اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو ٹھینگا کیوں دکھا دیا؟

سینئر صحافی و تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی بات کر کے ایک موقع ڈھونڈنا چاہتی ہے، عمران خان چاہتے ہیں مذاکرات کیلئے کوئی پل کا کردار ادا کرے اسی لئے عمران خان نے صدر عارف علوی کو سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات کرنے کا پیغام بھیجا ہے.
جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا کہ پی ٹی آئی نو مئی کے واقعات بھلا کر ملک کے مفاد میں آگے بڑھنے کی بات کررہی ہے. تاہم تحریک انصاف نو مئی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے احساس ندامت کا اظہار کرے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے، عمران خان چاہتے ہیں مذاکرات کیلئے کوئی پل کا کردار ادا کرے،عاصمہ شیرازی کے بقول تحریک انصاف پر نو مئی کو بغاوت کے الزامات ہیں وہ انہی نتائج کا سامنا کررہی ہے، اصل سوال تو یہ ہے کیا عمران خان نو مئی کے واقعات پر ندامت کا اظہار کر کے معافی مانگیں گے؟، یہی وجہ ہے صد ر عارف علوی یہ معاملہ آگے لے کر نہیں چل پارہے۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی بات کر کے ایک موقع ڈھونڈنا چاہتی ہے، تحریک انصاف عمران خان کے فوجی عدالت میں ٹرائل سے بچنے کیلئے کوشش کرنا چاہتی ہے۔ عاصمہ شیرازی کے مطابق عمران خان نے صدر عارف علوی کو سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات کرنے کا پیغام بھیجا ہے، تاہم لگتا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے بعد ہی سیاسی جماعتوں سے بات چیت کا راستہ بن سکتا ہے، تاہم صدر عارف علوی اس وقت ثالث کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
دوسری جانب سینئر صحافی و تجزیہ کار وسیم بادامی نے کہا کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان برف پگھلنے کا امکان بہت کم ہے. کیونکہ عمران خان خود اقتدار میں کرونا اور کشمیر جیسے معاملات پر بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ بیٹھنے پر تیار نہیں ہوتے تھے، نگراں حکومت کے پی ٹی آئی سے رابطوں کا یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی انتخابی عمل کا حصہ نہ بنیں،خاموش رہیں اس کے بعد پی ٹی آئی کو محدود جگہ دیدی جائے۔
پروگرام میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتےہوئے کہا کہ عمران خان طاقتور حلقوں کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں، تحریک انصاف نے اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا بیک ڈور چینل کھول دیا ہے مگر کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آرہا ہے.شاہزیب خانزادہ نے مزید کہا کہ ایک وقت تھا جب تحریک انصاف کیلئے عدلیہ سہولت کاری کررہی تھی، اس جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کی غیرمشروط حمایت حاصل تھی، پی ٹی آئی کو مضبوط کرنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ افسران دوسری جماعتوں کو بزورطاقت توڑ کر اہم سیاسی رہنماؤں کی شمولیت کرواتے تھے. دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنما اچانک پریس کانفرنس کر کے تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کرتے تھے، عمران خان اپنی انا کے اس مقام پر پہنچ چکے تھے کہ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے امکان تک کو رد کردیا تھا، آج جیسے ہی وقت بدلا ، عدلیہ کی سہولت کاری بند ہوئی. اسٹیبلشمنٹ غیرمشروط حمایت سے پیچھے ہٹ گئی ، ا ب اسی تحریک انصاف سے سیاسی رہنماؤں کو علیحدہ کروایا جارہا ہے، دوسری سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا اعلان کروایا جارہا ہے، کل تک سیاسی جماعتیں مذاکرات کرنا چاہتی تھیں لیکن عمران خان تیار نہیں تھیں. آج عمران خان بات چیت کرنا چاہتے ہیں مگر دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ بھی ان کے ساتھ بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے، اس کے باوجود عمران خان طاقتور حلقوں کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں، تحریک انصاف نے اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا بیک ڈور چینل کھول دیا ہے مگر کوئی مثبت ردعمل
استحکام پاکستان پارٹی نے عقاب کا انتخابی نشان مانگ لیا
سامنے نہیں آرہا ہے۔
