کیا صدر علوی اب بھی عمران خان کے وفادار ہیں؟

سویلین اور ملٹری قیادت کی جانب سے یوم سیاہ قرار دیے گئے دن یعنی 9؍ مئی کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعدجہاں ایک طرف عمران خان کو تمام شرپسندانہ کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ اور سرغنہ قرار دے کر ان کیخلاف ملٹری ٹرائل شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف تمام تر شرپسندی اور ملک دشمنی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صدر عارف علوی عمران خان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق پارٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ 9؍ مئی کے واقعات کے بعد عمران خان کے متعدد قریبی ساتھیوں سمیت پارٹی کے کئی رہنمائوں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی لیکن صدر علوی عمران خان کے وفادار رہے۔اگرچہ 9 مئی کے بعد صدر اور چیئرمین پی ٹی آئی کے درمیان کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہوئی تاہم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی رہنماؤں کیلئے ایوان صدر کے دروازے کھلے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی میں دوسرے درجے کے کچھ رہنما کبھی کبھار صدر سے ملاقات کرتے ہیں۔ تاہم حکومت کے پاس صدر مملکت اور عمران خان کے درمیان رابطوں کی معلومات بھی موجود ہیں۔وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ صدر عارف علوی عمران خان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ تاہم وزیر داخلہ نے کہا کہ 9 مئی کے حملوں کے بعد صدر علوی کے حکومت کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان رئوف حسن سے جب رابطہ کیا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا صدر اور پی ٹی آئی چیئرمین اب بھی رابطے میں ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اس سوال کا جواب نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ صدر علوی گزشتہ ایک سال سے عمران خان اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد صدر علوی نے اُس وقت کے آرمی چیف اور عمران خان کے درمیان تعلقات کو خوشگوار بنانے کیلئے کوشش کی۔صدر نے دونوں کے درمیان ایوان صدر میں کم از کم ایک ملاقات کا بھی اہتمام کیا لیکن عمران خان جو چاہتے تھے وہ سابق آرمی چیف نے نہیں کیا۔ عمران خان اعلیٰ عسکری قیادت سے پی ڈی ایم حکومت کو ہٹانے اور اقتدار میں واپسی کیلئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سابق آرمی چیف نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے تقرر کے بعد صدر علوی نے ایک مرتبہ پھر آرمی چیف اور چیئرمین پی ٹی آئی کے درمیان رابطے کی کوشش کی۔جنرل (ر) باجوہ کے برعکس، جو حکومت اور اپوزیشن رہنمائوں سے ملاقات کرتے تھے، جنرل عاصم عمران خان سمیت کسی سیاست دان سے ملاقات کیلئے تیار نہیں۔عمران خان نے ایک سے زیادہ مرتبہ اعتراف کیا کہ جنرل عاصم منیر سے رابطے کی ان کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
انصار عباسی کے مطابق صدر عارف علوی اگرچہ عمران خان کے ساتھ قربت رکھتے ہیں لیکن 9؍ مئی کے واقعات نے ان کیلئے حالات مشکل بنا دیے ہیں کیونکہ ساتھ ساتھ وہ ریاست کے سربراہ اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف بھی ہیں۔حکومت اور مسلح افواج نے 9؍ مئی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا تھا اور واقعات کا ذمہ دار عمران خان کی زیر قیادت پی ٹی آئی کو قرار دیا تھا۔ عمران خان کا اصرار ہے کہ یہ ان کے خلاف سازش ہے۔انہوں نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو اپنے اور پی ٹی آئی کے خلاف سازش کا ذمہ دار قرار دیا۔ 9 مئی کو پی ٹی آئی کے مظاہرین کی جانب سے مسلح افواج کی عمارتوں اور علامات پر حملوں کے بعد، صدر مملکت اپنے ابتدائی ردعمل میں مظاہرین کے پاک فوج کیخلاف اقدامات کی بجائے عمران خان کے بارے میں زیادہ فکر مند نظر آئے۔
عمران خان کی طرح، صدر مملکت کا خیال تھا کہ 9 مئی کو پیش آنے والے واقعات عمران خان کی گرفتاری اور ان کے روا رکھے گئے سلوک کا رد عمل تھے۔ دوسری جانب پاک فوج اور قومی سلامتی کمیٹی نے ان واقعات کو طے شدہ منصوبہ بندی قرار دیا۔9مئی کے حملوں پر صدر کے ابتدائی ردعمل کے حوالے سے میڈیا کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے بعد صدر عارف علوی نے چند روز بعد جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کو چاہئے کہ وہ 9 مئی کے حملوں کی شدید مذمت کریں۔حملوں کی تحقیقات کے پیش نظر اور گرفتار افراد کے بیانات کی روشنی میں حکومت اور فوج کا دعویٰ ہے کہ منصوبہ سازوں کیخلاف پختہ ثبوت موجود ہیں۔ حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو 9 مئی کے حملوں کے "ماسٹر مائنڈ” کے طور پر دیکھتی ہے۔حکومت نے اس ضمن میں کھل کر بیان دیا ہے جبکہ فوج نے خود کو صرف بالواسطہ اشاروں تک محدود رکھا۔
اس صورتحال میں صدر عارف کے عہدے پر سوال اٹھتا ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں؟ دی نیوز نے صدر مملکت کے پریس سیکرٹری سے رابطہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آیا ڈاکٹر علوی اب بھی عمران خان سے رابطے میں ہیں، اس پر ان کا جواب تھا کہ میرے لیے یہ ایک عجیب سوال ہے۔ ایوان صدر کے ترجمان نے کہا کہ پریس سیکرٹری کی حیثیت سے میں صدر مملکت سے کیسے سوال کر سکتا ہوں کہ کیا وہ عمران خان کے ساتھ رابطے میں ہیں
عمرانڈو شہزاد اکبر اب نواز شریف کی خوشامد کیوں کر رہے ہیں؟
یا نہیں۔
