نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے مولانا کے اقتدار کا خواب کیسے توڑا؟

پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان وفاق کے بعد بلوچستان میں بھی شراکت اقتدار کا فارمولا طے پاگیا ہے جس کے تحت بلوچستان میں پیپلزپارٹی، ن لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی مل کر اتحادی حکومت بنائیں گے۔ اتحادی حکومت میں گورنر، سپیکر صوبائی اسمبلی اور سینیئر وزیر کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہوگا جبکہ وزیراعلی پیپلز پارٹی سے ہوگا۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو 6 ،6 وزاتیں جبکہ باپ یعنی بلوچستان عوامی پارٹی کو دو وزارتیں ملیں گی۔ جبکہ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نون لیگ اور پیپلزپارٹی نے بلوچستان کی اتحادی حکومت میں جے یو آئی کو نہ شامل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مولاناکو لال جھنڈی دکھا دی ہے جس کے بعد مولانا فضل الرحمن اقتدار کے ایوانوں سے مکمل آوٹ ہو گئے ہیں۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان شراکت اقتدار اور حکومت سازی کے حوالے سے قائم کمیٹیوں نے دونوں جماعتوں کی نشستوں کو سامنے رکھتے ہوئے طے کیا ہے کہ صوبے میں دونوں جماعتوں کو ابتدائی طور پر چھ چھ وزارتیں دی جائیں گی اور اضافے کی صورت میں تناسب کو برقرار رکھا جائے گا۔
اسی طرح دونوں جماعتوں نے اپنی اتحادی بلوچستان عوامی پارٹی کو بھی اقتدار کا ساجھی بنایا ہے اور اس کو دو وزارتیں دی جائیں گی۔ ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے ہوگا۔ خیال رہے کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی مخصوص نشستوں کے بعد کل 19 اور مسلم لیگ ن کی 18 نشستیں ہو جائیں گی جبکہ حکومت سازی کے لیے 33 نشستیں درکار ہیں۔ باپ ، اے این پی کو شامل کرنے کے بعد بلوچستان اسمبلی میں حکمران اتحاد کی تعداد 40 سے تجاوز کر جائے گی۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے وزارت اعلیٰ کے لیے مختلف ناموں پر غور شروع کر رکھا ہے جس میں صادق عمرانی، نواب سرفراز بگٹی، ثناء اللہ زہری اور ظہور بلیدی شامل ہیں۔دوسری جانب گورنر کے لیے مسلم لیگ ن پارٹی کے صوبائی صدر جعفر مندوخیل کو صوبے کا گورنر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے ن لیگ نے جے یوآئی ف سے معذرت کرلی تھی، جس کے بعد جے یوآئی کو بلوچستان میں 11 نشستوں کے باوجود اپوزیشن میں بیٹھناہوگا۔خیال رہے ن لیگ اورپی پی کی مخصوص نشستوں سمیت 17،17 نشستیں ہیں اور وزیراعلیٰ کے لئے بلوچستان میں 33 ارکان درکارہیں جبکہ ن لیگ اور پی پی کے پاس 34ارکان پہلےسے موجود ہیں۔ن لیگ یا پیپلز پارٹی اگر جےیوآئی کو اتحاد میں شامل کرتے ہیں تو اسے حکومت میں حصہ بھی دیناہوگا تاہم ن لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں جےیوآئی کواپنےحصےسےکچھ دینے کو تیار نہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں حکومت بنانے کے لیے 33 نشستیں درکار ہیں۔ اس وقت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مخصوص نشستیں ملا کر 34 نشستیں بنتی ہیں جس کے باعث یہی دونوں جماعتیں صوبے میں حکومت بنانے کی مستحکم پوزیشن میں ہیں۔ ایسے میں بی اے پی کی 5 نشستیں حکومت کو مزید مضبوطی فراہم کریں گی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے میں جمعیت علما اسلام ف کی حکومت سازی کے لیے کوئی اہم ضرورت پیش نہیں آ رہی۔ لیکن اس کے باوجود جے یو آئی صوبے میں حکومت کا حصہ بننے کے لیے پر تول رہی ہے۔ تاہم مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت اس بات پر آمادہ نہیں جس کہ وجہ سے متوقع طور
پر بلوچستان میں جمعیت کو حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھنا پڑے گا۔
