ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کیس: ملزم حسن زاہد کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کو اغوا کرنے کے کیس میں نامزد ملزم حسن زاہد کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور کر لی ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عامر ضیا نے کیس کی سماعت کی، جس دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل پر بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا ہے تاکہ اسے ہراساں اور بلیک میل کیا جا سکے۔ وکیل نے عدالت سے حسن زاہد کی ضمانت منظور کرنے کی درخواست کی۔
عدالت نے وکیل کی استدعا قبول کرتے ہوئے 20 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ملزم کی ضمانت منظور کر لی، تاہم وہ دوسرے مقدمے میں اب بھی پولیس کی 5 روزہ تحویل میں ہے۔
عدالت نے قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے 9 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے اور فریقین کو دلائل کے لیے طلب کر لیا ہے۔
چند روز قبل اسلام آباد کی ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے ایک ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ وہ ثنا یوسف کی دوست ہیں اور حسن زاہد انہیں گزشتہ چند ماہ سے ہراساں کر رہا ہے، انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا تھا اور شادی پر مجبور کر رہا تھا۔
سامعہ کے مطابق، ایک موقع پر جب وہ گھر کے گیٹ پر باہر نکلیں تو حسن نے ان کا موبائل چھین کر انہیں گاڑی میں زبردستی گھسیٹا، جس کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔
واقعے کی اطلاع پر تھانہ شالیمار میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حسن زاہد کو گرفتار کیا اور عدالت میں پیش کیا۔
عدالت میں پیشی کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ “سر، مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔” جس پر عدالت نے اسے پولیس کے حوالے کرتے ہوئے 5 دن کے جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل:
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر سامعہ حجاب اور حسن زاہد کی کچھ مشترکہ ویڈیوز وائرل ہوئیں، جن میں دونوں کا تعلق محض دوستی سے بڑھ کر دکھائی دیا۔ اسی دوران یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ سامعہ مبینہ طور پر حسن سے مالی فائدہ حاصل کر رہی تھیں۔
کچھ صارفین کی جانب سے آن لائن ٹرانزیکشنز کے اسکرین شاٹس شیئر کیے گئے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ حسن زاہد سامعہ کو اغوا کرنے نہیں بلکہ اپنے پیسے واپس لینے گیا تھا۔
