عمران کے سر کی بالٹی اور وہیل چیئرکہاں گئی؟

عمران خان کے پچھلے کچھ عرصے سے رچائی گئی ڈرامے بازی بے نقاب ہو گئی۔ ماضی قریب میں بغیر کسی شیلٹر اور وہیل چیئر کے عدالتی پیشی سے انکار کرنے والے عمران خان نہ صرف بغیر لنگڑے پن کے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی سیکیورٹی اہلکاروں کے جھرمٹ میں نہ تو ان کی ٹانگ پر سوجن آئی اور نہ ہی انھوں نے وہیل چیئر کا کوئی تقاضا کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے رینجرز کے ہاتھوں عمران خان کی گرفتاری سے جہاں عمرانڈو ججز کھل کر سامنے آ گئے ہیں وہیں رینجرز بڑی سرجن ثابت ہوئی ہے جس نے ایک دن میں زخمی ٹانگ کے درد میں مبتلا لنگڑے کو اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا ہے جو عمران خان چند قدموں بعد ہی وہیل چئیر طلب کرتا تھا اب دوڑتا پھرتا ہے اور اسے ٹانگ درد کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا
12 مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سخت سکیورٹی میں پولیس لائن گیسٹ ہاؤس سے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے ‘اس موقع پر انہوں نے سرپر بالٹی رکھی نہ ان کے اطراف میں حفاظتی شیلڈتھی اور نہ ہی عمران خان نے وہیل چیئراستعمال کی۔ وہ خودچل کر بائیومیٹرک کرانے گئے ‘میڈیا کے سوالوں پر مسکراتے رہے ‘ نعروں پر ہاتھ بھی ملایا۔ دریں اثناء تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی فرد تمام واقعات کا ذمہ دار ہے اور وہ ہے آرمی چیف۔اس کو خدشہ تھا کہ میں اقتدار میں آ کر اسے ڈی نوٹیفائی کر دوں گا‘میں نے کسی کو ڈی نوٹیفائی نہیں کرنا تھا۔ عمران خان نے مزید کہا کہ اگر انہیں دوبارہ گرفتار کیا تو پھر وہی رد عمل آئے گا اور وہ نہیں چاہتے کہ ایسی صورتحال دوبارہ پیدا ہو‘مجھے گرفتار کیا تو پولیس کیلئے مشکل ہو گی‘ خبردار کررہا ہوں حالات خراب ہو جائیں گے‘میں اگر گرفتار ہوگیا تو عوام کو کنٹرول کون کرے گا‘ عوام اور فوج کا آمنا سامنا کرایا جا رہا ہے۔
عمران خان جب اسلام آباد ہائیکورٹ میں بائیومیٹرک کرانے کے بعدنکلے تو انہوں نے کیمروں کو دیکھ کر وکٹری کا نشانہ بنایا۔نمائندہ جیونیوز نے عمران خان سے پوچھا کہ دورانِ قید آپ کی اسٹیبلشمنٹ سے ملاقاتیں ہوئیں؟ اس پر عمران خان نے نفی میں سر ہلایا۔نمائندے نے سوال کیا کہ کیا آپ ڈٹے ہوئے ہیں یا ڈیل کرلی ہے؟ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی مسکرادیے ۔نمائندے نے مزید پوچھا کہ آپ کی خاموشی کو سمجھیں کیا ڈیل کرلی گئی ہے؟ اس پر عمران خان نے منہ پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔اس موقع پر ایک صحافی نے عمران خان سے کہا کہ آپ پہلے وہیل چیئر پر آئے تھے اور صحت یاب لگ رہے ہیں اس پر بھی سابق وزیراعظم نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بعد ازاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ مجھے نیب نےاپنی اہلیہ سے بات کرنے کی اجازت دی تھی، ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ کو گرفتاری کے دوران فون مل گیا تھا ؟ اس پر عمران خان نے بتایا کہ میں نے لینڈ لائن کے ذریعے بات کی تھی۔صحافی نے سوال کیا کہ فون آپ کو اہلیہ سے بات کرنے کے لیے دیا گیا تھا ، آپ نے مسرت چیمہ کو ملادیا؟ عمران خان نے جواب دیا کہ بشریٰ بی بی سے بات نہیں ہو سکی تھی۔انہوں نے کہا کہ مجھے 100 فیصد خدشہ ہے کہ گرفتار کرلیا جاؤں گا، اگر ضمانت منسوخ ہوئی تو مزاحمت نہیں کروں گا ۔ بعد ازاں عمران خان نے گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر اپنی لیگل ٹیم سے رابطہ کیا اور انہوں نے حامد خان سے کہا کہ پنجاب پولیس مجھے گرفتار کرنے کے لیےباہر کھڑی ہے۔علاوہ ازیں چیئرمین تحریک انصاف نے کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج عوام سے خطاب کروں گا اور کہوں گا کہ پر امن رہیں۔عمران خان نے کہا کہ عوام سے خطاب میں کہوں گا کہ یہ ملک اور فوج اپنی ہے‘لیڈر کے بغیر عوام کو کنٹرول کرنا مشکل ہے۔حقیقی آزادی کیلئے جنگ جاری رہے گی۔
عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت میں وقفے کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ میری گرفتاری کے بعد جو کچھ ہوا اس کی ایک سال کی تاریخ ہے۔ میرے گھر پر حملہ کیا گیا‘اب تک ایک سال میں 5000لوگوں کو گرفتار کیا چکا ہے۔پاکستانی فوج پر تنقید سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ مجھ پر دو قاتلانہ حملے ہوئے اور میں نے صرف اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اسے بھی رد کر دیا گیا۔انھوں نے مجھے وزیرآباد اور پھر جوڈیشل کمپلیکس میں مارنے کی کوشش کی تھی۔ اگر میں جوڈیشل کمپلیکس چلا جاتا تو مجھے مار دیا جاتا۔
