعض انتخابی حلقوں کے نتائج کا آڈٹ کیا جائے اور پاکستان کو مزید فنڈنگ اور قرض دینے سے قبل آئی ایم ایف یہ آڈٹ کرے۔ادھر آئی ایم ایف کے متعلقہ حلقے بھی پی ٹی آئی کے اس بیان اور آئی ایم ایف کو اس میں ملوث کرنے کی کوشش سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ حیران بھی ہیں کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے قائدین اور مشیران آئی ایم ایف کے بنیادی مقاصد اور دائرہ کار سے کس قدر ناواقف ہیں۔آئی ایم ایف کی جانب سے جلد ہی اس بارے میں سرکاری موقف بھی

نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے مولانا کے اقتدار کا خواب کیسے توڑا؟

سامنے آنے کا قوی امکان ہے۔

Back to top button