نواز شریف کا ایک بار پھر اتحادی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کا فیصلہ

نواز شریف نے وطن واپسی کے بعد سیاسی میدان میں مزاحمت کی پالیسی ترک کر کے مفاہمتی پالیسی اپنا لی ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے ماضی قریب کی حلیف سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے ملاقات کرنے اور ملکی مسائل کے لیے مشترکہ جدوجہد پر انھیں آمادہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری جانب سابق صدر آصف زرداری نے نون لیگ کو ٹف ٹائم دینے کیلئے پارٹی کا سیاسی محاذ سنبھال لیا ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری نے زرداری ہاؤس میں عمائدین شہر کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے پی ڈی ایم بنا کر شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا لیکن انہوں نے عوام کے لئے کام نہیں کیا میں اب نواز شریف کو وزیراعظم نہیں بننے دوں گا اب ملک کا آئندہ وزیراعظم پیپلز پارٹی کا ہوگا، ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی مسلسل انتخابی کامیابیاں عوام کے اعتماد کا مظہر ہیں،کراچی سے کشمیر تک پیپلزپارٹی ایک زندہ حقیقت ہے، عوام کی حمایت سے پیپلزپارٹی حکومت قائم کرے گی۔
خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے عملی طور پر نون لیگ کی کمان سنبھالتے ہوئے پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا آغاز کر دیا ہے۔ چار سال بعد نواز شریف کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس جاتی امرا میں منعقد ہوا۔ نواز شریف کی زیر صدارت ساڑھے 4 گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہنے والے اجلاس میں آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کی حکمت عملی، پارٹی منشور سمیت دیگر معاملات پر اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ن لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں، نواز شریف کے جلسوں کے شیڈول اور پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے بھی حتمی مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ ن نے ملک میں فوری عام انتخابات کی ضرورت پر زور دیا ہے اور یکم سے 10 نومبر تک پارٹی امیدواروں سے ٹکٹ کے لیے درخواستیں طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں عرفان صدیقی کی سربراہی میں منشور کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو مختلف مکاتب فکر سے ملاقاتیں کر کے قابل عمل منشور سامنے لائے گی۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ نوازشریف جلد چاروں صوبوں کا دورہ کریں گے جہاں لیگی رہنماؤں کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں سے ملاقات کریں گے۔ نوازشریف آنے والے دنوں میں حلیف جماعتوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے کیوں کہ ہم ملک میں مضبوط معیشت اور مضبوط جمہوریت چاہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جاتی امراء میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں شہباز شریف کا مفاہمتی بیانیہ چھایا رہا۔ اس اجلاس میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ گفتگو نہ ہونے کے برابر ہوئی حتیٰ کہ نواز شریف نے بھی مفاہمت، رواداری اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی۔ سب سے پہلے شہباز شریف کو اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا گیا اسی طرح تمام شرکاء کو ایک مفاہمتی لائن مل گئی ان کے بعد خواجہ آصف نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ تقریباً تمام شرکاء نے مینارپاکستان میں ہونے والے جلسے کو کامیاب قرار دیا اور کہا کہ نواز شریف کی وہاں ہونے والی تقریر ہی ہمارا بیانیہ ہو گا ۔ نواز شریف نے ایک بار پھر کہا کہ ہم کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتے ۔ اگر ہمیں حکومت کرنے کا موقع ملا تو ہم انصاف کے نظام کو بہتر بنائیں گے ہم ایسی عدالتیں چاہتے ہیں جو کسی کے کہنے پر کسی کو سزا وار یا قصور وار نہ ٹھہرائیں عدل کا نظام بہتر ہو گا تو کوئی غیر آئینی غیرقانونی بات نہیں ہو گی۔
خیال رہے کہ میاں نواز شریف علاج کی غرض سے چار سالہ خودساختہ جلاوطنی کے بعد رواں ماہ وطن واپس پہنچے تھے، جس کے بعد ان کی پارٹی عہدیداران و ارکان سے یہ پہلی رسمی ملاقات تھی۔دوسری جانب نواز شریف کے وطن واپسی کے بعد سے دیگر جماعتیں خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف کی واپسی ان کے اداروں سے کسی سمجھوتے کا نتیجہ ہے۔پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اعتزاز احسن نے بھی ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ ’نواز ۔اسٹیبلشمنٹ ڈیل اب ایک کھلا راز ہے۔ جس لمحے اس شخص کو دوبارہ موقع ملتا ہے وہ باقی سب کو صفر کر دیتا ہے۔‘
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما سید حسن مرتضیٰ نے بھی نواز شریف کی واپسی کو ’ڈیل کا نتیجہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’کل کا مجرم آج کا لاڈلا ہے۔ اگر اسی طرح سوار بدلتے رہے تو کہیں کندھے تھک نہ جائیں۔‘انہوں نے نام لیے بغیر کہا کہ ’یہ میاں نواز شریف کو لانے کا تجربہ کرنے جا رہے ہیں۔ یہ انہیں مہنگا پڑے گا، یہ نہ ملک کے لیے بہتر ہے اور نہ ہی سیاسی نظام کے لیے۔‘مستقبل میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کے حوالے سے سوال کے جواب میں سید حسن مرتضیٰ نے کہا: ’سیاست میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کسی چیز کا کوئی چانس یا امکان نہیں ہے کیونکہ آپ کو نہیں معلوم ہوتا کہ حالات کیا بن جائیں لیکن بظاہر جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جو مداخلت ہو رہی ہے، ہمارا ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں بالکل غیر جاندارانہ شفاف انتخابات کی طرف جانا ہوگا۔ اسی سے ملک آگے چل سکتا ہے۔‘
دوسری جانب ترجمان نون لیگ عظمیٰ بخاری کا پیپلز پارٹی کی جانب سے لگایا گیا ’ڈیل‘ کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا: ’پیپلز پارٹی کے ڈیل کے الزام کی جہاں تک بات ہے تو یہ ایک انتہائی افسوسناک بات ہے۔ یہ بات وہ لوگ کر رہے ہیں جو ہمیشہ سے ہمارے ساتھ ہر ایک جدوجہد میں شامل رہے ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی والے اپنے ساتھ ہونے والی عدالتی ناانصافیوں پر شکوے کرتے رہے ہیں لیکن اب جب ہمارے ساتھ عدالتی ناانصافیاں ہو رہی ہیں تو وہ ان کو نظر نہیں آ رہیں۔’حقائق پر مبنی پوزیشن یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے پاؤں پر کلہاڑا خود مارا اور اب ان کے بہت سے لوگ پارٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں یا وہ سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ اب ان کے پاس امیدوار ہوں گے یا نہیں ہوں گے تو ظاہری بات ہے، اس کا فائدہ دوسری بڑی پارٹی کو ہوگا، جو ہم ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا: ’پیپلز پارٹی کے ساتھ ہماری کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہو رہی اور یہی ان کا دکھ ہے اور یہی ان کو پریشانی ہے اور اسی پر وہ ’رولا‘ ڈال رہے ہیں اور اسی بات پر انہوں نے رونا دھونا مچایا ہوا ہے۔‘
میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان رابطے کی خبروں کے حوالے سے سوال پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آصف علی زرداری ایسے سیاست دان ہیں جو بہت کم بولتے ہیں اور ان کے رابطے بھی سب سے رہتے ہیں۔’وہ اپنے رابطے توڑتے نہیں۔ وہ سیاست پر بڑی گہری نگاہ رکھتے ہیں، اس لیے ان کے یقیناً رابطے ہیں۔ وہ نواز شریف کے ساتھ بھی رابطے میں رہتے ہیں اور باقی سیاست دانوں کے ساتھ بھی۔‘
اس ساری صورت حال کے حوالے سے سیاسی تجزیہ کار وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ’اگر نواز شریف واپس آکر اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کر رہے ہیں تو اس میں اچھنبے کی کوئی بات نہیں۔‘ ’وہ ملک سے باہر رہ کر بھی پارٹی کے فیصلوں میں کلیدی کردار ادا کیا کرتے ہیں اور اب پاکستان میں بھی وہ ایسا ہی کریں گے۔‘ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’نواز شریف کی واپسی اتنی اہم نہیں ہے جتنا یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ انہیں ریاستی طاقتوں کے سامنے ایک بے بس شہری کی حیثیت سے اس ملک سے جانا پڑا تھا۔‘بقول وجاہت مسعود: ’اس ملک میں نواز شریف 2000 میں ہی جلا وطن نہیں ہوئے، 2016 کے مئی میں بھی انہیں 40 دن کے لیے برطانیہ میں رہنا پڑا تھا، جب ان پر سابق آرمی چیف راحیل شریف کی ایکسٹینشن کا دباؤ تھا۔’نومبر 2019 میں بھی انہیں دراصل جلا وطن ہی کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا تھا کہ انہیں علاج کی غرض سے بھیجا گیا ہے۔‘وجاہت مسعود کے خیال میں: ’اس ملک کے عوام اور اس ملک کی جمہوری طاقتیں ملک کو واپس جمہوریت کی طرف لے کر آتی ہیں لیکن جیسے ہی موقع ملتا ہے، غیر جمہوری قوتیں پھر سے حملہ آور ہو جاتی ہیں۔‘
