عمران خان کی بہن نورین خان کے عسکری قیادت پر سنگین الزامات

عمران خان کی بہنوں نے بھی اپنے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اداروں کو اپنے نشانے پر لے لیا، بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین خان نے نہ صرف عسکری قیادت پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی بلکہ بلکہ حکومت اور ریاستی اداروں کی پالیسیوں پر کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کے ایک انٹرویو میں دیے گئے متنازع بیانات نے ملک میں نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ معرکۂ حق، پاک فوج، بھارت، اسرائیل اور امریکا سے متعلق ان کے دعووں پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں نے ان کے مؤقف کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حساس معاملات پر بغیر شواہد کے الزامات قومی مفاد اور ریاستی اداروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

مبصرین کے بقول بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہن نورین نیازی کے ایک حالیہ انٹرویو نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے معرکۂ حق، پاک فوج، بھارت، اسرائیل اور امریکا سے متعلق متعدد متنازع دعوے کیے، جن پر سیاسی اور تجزیاتی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ نورین نیازی نے اپنے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ معرکۂ حق کے پس منظر میں مختلف بین الاقوامی عوامل کارفرما تھے۔ انہوں نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی، اسرائیل اور امریکا کا حوالہ دیتے ہوئے ایسے الزامات عائد کیے جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان روابط موجود تھے اور ان کے بقول بعض سفارتی اقدامات اسی تناظر میں کیے جا رہے تھے۔ مزید برآں انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو بھی اسی سلسلے سے جوڑنے کی کوشش کی۔

نورین نیازی کے ان بیانات کے بعد سیاسی اور میڈیا حلقوں میں شدید بحث شروع ہو گئی۔ متعدد تجزیہ کاروں نے ان کے مؤقف کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی اور دفاعی امور سے متعلق حساس معاملات پر بغیر قابلِ تصدیق شواہد کے ایسے دعوے عوام میں بے یقینی پیدا کر سکتے ہیں اور ریاستی اداروں کے بارے میں غلط فہمیاں جنم لے سکتی ہیں۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی سلامتی سے متعلق موضوعات پر ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو اور مصدقہ معلومات کی بنیاد پر اظہارِ رائے انتہائی اہم ہے، تاکہ قومی مفادات اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد برقرار رہے۔ ناقدین کے مطابق اب دیکھنا یہ ہوگا کہ تحریک انصاف کی قیادت اس معاملے پر کوئی وضاحت پیش کرتی ہے یا نہیں، جبکہ نورین نیازی کے متنازع بیانات پر سیاسی ردعمل آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

Back to top button