عمران خان کے ترلوں کے باوجود امریکہ محتاط کیوں؟

عمران خان کی جانب سے ملکی سیاست میں مداخلت کیلئے ترلوں اور منتوں کے باوجود امریکہ پاکستان کی سیاسی صورتِ حال پر محتاط ردِعمل دینے پر اکتفا کر رہا ہے۔امریکہ میں مقیم عمرانڈو بھی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جھوٹے الزامات پر  امریکی قانون سازوں سے رُجوع کر رہے ہیں تاہم امریکہ اس حوالے سے کوئی بھی جارحانہ بیان دینے سے انکاری ہے ۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی کانگریس کے 60 سے زائد اراکین نے امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کو لکھے گئے ایک خط میں زور دیا تھا کہ وہ حکومت پاکستان کو باور کرائیں کہ وہ ملک میں انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ عمران خان نو مئی کے بعد اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف ہونے والی انتظامیہ کی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی سطح پر بھی اٹھاتے ہوئے مسلسل ریاست مخالف پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔لیکن شہباز شریف ایک ٹویٹ میں یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان انسانی حقوق سے متعلق اپنی آئینی ذمے داریوں کا مکمل احترم کرتا ہے اور نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق کی جائے گی۔ تاہم امریکہ اس حوالے سے مسلسل محتاط رد عمل اپنائے ہوئے ہے اس حوالے سے سینئر تجزیہ کار ظفر جسپال کہتے ہیں کہ امریکی قانون سازوں کی رائے اہمیت رکھتی ہے لیکن اس وقت امریکی انتظامیہ پاکستان کے بارے میں کھل کر کوئی بیان دینے کے معاملے میں بظاہر محتاط ہے کیوں کہ ماضی کی نسبت امریکہ کا پاکستان پر اثرو رسوخ کم ہو گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور ایک جوہری ملک ہونے کے ناطے نہ صرف خطے بلکہ مغربی ممالک بشمول امریکہ اور چین کے لیے بھی اہم ہے۔ظفر جسپال کہتے ہیں کہ اگر پاکستان میں اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات وقت پر ہو تے ہیں تو شاید پاکستان میں جاری سیاسی بحران تھم جائے لیکن اگر یہ انتخابات التوا کا شکار ہوتے ہیں تو پھر امریکی حکومت کا ردِعمل مختلف ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اعجاز خان کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے لیے یہ حیرت کی بات ہے کہ عمران خان نے گزشتہ سال اپنی حکومت گرانے میں امریکہ پر ساز با ز کا الزام عائد کیا تھا لیکن وہاں اب تحریک انصاف کے حامی عمران خان کے لیے لابنگ کر رہے ہیں۔ اعجاز خان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس لیے محتاط ردِعمل اپنائے ہوئے ہے تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات اکتوبر سے آگے جاتے ہیں تو ملک میں ایک آئینی بحران پیدا ہو جائے گا تو پھر پاکستان کے اندر بھی صورتِ حال تبدیل ہو سکتی ہے۔ لہذٰا بائیڈن انتظامیہ بھی شاید خاموش نہ رہے اور بین الااقوامی سطح پر بھی پاکستان کے لیے صورتِ حال تبدیلی ہو سکتی ہے۔

لیکن تجز یہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ امریکہ کو پاکستان کی صورتِ حال پر تشویش تو ضرور ہو گی لیکن پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر شاید ہی کوئی بڑا اثر پڑے گا۔اُن کے بقول پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اس وقت نہایت نچلی سطح پر ہیں اور دونوں ممالک نہیں چاہتے کہ یہ مزید خراب

اداکار جاوید شیخ نے جوانی میں کتنے عشق کئے؟

ہوں۔

Back to top button