عمران خان حملہ کیس ، پرویز الٰہی کس مشکل میں ہیں

وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی نے عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی یعنی جے آئی ٹی سے خود کو شعوری طور پر دور رکھا ہے تاکہ تحقیقات کے نتائج خان صاحب کی توقع کے مطابق نہ آنے کی صورت میں وہ خود کو پی ٹی آئی کے الزامات سے بچا سکیں۔
سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق جے آئی ٹی کی تشکیل سے لیکر جے آئی ٹی کی معاونت کرنے والوں تک، وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کسی بھی معاملے میں مداخلت نہیں کی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو اپنی پسند کے جے آئی ٹی ارکان لگانے کے لیے فری ہینڈ دیے رکھا۔ اسی لیے عمران خان نے جے آئی ٹی کے دو سربراہ تبدیل کیے اور پھر بالآخر غلام محمد ڈوگر پر اتفاق کیا۔ پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب عمران کی جانب سے قاتلانہ حملے میں نامزد کیے جانے والے افراد کے ناموں سے بھی متفق نہیں تھے۔ ان کا موقف تھا کہ ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر کا نام نکال دیا جائے تو باقی تمام نام ایف آئی آر میں شامل ہوجائیں گے۔
لیکن جب عمران نہ مانے تو پھر فیصل نصیر کے علاوہ شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ خان کے نام بھی درج ہونے والی ایف آئی آر میں شامل نہیں کیے گے۔ انصار عباسی کے بقول پرویز الٰہی پی ٹی آئی کے ’’سازشی نظریات‘‘ سے پریشان نظر آتے ہیں۔ وزیراعلٰی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران اور پی ٹی آئی کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں، یہ لوگ خود کو تباہ کرنے کے لیے خود ہی کافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف میں ہر دوسرا شخص خود کو عقل کل سمجھتا ہے اور آج اسی وجہ سے پی ٹی آئی اس حال کو پہنچی ہوئی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ عوام میں مقبولیت کے باوجود پی ٹی آئی خود کو مسلسل نقصان پہنچاتی نظر آتی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان اور پرویز الٰہی کے مابین اعتماد کا ووٹ لینے کے معاملے پر بھی پنگا پکڑ چکا ہے چونکہ پرویزالہی ایسا کرنے سے انکاری ہیں۔ دوسری جانب عمران انھیں دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر انہوں نے ووٹ لیکر اسمبلی نہ توڑی تو پی ٹی آئی کے اراکین ہنجاب اسمبلی مستعفی ہو جائیں گے۔ عمران خان نے پرویز الہی کی بار بار کی وارننگ کے باوجود اگلے روز دوبارہ سے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر حملہ کیا اور کہا کہ ان پر وزیرآباد حملے میں ممکنہ طور پر جنرل باجوہ بھی ملوث تھے۔انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتور لوگ ان پر ہونے والے حملے کی منصفانہ تحقیقات میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔انصار عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی توجہ اب جے آئی ٹی کی رپورٹ پر مرکوز ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ حملے میں تین ہتھیار استعمال ہوئے۔ تاہم، وفاقی ایجنسیوں کو جے آئی ٹی کی رپورٹ مصدقہ معلوم نہیں ہوتی۔
پی ٹی آئی قیادت کا اصرار ہے کہ قاتلانہ حملہ تین حملہ آوروں نے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے محافظوں نے کوئی فائر نہیں کیا۔ یہ لوگ جے آئی ٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جائے وقوع سے 14؍ گولیاں برآمد ہوئیں، 12؍ ایک جگہ سے، 2؍ دوسری جگہ سے، جبکہ جائے وقوع سے مخالف سمت میں موجود ایک عمارت سے 9؍ گولیاں برآمد ہوئیں جن میں سے 7؍ ایک جگہ سے جبکہ 2؍ دوسری جگہ سے ملی ہیں۔ لیکن پی ٹی آئی کے مؤقف کے برعکس، انٹیلی جنس بیورو نے وفاقی حکومت کو جمع کروائی گئی اپنی رپورٹ میں کسی سازش کا ذکر نہیں کیا اور کہا ہے کہ یہ تنہا حملہ آور کا کام تھا جو کہ ایک مذہبی جنونی معلوم ہوتا ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پستول سے فائرنگ کے بعد سیکیورٹی مقاصد کے لیے تعینات کچھ لوگوں نے ایس ایم جی سے فائرنگ کی۔ وہاں ہلاک ہونے والے پی ٹی آئی کارکن کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے سر پر لگنے والی گولی کا نشان دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر یہ رائفل پروجیکٹائل کا نتیجہ ہے اور یہ 30؍ بور یا 9؍ ایم ایم پستول کے فائر کا نشان نہیں ہے جو کہ ملزم نوید کے پاس تھی۔ سی ٹی ڈی کی فرانزک ٹیم کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے اس رپورٹ میں کہا گیا کہ کنٹینر کے بالائی حصے پر 8؍ گولیاں لگیں جن میں سے 6؍ سوراخ پائے گئے، جبکہ 2؍ گولیاں کنٹینر کی دیوار کو چھو کر گزر گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو لے جانے والے کنٹینر پر فائرنگ کی۔ عمران سمیت 13؍ لوگ زخمی ہوئے، جبکہ ایک شخص جائے وقوع پر مارا گیا جس سے بظاہر اونچائی سے آنے والی گولی لگی جبکہ ملزم نوید زمین پر موجود تھا۔
آئی بی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ حملہ آور کے پاس آٹومیٹک 9؍ ایم ایم پستول تھا، اس نے کنٹینر کی طرف نشانہ باندھ کر ایک ہی جھٹکے میں تقریباً تمام گولیاں فائر کر دیں۔بجائے وقوعہ سے 9؍ ایم ایم کی گولیوں کے 12؍ خول اور ایس ایم جی کے 2؍ خول برآمد کیے گئے جو بظاہر سکیورٹی گارڈ نے چلائے تھے۔ گرفتاری پر حملہ آور سے 2؍ میگزین اور 13؍ گولیاں برآمد کی گئیں۔ مارے جانے والے شخص معظم کی پوسٹ مارٹم کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس جگہ گولی داخل ہوئی وہاں تین ضرب ایک سینٹی میٹر کا نشان ہے جبکہ جس جگہ سے گولی نکلی وہاں 12؍ ضرب 9؍ سینٹی میٹر کا نشان ہے۔ زخم کے گرد سیاہی مائل نشان یا کوئی اور نشان نہیں۔ بظاہر یہ زخم رائفل کی گولی سے ہوا ناکہ 30؍ بور یا 9؍ ایم ایم کی پستول کے فائر سے اگر یہ زخم نوید کے پستول سے ہونے والی فائرنگ کا نتیجہ ہوتے تو معظم کی بھنوؤں کے پاس سیاہی مائل نشان یا کوئی اور نشان ہوتا۔
