الیکشن کا نتیجہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے الٹ کیوں آیا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ھے کہ مقتدرہ نے اب تک تمام حربے آزما لئے مگر نہ تو تحریک انصاف کا ووٹ بینک ٹوٹا نہ اس کے سیاسی امیج پر فرق پڑا۔جو لوگ مقتدرہ کے کہنے پر تحریک انصاف چھوڑ گئے وہ کہیں کے نہ رہے چاہے وہ چودھری فواد ہوں، فیاض الحسن چوہان ہوں یا فردوس عاشق اعوان۔ اسی طرح جہانگیر ترین اور پرویز خٹک بے چارے سیاست سے ہی آئوٹ ہوگئے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ مقتدرہ کی پالیسیوں میں کوئی بہت بڑی خرابی ہے۔ الیکشن کے نتائج بھی ان کی من مرضی کے بالکل الٹ نکلے ہیں، کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ وہ اپنی پالیسیاں اور حکمت عملی بدلے ۔ سیاست کو اہل سیاست پر چھوڑے اور وہ اپنے اصلی کام کی طرف توجہ دے۔ اپنی ایک تحریر میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ 9 مئی کا واقعہ قابل مذمت ہے مگر 8 فروری کے مینڈیٹ سے پتہ چلتا ہے کہ عوام الناس نے اس غلطی کو قابل توجہ نہیں سمجھا اور عمران خان کو قطار در قطار ووٹ ڈالے ہیں ۔ 8 فروری کے انتخابات کے بعد ایک نئے دور کی ضرورت ہے، عمران خان کو جیل سے نکال کر بنی گالا منتقل کیا جائے وہ کوئی غدار یا شرپسند نہیں ،انہیں بھرپور عوامی مینڈنٹ ملا ہے۔ ان کی نظر بندی کے دوران مقتدرہ کا نمائندہ وفد جاکر ان سے ملے اور مقتدرہ انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کرے۔ انہیں سکیورٹی صورتحال اور سیاسی ماحول کے بارے میں بریف کیا جائے۔ اسی طرح اہل سیاست بھی ان سے رابطہ کرکے مستقبل کے ماحول کو بہتر کرنے کی کوشش کریں ۔ یاد کریں کہ 1977ء میں قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی میں خونیں جنگ جاری تھی، قومی اتحاد کی قیادت جیلوں میں بند تھی مگر پھر ان کو سہالہ ریسٹ ہائوس منتقل کرکے مذاکرات شروع کئے گئے۔ اب بھی ملکی استحکام ، سیاسی ساکھ اور معاشی مستقبل کیلئے ایسا کرنا اشد ضروری ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق عمران خان خوشحال اور پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، ایچی سن کالج اور آکسفورڈ میں پڑھے، کرکٹ میں آئے تو سلیبریٹی بن گئے۔ ان کیلئے جیل کاٹنا بہت مشکل ہوگا مگر وہ بہادری اور ثابت قدمی دکھا رہے ہیں۔ 8 فروری کے بعد اب سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں گی، مقتدرہ کا غصہ بھی اب ٹھنڈا ہوجانا چاہیے اور عمران کے ساتھ ہونے والا سوتیلا سلوک اب ختم ہونا چاہیے۔ پہلے مرحلے کے طور پر انہیں جیل سے نکال کر نظر بند کیا جاسکتا ہے، کوشش کی جائے کہ وہ میانوالی سے منتخب ہوکر پارلیمان میں بھی آئیں۔ فرض کریں یہ تجویز مان لی جائے تو یکایک ملک میں کشیدگی کا ماحول بدل جائے گا اور ریاست اپنی بھرپور توجہ معیشت کی بہتری کی طرف مرکوز کر سکے گی۔ یاد رکھنا چاہیے کہ مقتدرہ اور عمران خان میں ذاتی اختلافات تو ہیں پالیسی اختلاف کوئی بھی نہیں، اسلئے اس رابطے میں دونوں طرف سے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔

سہیل وڑائچ تجویز پیش کرتے ہیں کہ اسی طرح باقی سیاسی اسیران مثلاً ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چودھری اور میاں محمود الرشید کو اہل لاہور دہائیوں سے جانتے ہیں یہ شرپسند نہیں، ہاں پارٹی کے وفادار ہوسکتے ہیں۔ انہیں جیلوں میں بند ہوئے مہینوں ہوچکے اب ان کو ریلیف ملنا چاہیے وہ سیاست میں واپس آئیں گے تو اس سے اعتدال آئے گا، اسی طرح روپوش حماد اظہر اور اسلم اقبال کو ان کے حلقہ نیابت نے اعتماد کا ووٹ دیا ہے یہ دونوں نوجوان ہیں ان کا سیاسی مستقبل روشن ہے، ان کیلئے جمہوری راستہ کھولنا چاہیے۔ پنجاب اور صوبے پختونخوا بھر میں دیگر گرفتار اور روپوش رہنمائوں کے حوالے سے بھی اب پالیسی بدلنی چاہیے تاکہ نئے جمہوری سفر کا آغاز اچھے اور بھرپور طریقے سے ہو سکے۔ انتظامی ہتھکنڈوں سے ووٹ بینک نہیں ٹوٹتا، ووٹ بینک صرف سیاست سے ہی بڑھتا اور گھٹتا ہے، تحریک انصاف کاووٹ بینک تب ٹوٹے گا جب لوگ ان کی کارکردگی سے مایوس ہوں گے۔ ملک کے آگے بڑھنے کا واحد راستہ مصالحت ہے۔ یہی بات عمران خان اور نواز شریف سے الگ الگ ملاقاتوں میں بھی کی گئی ، مقتدرہ سے بھی بار ہا یہ گزارش کی کہ صرف جبر سے نہیں، مہربانی سے بھی کام لیں

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھا جائے تو جو کچھ بھٹو کے ساتھ ہوا وہی آج عمران کے ساتھ ہو رہا ہے، بھٹو کی سیاست کو گیارہ سالہ ضیائی آمریت میں ہر طرح سے مٹانے کی کوشش کی گئی لیکن بھٹو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہے اور اس کی جماعت اس بار بھی سندھ میں حکومت بنائے گی اور مرکز میں صدارت بھی انہیں ملے گی۔ دوسری طرف جنرل ضیاء الحق کے وارث اعجاز الحق کو پورے پاکستان سے صرف ایک نشست ملی ہے اور وہ بھی جنرل ضیاء کے نام پر نہیں بلکہ بہاولنگر کی آرائیں برادری کی سرپرستی کی بنیاد پر۔ آج کی مقتدرہ اور عدلیہ، ضیا دور سے کہیں سمجھدار، روشن خیال اور ترقی پسند ہے انہیں چاہیے کہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے تحریک انصاف اور عمران خان کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھائیں، سیاسی قیادت بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ عمرا ن خان کو بھی اب ریاست کے ساتھ تعاون کا راستہ کھولنا چاہیے، مقتدرہ سے لڑائیاں اور گالی گلوچ کرنے والوں کی نہ سنیں اور ایک بالغ النظر سیاستدان کی طرح ماضی کی تلخیاں بھلا کر تاریخ کا نیا ورق الٹیں، اسی میں ملک وقوم

انڈین بلائینڈ ٹیم نے پاکستان کو 46 رنز سے ہرا دیا

اور عوام کی بھلائی ہے

Back to top button