عمران خان کا PTIاراکین کو مستعفی ہونے کا حکم، اب کیا ہو گا؟

پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر اہم سیاسی موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے، جہاں اسمبلیوں میں رہ کر سیاسی جدوجہد جاری رکھنے یا اجتماعی استعفوں کے ذریعے نئے دباؤ کی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر پارٹی کے اندر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ عمران خان کی جانب سے خیبرپختونخوا اسمبلی کے علاوہ تمام منتخب ایوانوں سے استعفے دینے کے نئے احکامات نے نہ صرف پارٹی کے اندر نئی بحث چھیڑ دی ہے بلکہ ملکی سیاست میں بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ بعض بااثر ذرائع اس دعوے کی تردید کر رہے ہیں، تاہم اس معاملے نے تحریک انصاف کی آئندہ سیاسی سمت، پارلیمانی کردار اور حکمتِ عملی پر نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے منسوب ایک اہم سیاسی ہدایت نے ملکی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اڈیالہ جیل سے اپنے وکیل کے ذریعے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو یہ پیغام دیا گیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے علاوہ قومی اسمبلی، سینیٹ اور دیگر منتخب اداروں میں موجود پارٹی سے وابستہ ارکان فوری طور پر اپنے استعفے پیش کر دیں۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے پارٹی کے پارلیمانی کردار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسمبلیوں میں موجود ارکان حکمران اتحاد پر مؤثر سیاسی دباؤ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جبکہ ان کی موجودگی سے موجودہ حکومت کو مزید استحکام ملا۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان کا یہ بھی خیال ہے کہ پارلیمانی سیاست کے ذریعے ان کی قانونی یا سیاسی مشکلات میں کسی قسم کی رعایت کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی کو اس مجوزہ حکمتِ عملی سے مستثنیٰ رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت برقرار رکھنے کے لیے وہاں کے ارکان کو استعفے نہ دینے کی تجویز دی گئی ہے، اگرچہ حکومت کی مجموعی کارکردگی پر بعض تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
تاہم پارٹی کے اندر اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ تحریک انصاف کے ایک اور قریبی ذریعے نے واضح طور پر ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کی کوئی نئی ہدایت جاری نہیں کی، جس کے باعث اس خبر کے مختلف پہلوؤں پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق استعفوں کی تجویز سامنے آنے کے بعد قومی اسمبلی میں موجود آزاد ارکان کی بڑی تعداد نے اس حکمتِ عملی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ اور قائمہ کمیٹیوں کے پلیٹ فارم کو چھوڑنے کے بجائے انہیں حکومت کو مؤثر انداز میں جواب دہ بنانے، عوامی مسائل اجاگر کرنے اور سیاسی بیانیے کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی پارلیمانی قیادت بھی اسی مؤقف کی حامی دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ پہلے عمران خان کی ہدایت پر کیا گیا تھا، تاہم اس حوالے سے کوئی نئی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے طویل سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں پارلیمان کے اندر جو سیاسی گنجائش حاصل کی ہے، اجتماعی استعفوں کی صورت میں وہ بھی ختم ہو سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے نزدیک یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تحریک انصاف کے اندر مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی پر سنجیدہ مشاورت جاری ہے۔ ایک جانب احتجاجی سیاست کو مزید مؤثر بنانے کی سوچ موجود ہے، جبکہ دوسری جانب پارلیمانی فورمز کو سیاسی جدوجہد کا اہم ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں پارٹی کی حتمی حکمتِ عملی نہ صرف تحریک انصاف بلکہ مجموعی قومی سیاست کی سمت پر بھی نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
