عمرانڈو شہزاد اکبر اب نواز شریف کی خوشامد کیوں کر رہے ہیں؟

تحریک انصاف حکومت میں مخالفین کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے لئے بدنام سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر احتساب مرزا شہزاد اکبر اس وقت ملک سے مفرر ہیں۔ آج کل وہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش میں ہیں، اسی لیے وہ نواز شریف کی تعریف کرتے بھی نظر آتے ہیں۔لندن میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ نواز شریف اچھے آدمی ہیں، جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ ہمارے خلاف تھے اور وہ تباہی کے ذمہ دار ہیں، ملک کی موجودہ حالت کے ذمہ دار قمر جاوید باجوہ ہیں۔ نو مئی کے بعد شہزاد اکبر کا ٹوئٹر ہینڈل تقریبا خاموش ہی ہے۔ گو انھوں نے تحریک انصاف سے باقاعدہ علیحدگی کا اعلان نہیں کیا لیکن پارٹی سے دوری صاف نظر آ رہی ہے۔
جتنے وہ پاکستان سے دور ہیں، اب اتنے ہی عمران خان سے بھی دور ہو چکے ہیں. شہزاد اکبر اپنے لیے محفوظ راستے کی تلاش میں ہیں لیکن ابھی ان کو محفوظ راستہ نہیں مل رہا. سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروردی اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کو عدالت نے منی لانڈرنگ کے تمام الزامات سے بری کر دیاہے۔ ان پر بنائے گئے مقدمات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا ہے۔ بات صرف اتنی ہی نہیں ہے بلکہ عدالت نے سلمان شہباز پر جھوٹا مقدمہ بنانے پر شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے افسران کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ شہزاد اکبر سلمان شہباز کو مجرم ثابت کرنے کے لیے چار سال بہت زور لگاتے رہے ہیں۔ اسی لیے عدالت کے سامنے یہ بات آئی ہے کہ ایف آئی اے نے شہزاد اکبر کے کہنے پر غلط طورپر سلمان شہباز کے خلاف مقد مہ بنایا۔ جب کہ سلمان شہباز کے خلاف ایف آئی اے کے پاس کبھی بھی کوئی بھی ثبوت نہیں تھا۔سلمان شہباز پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں تھا۔ ان پر سرکاری خزانہ کو نقصان پہنچانے کا کوئی الزام نہیں تھا۔ رشوت لینے کا کوئی الزام نہیں ہے۔ کک بیک کا کوئی الزام نہیں ہے۔پاکستانی قوانین کے تحت غیر قانونی طور پر پیسے پاکستان سے باہر بھیجنا جرم ہے۔ اور سلمان شہباز پر پیسے پاکستان سے باہر بھیجنے کا کوئی الزام نہیں تھا۔ سلمان شہباز اپنے بھائی اور والد کی وجہ سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنے۔
مزمل سہروردی کے مطابق سلمان شہباز سابق وزیر اعظم عمران خان کے خاص نشانے پر تھے۔ عمران خان سلمان شہباز کے خلاف جھوٹے مقدمات بنوانے میں ذاتی دلچسپی رکھتے۔ حالانکہ سلمان شہباز کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ شاید ان کا غیر سیاسی ہونا ہی ان کا سب سے بڑ اجرم بن گیا۔ عمران خان کا خیال تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز سیاسی لوگ ہیں۔ وہ جیل قید کاٹ لیں گے۔ لیکن جب سلمان شہباز قابو میں آجائیں گے تو کھیل بدل سکتا ہے۔ اسی کوشش میں سلمان شہباز کے خلاف تمام مقدمات بنائے گئے۔ لیکن سلمان شہباز عمران خان کے قابو نہیں آئے۔
سلمان شہباز بے گناہ ہیں، یہ بات اسٹیبلشمنٹ کو علم تھی، اسٹیبلشمنٹ سلمان شہباز کو پکڑنے اور ان پر مقدمات بنانے کے حق میں نہیں تھی لیکن شہزاد اکبر، عمران خان کے کہنے پر لگے رہے۔ سلمان شہباز کو پکڑنے کے لیے کئی اعلیٰ سطح میٹنگ ہوئیں، تاہم وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ جب سلمان شہباز اہل خانہ کو لے کر بیرون ملک چلے گئے تو ان کا لندن میں بھی بہت پیچھا جاری رہا، برطانیہ میں نیشنل کرائم ایجنسی کو سلمان شہباز اور شہباز شریف کے خلاف درخواست دی گئی۔
نیشنل کرائم ایجنسی نے سلمان شہباز کے خلاف طویل تحقیقات کیں، جب کچھ نہ ملا تو سلمان شہباز اور شہباز شریف کو کلین چٹ دے دی۔ آج جن الزامات سے سلمان شہباز پاکستان میں بری ہوئے ہیں، ایسے ہی الزامات سے وہ عمران خان کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے بری ہو چکے ہیں۔ برطانوی حکومت نے تحقیقات کے دوران ان کے اکاؤنٹس منجمد بھی کیے لیکن بعد میں سب کھول دیا، سب کچھ کلین قرار دے دیا۔
مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ سلمان شہباز ایک بڑی انتقامی کارروائی کا نشانہ رہے ہیں۔ اس دوران ان کے کاروبار کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ کوشش کی گئی کہ سارا کاروبار تباہ ہو جائے۔ بینکوں کے ذریعے بھی مقدمات بنانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن سلمان شہباز نے اس سارے حملے کو بھی ناکام بنایا، کاروبار کو نقصان ضرور ہوا ہے، لیکن اسے مکمل تباہ ہونے سے بچا لیاگیا اور یہ سار برا وقت گزار ہی لیا ہے۔ اس سب کے بعد کیا وہ افسران قانون کے کٹہرے میں آجائیں گے جنھوں نے یہ جھوٹے مقدمات بنائے۔
کیا ان افسران کا یہ کہنا کافی ہے کہ انھوں نے یہ سب شہزاد اکبر کے دباؤ پر کیا تھا؟ یہ درست ہے کہ عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے لیکن کیا اس حکم کے بعد سلمان شہباز اس کی فعال پیروی کریں گے؟ یہ ایک مشکل سوال ہے، وقت ہی اس کا جواب دے گا، سلمان شہباز کی بریت شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے لیے بھی بہت اہم ہے، اس لیے ان کے لیے
پاکستانی سیاستدانوں میں یوٹیوبر بننے کا رجحان کیوں؟
بھی اب سیاست آسان ہو جائے گی۔
