نشئی ہمیشہ خود کو دیوتا اور مخالف کو شیطان کیوں سمجھتا ہے؟

بند کمروں میں مجھے مارنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں، تم مجھے جانتے نہیں میں دیکھ لوں گا تمھیں یہ اور ان سے ملتی جلتی باتیں اکثر کوکین کا نشہ کرنے والے افراد اپنی بگڑی ذہنی حالت کی وجہ سے سرعام لوگوں کے درمیان کرتے رہتے ہیں، منشیات کے عادی مریضوں کا علاج کرنے والے ماہرین بتاتے ہیں کہ کوکین ایک بہت ظالم نشہ ہے جو جھوٹی خوشی، اعتماد اور توانائی کے ایسے چمتکار کرتا ہے کہ دنیا دنگ رہ جاتی ہے-

نشے کے بارے میں روایتی تصور کوکین پر پورا نہیں اترتا-یہ شراب سے برعکس اثر رکھتا ہے ، لیکن تباہی میں اس سے بھی بڑھ کر ہے-کوکین سے پیدا ہونے والا دماغی شک ایک اور ذہنی بیماری شیزوفرینیا جیسا نظر آتا ہے- بائی پولر ڈس آرڈر میں مبتلا لوگ کوکین کی علت گلے لگا لیتے ہیں اور دونوں  امراض مل کر دوآتشہ ہو جاتے ہیں- کوکین دماغ میں ڈوپامین نامی قدرتی کیمیکل  کا طوفان برپا کرتی ہے جسے یہ ساری دماغی تباہی آتی ہے- عام آدمی اس صورت حال کو بالکل نہیں سمجھ پاتا اور مریض کے ساتھ الجھتا ہے- اکثر لوگ تو ان مریضوں کو پیر مرشد کا درجہ دیتے ہیں کیونکہ کوکین کا نشئی عام لوگوں کے برعکس انہیں بڑا جرات مند اور کوئی پہنچی ہوئی ہستی دکھائی دیتا ہے مگر مشکل وقت میں یہی نشئی لوگوں کے پاؤں پڑتا بھی دکھائی دیتا ہے-

کوکین لینے والا مریض شک کی انتہا تک جاتا ہے اور منہ سے ایسی باتیں کرتا ہے جس سے سب کیلئے شرمناک صورت حال پیدا ہوجاتی ہے- کئی دفعہ تو خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں مثلاً یہ کہنا کہ ، بند کمروں میں مجھے مارے کی سازش ہو رہی ہے- ایسے میں وہ گھبرا کر خود ہی دوسروں پر حملہ آور ہو جاتا ہے- لوگ کہتے ہیں کہ کوکین کا نشہ اگر اتنا چست بنا دیتا ہے اور بجلیاں بھر دیتا ہے تو پھر ہر ایک کو یہ نشہ کرنا چاہیئے-یہی ہے وہ پھندا جس میں لوگ پھنستے ہیں- کوکین کے رسیا لوگوں میں سے دو تہائی پہلے شک کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں ، غصے کا سیلاب انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے؛ اور جب بھی کوکین کی لکیریں لگاتے ہیں تو خود کو مہان دیوتا اور دوسروں کو شیطان سمجھنے لگتے ہیں؛ بعض اوقات اردگرد کے کچھ لوگوں کو اپنا دشمن سمجھ کر پہلے حملہ آور ہونا پسند کرتے ہیں-ان چیزوں پر ان کی نظر نہیں جاتی جن سے حقیقی خطرہ ہوتا ہے-

کوکین سے نجات کے لئے علاج کا خیال بیمار کے اپنے دماغ میں نہیں آسکتا؛ ارد گرد کے لوگوں میں سے کوئی درد دل والا ہی زہر آلود خاموشی کو توڑ کر علاج کی راہ ہموار کرتاہے- علاج کیلئے ہسپتال میں داخل ہونا ضروری ہے تاکہ کوکین کا استعمال زیرو پر آجائے کیونکہ جب تک ایسا نہ ہو علاج شروع ہی نہیں ہو سکتا-

Back to top button