عمران خان کا فوج کے خلاف دہشت گردی کا منصوبہ کیسے ناکام ہوا؟

تحریک انصاف نے عمران خان کی گرفتاری سے پہلے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دی۔ یہ سب کوئی اچانک نہیں ہوا ہے، سب جگہیں پہلے سے طے تھیں۔ یہ طے تھا کہ ہر شہر میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے۔ منصوبہ یہ تھا کہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ باہر نکلیں گے جن کی آڑ میں فوجی تنصیبات جلا کر یہ تاثر دینا تھا کہ لوگ فوج سے ناراض ہیں، عوام فوج کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں۔ لیکن سب غلط ہوگیا۔ پی ٹی آئی کے شرپسندوں کے علاوہ عام لوگ نکلے ہی نہیں اور سارے اندازے غلط ثابت ہو گئے۔ مزمل سہروردی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک میں عجیب قسم کا احتجاج ہوا ہے،اس احتجاج کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ سیاسی جماعتوں کے احتجاج کی ایک تاریخ ہے لیکن تحریک انصاف نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

سیاسی جماعتوں اور جنگجو تنظیموں کے احتجاج میں فرق رہا ہے لیکن تحریک انصاف نے یہ فرق ختم کر دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں عوامی حمایت سے اپنے احتجاج میں وزن پیدا کرتی ہیں جب کہ ہتھیار بند تنظیمیں گھیراؤ جلاؤ اور قتل وغارت سے اپنے احتجاج میں وزن پیدا کرتی ہیں۔

سیاسی جماعتوں کی کال پر ہڑتال ہو تی رہی ہے، لیکن سیاسی جماعتوں نے کبھی ڈنڈے کے زور پر دکانیں نہیں بند کرائیں۔ سیاسی جماعتیں پہیہ جام ہڑتال کی کال بھی دیتی رہی ہیں لیکن کبھی ٔگاڑیوں کو آگ نہیں لگائی جاتی۔ سیاسی جاعتیں سڑکیں بلاک کرتی رہیں، لیکن سیاسی جماعتوں نے کبھی فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔
سیاسی جماعتیں پولیس سے مڈ بھیڑ کرتی رہی ہیں۔ لیکن سیاسی جماعتوں نے کبھی اسلحہ نہیں اٹھایا۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ عوام ہی ان کی طاقت رہی ہے، جب کہ عسکری تنظیمیں اپنی عسکری طاقت کو ہی اپنی اصل طاقت سمجھتی رہی ہیں۔

مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ عمران خان کی گرفتاری پاکستان میں کسی بھی سیاسی رہنما کی کوئی پہلی گرفتاری نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی سیاسی رہنما گرفتار ہوتے رہے ہیں۔ ان گرفتاریوں پر احتجاج بھی ہوتے رہے ہیں۔ لیکن کبھی سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری پر ملک کی فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ مزمل سہروردی سوال پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی سمجھا سکتا ہے کہ کور کمانڈر کے گھر کو آگ لگا کر کونسا سیاسی احتجاج کیا گیا۔ کیا کوئی سمجھا جا سکتا ہے کہ کاکول اکیڈمی کو نشانہ بنا کر کونسا سیاسی احتجاج کیا گیا ہے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ایئر فورس کی بیس کو نشانہ بنا کر ملک کی کونسی خدمت کی گئی ہے۔ شہدا کی یادگاروں کو آگ لگا کر کونسا سیاسی احتجاج کیا گیا۔ اس کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کون سی مثال ہے۔ کیا تحریک انصاف نے سیاسی لڑائی کے بجائے پاک فوج سے لڑائی شروع کر دی ہے، یہ کیا سیاست ہے۔ تحریک انصاف نے عمران خان کی گرفتاری سے پہلے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دی۔ یہ سب کوئی اچانک نہیں ہوا ہے، سب جگہیں پہلے سے طے تھیں۔ یہ طے تھا کہ ہر شہر میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے۔اس لیے یہ سب ایک سیاسی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔ پھر سوال ہے کہ غلطی کہاں ہوئی، کیا عمران خان اور کے ساتھی منصوبہ سازوں کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کا نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوگا۔ کیا انھیں رد عمل کا اندازہ نہیں تھا۔ دراصل تحریک انصاف کو یقین تھا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد شدید عوامی ردعمل ہوگا۔ عوام بڑی تعداد میں باہر نکلیں گے۔ ہر شہر میں ہزاروں لاکھوں لوگ باہر نکلیں گے‘ عمران خان پاکستان کے طیب اردگان اور آیت اﷲ خمینی بن چکے ہیں، اس لیے اتنی بڑی تعداد میں لوگ باہر نکلیں گے کی سنبھالے نہیں جائیں گے۔ اس تناظر میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ سوچ یہ تھی کہ جب لاہور میں ہزاروں لاکھوں لوگ سڑکوں پر ہوں گے تو انھیں کنٹونمنٹ کی طرف لے جایا جائے گا۔ کور کمانڈر کا گھر اور دیگر دفاتر نشانہ بنائے جائیں گے اور تاثر ملے گا کہ عوام کے جم غفیر نے فوج کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ بیانیہ بنایا جائے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ باہر نکل آئے کہ کوئی سنبھال ہی نہیں سکا۔لاکھوں لوگ از خود ہی ادھر چلے گئے، یہ عوام کا فطری ردعمل لگے گا۔ یہ ایک شاندار اسکرپٹ تھا۔ یہ تاثر دینا تھا کہ لوگ فوج سے ناراض ہیں، عوام فوج کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں۔ لیکن سب غلط ہوگیا۔ لوگ ہی نہیں نکلے۔ سارے اندازے غلط ثابت ہو گئے۔ جن لوگوں کی ڈیوٹیاں تھیں، وہ تو ڈیوٹی پر موجود تھے۔ لیکن پاکستان کی عوام نہیں آئے،آپ لاہور کی کور کمانڈر کے گھر کی مثال لے لیں۔ اگر صرف دس پندرہ ہزار لوگ بھی موجود ہوتے تو کیا تاثر بنتا ؟ لیکن صرف تحریک انصاف کے چند سو کارکن موجود تھے، جتنی بھی ویڈیوز آئی ہیں، ان میں تحریک انصاف کے وہ کارکن نظر آتے ہیں جن کے پاس ٹاسک موجود تھا۔ لیکن عوام کی غیر موجودگی نے سارے منصوبے کو ناکام کر دیا ہے۔ اب یہ عوامی ردعمل نہیں بلکہ تحریک انصاف کی دہشت گردی بن گیا ہے۔ مزمل سہروردی کے مطابق پورے ملک میں جہاں بھی مظاہرے ہوئے ،کہیں بھی عوام کی شرکت مثالی نہیں تھی۔ کہیں بھی لاکھوں لوگ نہیں نکلے۔ پشاور میں بھی تعداد سیکڑوں میں ہی تھی۔ ریڈیو پاکستان کے دفتر کو نذر آتش کرنے والے شرپسند محدود تعداد میں تھے، ایسا نہیں تھا کہ ہزاروں لوگ ریڈیو پاکستان پشاور کے دفتر میں داخل ہو گئے۔ اس لیے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ عوام نہیں نکلے ۔ صرف تحریک انصاف کے سیاسی کارکن اور ان کے رہنما نکلے ہیں کیونکہ ان کی مجبوری تھی۔ عوام کی کوئی مجبوری نہیں تھی، اس لیے عوام نہیں نکلے۔ عمران خان کی یہ سوچ نئی نہیں ہے، ان کی بیس سال پرانی ویڈیو موجود ہے کہ اگر دس پندرہ ہزار لوگ نکل آئیں تو جنرلز ڈر جائیں گے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر چند ہزار لوگ بھی باہر آجائیںاور اس کے ساتھ تربیت یافتہ کارکنوں کی طاقت ہو تو فوج کو شکست دی جا سکتی ہے،اس لیے وہ ایک سال سے اپنے حامیوں کو فوج کے سامنے کھڑ اکرنے کا ماحول بنا رہے تھے۔ میر جعفر سے جانور تک کا بیانیہ سب اسی حکمت عملی کا حصہ تھا کہ عوام کو فوج کے سامنے کھڑا کیا جائے۔ لیکن آخری معرکہ میں عمران خان اس لیے شکست کھا گئے ہیں کہ دس پندرہ ہزار لوگ بھی نہیں آئے، بغیر لوگوں کے عمران خان کا اسکرپٹ دہشت گردی ہے اور آج یہ نظر آرہی ہے۔

Back to top button