امریکہ نےعمران کی KPK حکومت پر20 ارب روپے لٹا دیئے

امریکہ مخالف بیانیہ لے کرسڑکوں پرنکلنے والے سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنی خیبرپختونخوا حکومت اس وقت امریکہ کے ساتھ آئیڈیل تعلقات قائم کیے ہوئے ہے اوراربوں ڈالرز کی بھاری امریکی امداد کی صورت میں اس کا پھل بھی کھا رہی ہے۔

عمران خان کی جانب سے امریکی سفیر کے ساتھ ایک خفیہ ویڈیو ملاقات کے بعد اب معلوم ہوا ہے کہ امریکی ادارے یو ایس ایڈ نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی خیبر پختونخوا حکومت کے لیے 20 ارب ڈالر سے زائد کے نئے منصوبے شروع کیے ہیں۔ یاد رہے کہ پچھلے دنوں امریکی سفیر اورعمران خان کے مابین رابطہ بھی وزیر اعلیٰ محمود خان نے ہی کروایا تھا جس میں دونوں سائیڈز سے گلے شکوے کیے گئے تھے۔

دستاویزات کے مطابق تحریک انصاف کے موجودہ دور حکومت میں یو ایس ایڈ کی جانب سے 21 منصوبوں کا اغاز کیا گیا ہے جن پر 1500 ملین امریکی ڈالرز خرچ ہوں گے۔ اسکے علاوہ امریکی عوام کی طرف سے 130 ملین ڈالرز کے عطیہ کے ذریعے، امریکی حکومت پہلے ہی گومل زام ڈیم کو مکمل کر چکی ہے۔ یو ایس ایڈ سال 2022 اور سال 2023 کے دوران خیبر پختونخواکے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 19 ارب 81 کروڑ روپے کی گرانٹ کے ساتھ سب سے بڑا ڈونر ہے۔ بظاہر امریکہ مخالف عمران کی خیبر پختونخوا حکومت امریکی عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے صوبے میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، توانائی، گورننس، انسانی امداد، اقتصادی ترقی اور بحالی کے منصوبوں پر کام کروا رہی ہے۔

دستاویزات کے مطابق یو ایس ایڈ خیبرپختونخوا حکومت اور صوبے کے مختلف اداروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ یو ایس ایڈ دہشتگردی سے متاثرہ سرکاری اسکولوں، صحت اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے پروگرام پر124 ملین ڈالر خرچ کر رہا ہے تاکہ ضروری فرنیچر اور لیبارٹری کا سامان فراہم کرکے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی ماحول کو بہتر بنایا جائے اور 2010 کے سیلاب سے تباہ شدہ آبپاشی اور مواصلاتی ڈھانچے کو بحال کیا جاسکے۔ یہ منصوبہ دیر اپر، دیر لوئر، مالاکنڈ، سوات، شانگلہ، بونیر، پشاور، نوشہرہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 2010 میں شروع ہوا اور ستمبر 2023 میں مکمل ہوگا۔اسی طرح میونسپل سروسز ڈیلیوری کا ایک اور اہم منصوبہ 2011 میں 56 ملین ڈالر کی رقم سے شروع کیا گیا اور امید ہے کہ ستمبر کے رواں مہینے میں مکمل ہو جائے گا۔

شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فریقین کونوٹس جاری

اس منصوبے کا بنیادی مقصد خیبرپختونخوا کے چھوٹے اوردرمیانے شہروں بشمول مالاکنڈ، پشاوراورڈیرہ اسماعیل خان میں شہریوں کی بنیادی ضروریات کو مؤثرطریقے سے پورا کرنے کے لیے میونسپل سروس کی فراہمی میں مسلسل بہتری لانا تھا۔

گومل زام ڈیم کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ پروجیکٹ ستمبر 2015 میں شروع کیا گیا تھا اور یہ جون 2024 میں 12.9 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوگا۔ اس سے کمانڈ ایریا میں191,000 ایکڑ رقبے پر پانی دستیاب ہوگا، جس سے کمانڈ ایریا کی مربوط ترقی، فارم واٹر مینجمنٹ، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، ویلیو ایڈیشن، پروسیسنگ اور ٹانک اورڈیرہ اسماعیل خان میں موثر مارکیٹنگ ہوگی۔ امریکی حکومت پہلے ہی گومل زام ڈیم کو مکمل کرچکی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی توانائی کی صلاحیت میں 17 میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے جو کہ 20 ہزارسے زیادہ گھروں کو بجلی فراہم کرنے اور30 ہزار گھرانوں کے لیے اقتصادی مواقع پیدا کرنے کی کافی صلاحیت رکھتا ہے۔

Back to top button