عمران کے کانوں میں گونج،  سننے کی صلاحیت کم ہونے لگی

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید 72 سالہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی عمومی صحت تو ٹھیک ہے لیکن اعصابی کمزوری کے باعث پچھلے کچھ مہینوں سے ان کے کانوں میں دوہری گونج سنائی دے رہی ہے اور انکی قوتِ سماعت یعنی سننے کی صلاحیت بھی کم ہو رہی ہے۔

اڈیالہ جیل راولپنڈی کے حکام نے عمران خان کی صحت سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مختلف اوقات میں ان کے کندھے میں درد اور کان اور دانت میں انفیکشن سمیت ’چکر آنے‘ کی شکایت ہے جس کا علاج جاری ہے۔ جیل حکام کی اس رپورٹ پر سوشل میڈیا میں مختلف تبصرے ہو رہے ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ عمران کی صحت مستقل گر رہی ہے جبکہ بعض کے نزدیک یہ معمولی شکایات ہیں۔ تاہم جیل حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان کے کانوں کا مسئلہ پرانا ہے۔

یاد رہے کہ اڈیالہ جیل حکام نے عمران کی صحت کے بارے میں تفصیلی رپورٹ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں جمع کروائی ہے جس میں اگست 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد سے اُن کے طبی معائنوں، میڈیکل ٹیسٹ اور اُنھیں ذاتی معالج فراہم کرنے کی تفصیلات دی گئیں۔ خیال رہے کہ عمران خان اوراُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانے کرپشن، 190 ملین پاؤنڈ سمیت مختلف کیسز کا سامنا ہے۔ تحریک انصاف کے دیگر رہنما اور عمران کے اہلخانہ اکثر جیل میں اُن کی خراب صحت کی شکایت کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں عمران کی بہن علیمہ خان نے عدالت سے رجوع کیا تھا جسکے بعد عدالتی حکم پر اڈیالہ جیل کے حکام نے ان کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کروائی۔

بی بی سی اردو کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 72 سالہ عمران احمد خان نیازی کی صحت کے معائنے کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم مستقل جیل جاتی رہی ہے۔ 26 ستمبر 2023 سے مارچ 2025 کے دوران جیل ڈاکٹر کے علاوہ کئی بار آرتھو پیڈکس، ای این ٹی سپشلسٹ اور ماہر امراض چشم نے اُن کا معائنہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دورانِ حراست عمران کو کئی مرتبہ کان میں تکلیف ہوئی ہے اور بعض اوقات انھوں نے قوتِ سماعت میں کمی کی شکایت بھی کی۔ اڈیالہ جیل حکام کا کہنا ہے کہ 18مئی 2024 کو بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی سے وابستہ ماہر ناک، کان نے جب عمران خان کا معائنہ کیا تو سابق وزیر اعظم نے کان میں ’ٹائنائٹس‘ (tinnitus) یعنی گونج یا سیٹیاں بجنے کی شکایت کی۔ ڈاکٹر نے کان کی مکمل صفائی کی تجویز دی جس پر جیل حکام نے مکمل عمل درآمد کیا۔

اسکے بعد 23 مئی 2024 کو بے نظیر بھٹو ہسپتال کے شعبہ ناک، کان اور گلہ کے سربراہ نے عمران کا معائنہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ عمران کو بائیں کان میں ’ٹائنائٹس‘ یعنی دوہری گونج سنائی دے رہی ۔ اس کے بعد ایک ٹیسٹ سے یہ پتہ چلا کہ عمران کی قوتِ سماعت کم ہو رہی ہے۔ عدالت نے بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی قوتِ سماعت میں کمی کی وجہ کان کے اندرونی حصے میں اعصابی نظام کا کمزور ہونا ہے جس کا علاج جاری ہے۔ پھر جنوری 2024 میں ایک اور کنسلٹنٹ نے عمران کا معائنہ کیا اور تشخیص کی کہ ان کے کان کے اندرونی حصے کی جھلی میں پرانا انفیکشن چل رہا ہے۔

اپریل 2024 میں شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر عاصم یونس نے عمران خان کا معائنہ کیا اور ضروری ٹیسٹ کروائے جس میں ان کا کولیسٹرول کچھ زیادہ آیا۔ جیل میں دوران قید کئی مرتبہ شوکت خانم ہسپتال سے وابستہ ڈاکٹر فیصل سلطان کی موجودگی میں عمران کا معائنہ کیا گیا اور تشخیص کے لیے لیب ٹیسٹ کروائے گئے۔ عمران کی کان کی تکلیف کے علاج کے لیے پمز ہسپتال اسلام آباد کے ای این ٹی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر الطاف حسین کی قیادت میں میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیا گیا جس میں فزیشن اور ماہر ڈینٹسٹ بھی شامل تھے۔ بورڈ نے تمام ضروری ٹیسٹ جیسے بلڈ سی پی، لیپیڈ پروفائل، لیور فنکشن، کڈنی فنکشن ٹیسٹ کروائے، لیکن تمام ٹیسٹوں کی رپورٹ نارمل تھیں۔ تاہم بورڈ کے مطابق عمران کے کان میں گونج کی شکایت بدستور موجود تھی۔ تاہم ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ عمران کی عمومی صحت ٹھیک ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق عمران کی قوتِ سماعت میں کمی اور کان کے اندرونی فنکشن میں خرابی کی وجہ سے اُنھیں ورٹیگو ہو جاتا ہے۔ ورٹیگو میں انسان کو مختلف وجوہات کے سبب چکر آتے ہیں۔ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق کان کے اندر اعصابی نظام میں کمزوری کی وجہ سے انھیں چکر آتے ہیں۔ مارچ 2025 میں میڈیکل بورڈ نے عمران کا پھر سے معائنہ کیا لیکن انہیں کان کی شکایت برقرار تھی۔ اُن کے تمام ضروری میڈیکل ٹیسٹ کیے گئے جنکی رپورٹس نارمل تھیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق انسانی جسم میں کان، آنکھیں اور دماغ مل کر جسم میں توازن یعنی بیلنس قائم رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک میں بھی مسئلہ آئے تو باڈی کا بیلنس یعنی توازن بگڑ جاتا ہے اور انسان کو چکر آتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمومًا عمر بڑھنے کے ساتھ قوتِ سماعت میں کمی آتی ہے لیکن جسمانی طور پر زیادہ فٹ لوگوں میں یہ علامات دیر سے ظاہر ہوتی ہیں۔ عموماً یہ علامات 65 سال کی عمر کے بعد عام ہیں جبکہ عمران خان 72 برس کے ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ مرض مہلک نہیں اور ادویات کے استعمال سے اس کا علاج ہو جاتا ہے۔

Back to top button