عمران کی کونسی یکیاں پی ٹی آئی کو لے ڈوبیں؟

1992 کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان عمران خان نے تین دہائیوں کے بعد اسی کپتانی کے زعم میں ایسی ایسی یکیاں کر چھوڑی ہیں کہ اب تحریک انصاف سیاسی میدان میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔ کپتان شاید بھول گئے کہ ہر میدان کھیلنے کا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر کھیل میں گیندیں کرائی جاتی ہیں۔ خیر خان صاحب نے جیسے تیسے بیس بائیس سالوں میں تحریک انصاف کو تناور درخت بنایا اور جس طرح نام نہاد پیری فقیری کے جھانسے میں آ کر اس کی جڑیں کاٹیں، بڑے سے بڑا سیاسی ماہر بھی اس کی نفسیات سمجھنے سے قاصر ہے۔۔تاہم سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے ایک ٹی وی شو میں گفتگو کے دوران چند بنیادی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے، ان کے خیال میں دراصل یہ پرو اسٹیبلشمنٹ پارٹی تھی جس میں شامل ہونے والے تمام گروہ نواز شریف یا آصف زرداری کے مخالف اور فوج کی پالیسیوں کے حمایت یافتہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بلاول بھٹو زرداری نے فلور آف دی ہاؤس پر 2018 میں برسراقتدار آنے والی خان صاحب کی حکومت کو ”سلیکٹڈ“ کہا تھا تو یہ ایک حیران کن عمل نہیں تھا، خیر جلد ہی یہ اصطلاح زبان زدِ عام ہو گئی۔۔سہیل وڑائچ نے بھی واضح الفاظ میں اسے فوج کی حمایت یافتہ جماعت قرار دیا لیکن خان صاحب کو یہ عزت راس نہیں آئی اور انھوں نے فوج کو للکار کے اپنے ہونے کی ہی نفی کر دی اور رہی سہی کسر 9 مئی کے واقعے نے پوری کر دی جسے سہیل وڑائچ 9/11 کے مشابہہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں اسے نظریاتی تصادم بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ خان صاحب کی بہت بڑی غلطی ہے جس کا مداوا ضروری ہے۔ خان صاحب جتنی دیر کریں گے، دلدل اتنی گہری ہوتی چلی جائے گی۔ سہیل وڑائچ نے خان صاحب کو انتہائی کھلے لفظوں میں پیغام دیا کہ 9/5 کے واقعہ کی صرف مذمت کافی نہیں اس میں ملوث اپنے ورکرز اور راہنماؤں سے فوری طور پر لاتعلق ہو جائیں اور اپنی مقبولیت کی لہر کو احتجاجی سیاست کی بجائے انتخابی سیاست کے لئے استعمال کریں۔۔یعنی موجودہ حالات میں انھیں ایک اور ”یوٹرن“ کی ضرورت ہے، اس وقت ان کا فوکس اقتدار پر ہی رہنا چاہیئے ورنہ نہ تو یہ شدت پسند اور نہ ہی نظریاتی پارٹی رہے گی بلکہ بکھر جائے گی اور اقتدار کے لئے ہر عمل کو جائز ماننے والے خان صاحب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے یا کسی دربار کی چوکھٹ پر بیٹھے تعویذ بانٹ رہے ہوں گے۔
کئی دیگر تجزیہ کار بھی کم از کم اس بات سے متفق ہیں کہ خان صاحب بہت سے فیصلے زمینی حقائق کے مطابق نہیں بلکہ کپتانی کی ترنگ میں کرتے ہیں، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں خان صاحب جیسے یو ٹرن شاید ہی کسی اور سیاستدان نے لئے ہوں۔۔ان کی اپنی پارٹی رہنماؤں نے متعدد بار انھیں اسٹیبلشمنٹ سے الجھنے سے منع کیا اور انھیں سمجھایا کہ ابھی تحریک انصاف ن لیگ یا پیپلزپارٹی کی طرح پختہ جماعت نہیں اور نہ ہی خان صاحب آصف زرداری یا نواز شریف کی طرح جیل کی کال کوٹھری کو جھیل پائیں گے۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں بھی پی ٹی آئی محض انتخابی پارٹی ہے اور خان صاحب بھی چونکہ اقتدار ہی کی خواہش رکھتے ہیں لہٰذا انھیں الیکشن پر ہی جمے رہنا چاہیئے تھا۔۔اگرچہ اس صورت میں بھی اسٹیبلشمنٹ سے بگاڑ کی انھیں بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے!!
