عمران خان اور صدرعلوی میں اختلافات پیدا ہو گئے

صدر عارف علوی اور عمران خان کے مابین وزیراعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہنے کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں، پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے مطابق عمران کا اصرار ہے کہ صدر علوی اپنا اختیار فوری استعمال کریں اور شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہیں، جبکہ علوی کا خیال ہے کہ شہباز شریف ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس سے تحریک انصاف کو مزید سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا لہذا اس پنگے میں نہ پڑا جائے۔

یاد رہے کہ پچھلے دو ہفتے سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے بعد وفاقی حکومت کو فوری انتخابات پر مجبور کرنے کے لئے عمران خان صدر عارف علوی کے ذریعے وزیراعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہہ چکے ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اور بی این پی کی جانب سے وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کی دھمکیوں کے بعد عمران خان کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے امتحان میں ڈالا جائے اور اگر وہ کامیاب نہ ہو پائیں تو تحریک انصاف کے مستعفی اراکین قومی اسمبلی میں واپس چلے جائیں تاکہ دوبارہ سے اپنا وزیراعظم منتخب کروایا جا سکے۔ تاہم عمران کی اس حکمت عملی کو کاؤنٹر کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے 124 اراکین کے استعفے منظور کر لیے ہیں جنہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔ اب قومی اسمبلی میں صرف تحریک انصاف کے 20 منحرف رہنما ہی باقی بچے ہیں جو کہ راجہ ریاض کو اپنا پارلیمانی لیڈر بنا چکے ہیں۔

تاہم تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ استعفوں کی منظوری کے باوجود عمران خان صدر علوی پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہیں۔ دوسری جانب صدر علوی درمیانی راستہ اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں، ان کا موقف ہے کہ شہباز شریف اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب وہ جائیں گے چونکہ ایم کیو ایم اور بی این پی نے حکومت چھوڑنے کی دھمکی واپس لے لی ہے لہٰذا ایسا کام نہ کیا جائے جس سے ان کی اور پی ٹی آئی کی سبکی ہو۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاملے پر عمران خان اور عارف علوی میں اختلافات شدید تر ہو گئے ہیں جس کا اظہار پی ٹی آئی کی مرکزی رہنما شیریں مزاری نے 25 جنوری کو ایک پریس کانفرنس میں کیا جب انہوں نے صدر علوی پر سخت تنقید کی۔ شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ صدر علوی فواد چوہدری کی گرفتاری پر خاموش ہیں حالانکہ انہیں اپنا ادا کرنا چاہیے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ میں مانتی ہوں کہ صدر عارف علوی کے پاس کوئی عملی اختیار نہیں لیکن وہ صدرمملکت ہیں اور کم ازکم فواد چوہدری کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر تو آواز بلند کر سکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شیریں مزاری نے یہ موقف عمران کی مرضی سے اختیار کیا تھا جس کے فورا ًبعد 25 جنوری کو صدر عارف علوی کو لاہور طلب کیا گیا۔ دونوں کے مابین رات گئے تک ملاقات جاری رہی جس کے دوران عمران نے صدر علوی کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہیں۔ تاہم صدر علوی کی ہچکچاہٹ کے باعث ابھی اس معاملے پر حتمی فیصلہ نہیں ہو پایا۔

دوسری جانب اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے شہباز حکومت کے خاتمے کو دیوانے کا خواب قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو ایم کیو ایم اور نہ ہی پی ڈی ایم کی کسی اور اتحادی جماعت کا حکومت چھوڑنے کا امکان ہے اور نہ ہی شہباز شریف اپنی حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے سے پہلے کہیں جانے والے ہیں۔

لیکن دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے عمران خان مسلسل اپنے ساتھیوں اور آئینی ماہرین سے مشورہ کر رہے ہیں تاکہ حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے۔ عمران کے قریبی ذرائع کا خیال ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پرویزالٰہی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا اور اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس جاری کرنا تحریک انصاف کی ایک بڑی کامیابی ہے جس سے پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے اور اس سے فوری سیاسی فائدہ اٹھانا ضروری ہے تاکہ حکومت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔ انکا کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد وفاقی حکومت پر فوری انتخابات کے انعقاد کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے امتحان میں ڈالنے کے لیے  چند روز میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اس سے پہلے عمران خان ایم کیو ایم اور پی ڈی ایم کی دیگر اتحادی جماعتوں پر بھی نظر رکھ رہے ہیں تاکہ جیسے ہی حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو، صدر عارف علوی کے ذریعے اس پر حملہ کر دیا جائے۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کی واضح اکثریت ہے۔ وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایسا ہونا ممکن ہے، ہو سکتا ہے کہ صدر علوی وزیر اعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہہ دیں۔ انکا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی بحران کی وجہ سے امپورٹڈ حکومت اس وقت انتہائی غیر مقبول ہے اور عوام کا اعتماد کھو چکی ہے اور ایسی صورت حال میں حکومت کے لیے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا مشکل ہوجائے گا۔

لیکن دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے منصوبے کاغذی ہیں اور وہ انہیں عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ انکا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے سوا سو کے قریب اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے بعد اب وزیراعظم شہباز شریف کے لیے اعتماد کا ووٹ لینا کافی آسان ہے اور اگر صدر عارف علوی نے انہیں ایسا کرنے کے لئے کہا تو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اگر عمران کے ایما پر صدر عارف علوی نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا تو بھی ایم کیو ایم کے پانچ ووٹوں کے بغیر بھی شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ مل جائے گا۔ یاد رہے کہ 11 اپریل 2022 کو وزیر اعظم کی حیثیت سے شہباز شریف کو 174 ارکان نے اعتماد کا ووٹ دیا تھا جبکہ وزیر اعظم بننے کیلئے 172 ارکان کی اکثریت دکھانا آئینی تقاضا ہے، اس طرح شہباز شریف دو اضافی ووٹوں سے وزیر اعظم بنے تھے۔

پنجاب کی 11رکنی نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا

Back to top button