ایم کیو ایم سندھ کی گورنری لینے کیلئے بضد کیوں؟

مَدو جَزر کا شکار ملکی سیاست کا ایک اونٹ بالآخر کسی کروٹ بیٹھ ہی گیا، ن لیگ نے پیپلزپارٹی کی شرائط قبول کرتے ہوئے حکومت سازی کا بڑا مرحلہ طے کرلیا ہے جبکہ دوسری طرف نون لیگ نے ایم  کیو ایم کو گورنر سندھ کا عہدہ دینے کی یقین دہانی کرا کے ایک اور اتحادی جماعت کو بھی رام کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان نے شراکت اقتدار کیلئے فارمولا طے کرنے کیلئے ہونے والے مذاکرات کے دوران مطالبہ رکھا تھا کہ وہ گورنر سندھ کے لیے جس کا نام دے گی اسے گورنر سندھ مقرر کیا جائے گا جس پر مسلم لیگ ن نے یقین دہانی کروا دی۔ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے گورنر سندھ کے لیے کامران ٹیسوری کو پھر نامزد کئے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں نون لیگ کے پاس 79 اور پیپلزپارٹی کے پاس 54 نشستیں ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں جنرل نشستوں کی کل تعداد 266 ہے۔ جبکہ خواتین کیلئے 60 اور غیر مسلموں کیلئے 10 مخصوص نشستیں مختص ہیں۔اس طرح قومی اسمبلی کی سیٹوں کی مجموعی تعداد 336 ہے۔ یعنی مضبوط حکومت بنانے کے لیے ن لیگ کو 17نشستوں والی ایم کیوایم سمیت بعض دیگر سابق اتحادی بھی درکار ہیں۔ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے مذاکرات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہےکہ شہبازشریف وزیراعظم،آصف زرداری صدر ہوں گے۔ چیئرمین سینیٹ پیپلزپارٹی کا اور ڈپٹی چیئرمین ن لیگ کا ہوگا،اسپیکر قومی اسمبلی ن لیگ اور ڈپٹی اسپیکر پیپلزپارٹی کا ہوگا۔صوبائی گورنروں سے متعلق بھی پیشرفت ہوئی ہے کہ گورنر پنجاب جیالاہوگا جبکہ ن لیگ سندھ اوربلوچستان کے گورنر نامزد کرے گی۔ تاہم ایم کیوایم نے 17 نشستوں کے ساتھ اتحادی حکومت میں شامل ہونے کیلئے جن عہدوں پر اصرار کیا تھا ان میں سندھ کی گورنری سر فہرست تھی۔ تاہم اب نون لیگ نے ایم کیو ایم کا دیرینہ مطالبہ قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ ایم کیوایم کیلئے ایک ایسا آئینی عہدہ اہم کیوں ہے جس میں اختیارات اور بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے؟ گورنر ہاؤس کا سالانہ بجٹ اتنا کم ہے کہ پروٹوکول کی گاڑیوں کا پیٹرول اورمینٹیننس اور عملے کی چائے پانی بھی پوری ہوجائے تو بڑی بات ہے۔ مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والےسندھ کے موجودہ گورنر کامران خان ٹیسوری کے اقدامات پر نظر ڈالی جائے تو ان سب باتوں کا جواب سامنے آجائے گا۔یہ وہی کامران خان ٹیسوری ہیں جنہیں ایک عرصے تک ایم کیوایم کے سرکردہ رہنماؤں نے موومنٹ میں قبول کرنے کے قابل تک نہ سمجھا تھا۔ نوبت یہ تھی کہ کامران خان ٹیسوری کی وکالت کرنے والے فاروق ستار کو بھی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ قبول کرلیا تب بھی کامران ٹیسوری کو سوتیلا بیٹا سمجھا۔

10 اکتوبر 2022 کو جب کامران خان ٹیسوری نے گورنر کا عہدہ سنبھالا تو عام خیال یہی تھا کہ وہ اپنی جگہ نہیں بناسکیں گے۔ ملک کی فلمی تاریخ سے ناواقف عمران خان نے تو اپنے تئیس تمسخر اڑاتے ہوئے انہیں ‘مولاجٹ’ قرار دے ڈالا تھا۔سیاسی جغادریوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے کامران ٹیسوری نے گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کیلئے کھولے اور پھر صنعتکاروں اور تاجروں کی مدد سے ایک کے بعد دوسرا فلاحی منصوبہ شروع کیا۔یہاں تک کہ گورنر ہاؤس میں ہی ایک ایسی جدید یونیورسٹی کھول دی جہاں آئی ٹی جیسی مہنگی تعلیم مفت دی جا رہی ہے۔ان اقدامات سے گورنر ٹیسوری نے صوبے خصوصاً کراچی جیسے اہم ترین شہر میں تیزی سے اپنا نام بنایا،ساتھ ہی اُس ایم کیوایم کی ساکھ بہتر کی جو 22 اگست کی متنازعہ تقریر کے بعد سے متاثر تھی اور اس تحریک کے منتخب نمائندے بھی عوام میں جاتے ہوئے بظاہر کترانے لگے تھے۔2سال سے کم عرصے میں کامران ٹیسوری نے ایسا چمتکار کیا ہے کہ نہ صرف تاجر اور کاروباری حلقوں میں نام بنایا ہے کہ وہ مختلف ممالک کے سفارتکاروں کے بھی ہر دلعزیز بن گئے۔

کامران ٹیسوری کے علاوہ سندھ کا شاید ہی کوئی گورنر ایسا گزرا ہو جس کا ایک پیر کراچی میں تو دوسرا اسلام آباد یا ملک کے دیگر علاقوں میں ہوتا ہو۔مختلف ممالک کے قومی دن ہوں تو گورنر ٹیسوری نہ صرف کراچی میں مہمان خصوصی ہوتے ہیں بلکہ اسلام آباد میں منعقد تقریبات میں بھی انہیں اسپیشل گیسٹ کے طورپر مدعو کیا جاتا ہے۔روایت اور پروٹوکول کا تقاضا ہوتا ہےکہ اگر صدر یا وزیراعظم کسی صوبے کے گورنر ہاؤس آئے اور گورنر ملک میں موجود ہو تو وہ اس موقع پرضرور اپنی سرکاری رہائش گاہ میں ہوتا ہے۔نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ چند روز پہلے کراچی آئے جہاں انہوں نے گورنر ہاؤس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکھنے والے ہزاروں طلبہ سے خطاب کیا۔حکومت سازی سے متعلق ایم کیوایم کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہونے کے سبب گورنر ٹیسوری اسلام آباد میں ہی رُکنے پر مجبور تھے۔ جدید تعلیم سے متعلق گورنر کے اقدام کے معترف نگران وزیراعظم نے یہ جانتے ہوئے بھی دورہ ملتوی نہیں کیا۔

ذاتی حیثیت میں کامران خان ٹیسوری نے اس عرصے میں ن لیگ کی قیادت سے بھی گہرے تعلقات قائم کیے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نوازشریف کی وطن واپسی سے پہلے گورنر ٹیسوری لندن گئے تو میاں نوازشریف اور اسحاق ڈار سے خصوصی ملاقات کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ن لیگ کیلئے بھی وہ گورنر کی حیثیت سے قابل قبول شخصیت ہیں۔ان اقدامات کی وجہ سے کامران خان ٹیسوری نے شُہرت تو کمائی،ساتھ ہی ایم کیوایم کے بعض حلقوں میں ان کی رقابت بھی بڑھی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے افراد میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش اپنی جگہ، ایم کیوایم شاید اس لیے بھی سندھ کی گورنری لینے کے لیے ن لیگ سے اصرارکر رہی ہے کہ کامران ٹیسوری اس مشکل وقت میں ایم کیوایم کا پازیٹو امیج بنے ہوئے ہیں۔

یہ بھی کہ ن لیگ کو وزیراعلی ہاؤس پنجاب اور وزیراعظم ہاؤس ملے، پیپلز پارٹی کو ایوان صدر تو سندھ سے 17 قومی اور 28 صوبائی اسمبلی کی نشستیں لینے والی اتحادی ایم کیوایم بھی چاہتی ہے کہ کچھ نہ سہی اس کو بیٹھنے کے لیے علامتی ہی سہی گورنر ہاؤس تو ہو۔

Back to top button