لمز کے عمرانڈو طلباء نے واقعی وزیر اعظم کے چھکے چھڑا دئیے؟

وزیر اعظم کا لمز (LUMS) کا دورہ سوشل میڈیا پر معرکہ خیر و شر بن چکا ہے جس میں چند حق پرست طلبا نے باطل یعنی وزیر اعظم کے چھکے چھڑا دئیے ۔ سوال کرنے والے طلبا لمحوں میں ہیرو بن گئے اور وزیر اعظم سب سے بڑے ولن بن کر رہ گئے۔ کچے پکے ذہنوں میں جو ’فلسفہ حریت‘ عمران خان ٹھونس گئے ہیں وہی نوجوان نسل کے ذہنوں میں کلبلا رہا ہے۔ وہی جاہلانہ ولولہ جو ہمیں 9 مئی کو نظر آیا اب ہر امیرانہ درس گاہ کا مقدر ہو چکا ہے. لمز (LUMS) اور آئی بی اے جیسے ادارے ہماری اصل نوجوان نسل کی ترجمانی نہیں کرتے۔ ہمارا نوجوان کیا سوچ رہا ہے یہ صرف ان دو درس گاہوں کے دورے سے پتہ نہیں چل سکتا۔ ۔لیکن یہ سچ ہے کہ جس سوچ اور رویے کو ان دو ایلیٹ درسگاہوں میں ترویج دی جا رہی ہے، وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار عمار مسعود نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں رواج ہی نہیں رہا ہے کہ کوئی عوامی نمائندہ کسی درس گاہ میں جائے، اور عوام کے سوالات کا سامنا کرے، ان کے تسلی بخش جواب دینے کی کوشش کرے۔
ہمارے ہاں تو رواج ہے وی آئی پی کلچر کا، ہم نے ہمیشہ ایسے ہی حکمران دیکھے ہیںجن کی وجہ سے ٹریفک بند ہے، ایمبولینسوں میں لوگ مر رہے ہیں، کہیں ناکے لگے ہیں تو عوام کی جان عذاب بنی ہیں۔ وی آئی پی لوگ عوام کے سوالوں کا جواب تو درکنار عوام سے گفتگو یا ہاتھ ملانے تک کے روادار نہیں۔ وزیر اعظم انور الحق کاکڑ کے دورہ لمز کے حوالے سے سوشل میڈیا پر قیامت آ چکی ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ لمز کے طلباء نے وزیر اعظم کو پچھاڑ دیا، کوئی ربط اللسان ہے کہ وزیر اعظم نے طلبا کو نیچا دکھا دیا۔ وزیر اعظم کے دورہ لمز کو ایک علمی سیاسی بحث کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا ہے، اس پر سانحہ لمز کے ٹرینڈز بن رہے ہیں۔ اگر سوشل میڈیا پر دیکھیں تو لگتا ہے یہ معرکہ خیر و شر تھا جس میں شر کا کردار وزیر اعظم کو سونپا گیا ہے یا پھر یہ کوئی حق و باطل کی جنگ تھی جس میں چند حق پرست طلبا نے باطل کے چھکے چھڑا دیے، دشمن کی ایسی تیسی کر دی۔ عمار مسعود لکھتے ہیں کہ وزیر اعظم کاکڑ کو بہت باعلم اور باشعور شخص کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ بات کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں اور نکتہ آفرینی کے کمال سے بھی واقف ہیں۔ ان کا مطالعہ وسیع ہے اور وہ تاریخی حقائق سے باخبر بھی ۔ بات کہنے کی یہ ہے کہ ہم میں وہ تحمل جو کسی علمی یا سیاسی موضوع پر گفتگو کے لیے درکار ہوتا ہے وہ مفقود ہو چکا ہے۔ ہم اس قدر جلدی میں ہیں کہ ہمیں واقعے اور اس کے پس منظر سے کوئی غرض نہیں، ہمیں فٹا فٹ نتیجہ درکار ہوتا ہے۔ نتیجہ بھی وہی جو ہماری منشا کے مطابق ہو۔ اگر اس منشا کے برعکس کوئی سچ بھی بولے تو وہ کذاب ہے، مجرم ہے۔ لمز میں وزیر اعظم کی گفتگو کے سوشل میڈیا پر نتائج دیکھنے کے بعد یہ بات سمجھ آئی ہے کہ اب نہ سوال اہم ہے نہ جواب کی کوئی قدر ہے، اب نہ علم مقصد ہے نہ جستجو خواہش ہے۔ اب مفہوم و مقصود دیگر چیزیں ہیں۔ اب یہ اہم ہے کہ اس واقعے پر کتنی میمز بنی ہیں، کتنے لطیفے گھڑے جاتے ہیں، کتنی ریلز کو کتنے ویوز ملتے ہیں، کتنے شارٹس بنتے ہیں اور کتنے لوگ انہیں وائرل کرنے میں جُٹے ہوتے ہیں۔ یہ لائکس اور شیئرز کا زمانہ ہے، یہ وائرل ہونے کا دور ہے۔
اس زمانے میں علم تحمل اور دلیل بے معنی ہیں۔ اس دور میں عقل و دانش حکمت غیر ضروری ہیں۔ اب بس وائرل ہونا اہم ہے۔ اس کے لیے طریقہ کیا اختیار ہوتا ہے اس پر کسی کو سوچنے کی فرصت نہیں۔ عمار مسعود کے مطابق سوشل میڈیا کے ہنگام و بہتان میں چند سوالات و جوابات نظر سے گزرے۔ ایک سوال ایک طالب علم نے وزیر اعظم کے تاخیر کے آنے کے حوالے سے پوچھا۔ وزیر اعظم نے اس کا جواب دیا ’ میں کابینہ کے اجلاس میں تھا جو اس تقریب سے زیادہ اہم تھا اور دوسرا آپ مجھے پیسے تو نہیں دیتے۔ یہ جواب مناسب نہیں تھا نہ ہی یہ وزیر اعظم کی شخصیت اور منصب کے شایان شان تھا۔ دنیا بھر کے سربراہان مملکت نوجوانوں سے ان کے تعلیمی اداروں میں ملتے ہیں مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ آپ نے کون سا مجھے پیسے دیے ہیں یا پھر کوئی ایک منٹ بھی تاخیر سے نہیں پہنچتا۔ اگر یہ اتنا ہی غیر اہم تھا تو وزیر اعظم کو یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ بعض بچوں نے سوال اس لہجے میں پوچھا کہ وہ آئے ہوئے مہمان کی توہین کے مترادف لگا۔
گھر آئے مہمان کی توقیر و تکریم کے سوا ہمارے سماج میں کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ جس بچے نے اقلیتوں کے حوالےسے قانون سازی کا سوال پوچھا اس بے چارے کو علم ہی نہیں تھا کہ قانون سازی نگران حکومت کا اختیار نہیں ہوتا۔ المیہ یہ ہے کہ کسی طالب علم نے خارجہ پالیسی، افغان امور، نیو ورلڈ آرڈر کے حوالے سے سوال نہیں پوچھا۔ ہمارا نوجوان کیا سوچ رہا ہے یہ صرف ان امیروں کے بچوں کی درس گاہوں کے دورے سے پتہ نہیں چل سکتا۔ دور افتادہ علاقوں میں جو کالجز اور یونیورسٹیز ہیں، ارباب بست و کشاد کو ان کا بھی دورہ کرنا چاہیے تاکہ پتہ چلے کہ متمول گھرانوں کے سوا متوسط گھرانوں کے جوان کیا سوچ رہے ہیں۔ لیکن یہ سچ ہے کہ جس سوچ اور رویے کو ان دو ایلیٹ درسگاہوں میں ترویج دی جا رہی ہے، وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
یہ ایک خطرناک صورت حال ہے۔ خواہش تو یہی تھی کہ ہماری نوجوان نسل کو جو عقل ہماری عمر میں آنی ہے اس کے لیے ان ذہنوں کو ابھی سے تیار کرنا چاہیے۔ اس عمر کے تقاضے ضرور ہوتے ہیں مگر اس میں حکمت، دانش اور جمہوری سوچ کو بھی دخل انداز ہونا چاہیے۔آخر میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ نوجوان نسل کو پتہ ہونا چاہیے کہ حکومت، ریاست اور قانون کے سامنے سرکش نہیں ہونا چاہیے۔ کوئی مقام اطاعت اور تسلیم کا بھی ہوتا ہے۔ کہیں بڑوں کی بات ماننا بھی پڑتی ہے، اور بعض معاملات سوشل میڈیا کے ٹرینڈز سے بھی اہم ہوتے ہیں۔
