عمران خان کی قید سے فوری رہائی نا ممکن کیوں؟

عمران خان نے آئین کی خلاف ورزی کی، اسمبلیوں کی تذلیل کی، ان کو بے توقیر کیا، ریاستی اداروں میں تصادم کروایا، سفارتی سطح پر تعلقات خراب کیے، معاشی حالات دانستہ طور پر خراب کیے، ہر فیصلے کو اپنی پسند نا پسند کی بنیاد پر کیا گویا پورے نظام اور حکومت کو برباد کر کے رکھ دیا۔ اب مدتوں قوم اس کا خمیازہ بھگتے گی تاہم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والی شرپسندی سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس سرکشی کا خمیازہ عمران خان کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ ایک بات طے ہے کہ اب عمران خان کو حوالات سے نکل کر پھر حوالات میں ہی رہنا ہے
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار عظیم چودھری نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ عظیم چودھری کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں حسین شہید سہروردی، مولانا مودودی، مفتی محمود، شاہ احمد نورانی، ذو الفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نصرت بھٹو، مولانا عبد الستار نیازی، معراج محمد خان، رسول بخش پلیجو، جی ایم سید، ایئر مارشل اصغر خان، شیخ مجیب الرحمٰن، نواب زادہ نصر اللہ خان، قاضی حسین احمد، سید منور حسن، ملک محمد قاسم، نواز شریف، آصف علی زرداری اور جانے کون کون سی ایسی شخصیات تھیں جو گرفتار ہوا کرتی تھیں اور ایک بار نہیں بار بار مگر کبھی نہ ہنگامہ ہوا نہ فوجی افسران کے گھروں اور ریڈیو اسٹیشن وغیرہ کو آگ لگی تھی۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے کرپشن کے ایک مقدمے میں گرفتار ہوتے ہی ملک میں پر تشدد مظاہرے و فسادات شروع ہوگئے۔ ایسا بنگلہ دیش کے قیام سے قبل ہوا تھا۔ سوچنے کی بات تو یہ بھی ہے کہ سینیٹر اعجاز چوہدری جو کہ میاں طفیل محمد کے داماد بھی ہیں آخر کیوں کر عمران خان کی سیاست کو فوجی ٹکراؤ کی طرف لے جانے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کے ساتھ میاں محمود الرشید، پنجاب کے سابق وزیر تعلیم ملک غلام نبی کی بہو ڈاکٹر یاسمین راشد کیا چاہتے ہیں؟ سیاست دان خود غرض اور خود پسند تو ہوتا ہی ہے مگر ذہنی طور پر وہ مستقبل کی جانب نظر اٹھا کر جائزہ لینے کی صلاحیت کا بھی مالک ہوتا ہے۔
عمران خان کی تحریک انصاف پر پابندی عائد ہوسکتی ہے اس کو ملک میں بد امنی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے لیکن یہ مسئلے کا حل ہوگا یا نئے مسائل کو جنم دے گا؟ یہ حکومت اور عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہیں تاہم ایک جانب طے ہے کہ اب حوالات سے نکل کر پھر حوالات میں ہی رہنا ہے۔ جوڈیشل ریمانڈ کے بعد پھر جوڈیشل ریمانڈ ہوگا۔ عدالتوں نے عبوری ضمانت منظور کر رکھی ہے اور ایسے ملزم کے لیے تفتیش میں شریک ہونا اور عدالت میں حاضری لگوانا ضروری ہوتا ہے لیکن جسمانی ریمانڈ کے ساتھ نہ تو کسی دوسرے مقدمے میں شامل تفتیش ہوسکتے ہیں اور نہ ہی عدالت میں جاکر عبوری ضمانت میں توسیع ہوسکتی ہے گویا ایک مقدمے میں ضمانت ہوگئی تو دوسری میں گرفتاری اور اس دوران 14 مئی کی تاریخ تو گزر ہی جائے گی اور انتخابات نہیں ہوں گے۔
توہین پارلیمنٹ یا توہین عدالت میں سے کیا کار گر ہوگا چند دن میں معلوم ہوجائے گا۔ فارن فنڈنگ یا ممنوعہ فنڈنگ کے معاملات بھی ابھی حل طلب ہیں۔ بچی کے معاملے میں نااہلی کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ توشہ خانہ کے لیے غالباً 13 مئی کو پھر سماعت ہونی ہے۔ جہاں تک آئی ایس پی آر کا بیان ہے تو واضح ہے کہ جن جن کی نشان دہی ہوچکی ہے ان کے خلاف مقدمات تو بن کر رہیں گے، گرفتاریاں بھی ہوں گی اور کارِ سرکار میں مداخلت، فوج پر حملہ، ان مقدمات کو فوجی عدالتوں میں بھی لے جایا جاسکتا ہے۔
پنجاب کے اکثر سیاست دان فوج کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرتے ہیں اور مثال کے لیے چوہدری پرویز الٰہی ہی کافی ہیں۔ ایسے ریٹائرڈ فوجی جن کے بارے میں معلومات ہیں ان کے خلاف کارروائی کی توقع ہے، ان پر اگر مقدمات بنے تو یقیناً فوجی عدالتوں میں ہی فیصلہ ہوگا اور اگر کہیں مماثلت یا موافقت نظر آئی یا امداد کی گواہی ملی تو پھر سب کا معاملہ ایک ہی ہوگا۔
پنجاب میں دفعہ 245 کے تحت فوج کا سول انتظامیہ کی مدد کو آنا کسی عدالت میں چیلنج ہوا تو صورتحال مختلف ہوگی اور یہ معاملہ ایمرجنسی کی طرف بھی جاسکے گا اور اس کے تحت عدالت کا دائرہ کار مختصر ہو جاتا ہے۔ 1977ء میں دفعہ 245 کے تحت فوج کے لاہور آنے پر عدالتی فیصلہ ہوا تھا مگر اثرات اچھے نہ ہوسکے تھے آج کی صورت حال میں جب کہ کے پی کے اور پنجاب میں بے امنی ہے اور یہ مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے تو پھر منصفانہ، آزادانہ اور غیر جانب دارانہ انتخابات کیسے ہو سکیں گے؟ اور اگر عمران خان کو سزا ہوگئی تو پی ٹی آئی کے کئی ٹکڑے ہوں گے اور جوتیوں میں دال بٹے گی۔
