بسم اللّٰہ، اسلام آباد سے کریں

تحریر: سہیل وڑائچ
بشکریہ: روزنامہ جنگ

نئے اور خودمختار انتظامی یونٹ بنانے اور چلانے کا تجربہ اسلام آباد سے شروع ہونا چاہئے سانحہ پمز میں14بچوں کی شہادت سے مختلف محکموں کے عدم رابطے کی واضح گواہیاں ملی ہیں۔ اسلام آباد کا سارا انتظام وانصرام تو کیپٹل ڈیو یلپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے پاس ہے مگر نہ وہاں کے اسپتال اور نہ ہی وہاں کے اسکول اسکے ماتحت ہیں۔ اسکول محکمہ تعلیم اور اسپتال وفاقی محکمہ صحت کے زیر انصرام ہے۔ ریسکیو، ایمرجنسی، سڑکیں، تعمیر و ترقی، منصوبہ بندی اور بجٹ وغیرہ تو سی ڈی اے کے پاس ہے، پمز اور اسکول وہ جزیرے ہیں جو سی ڈی اے کے سمندر سے باہر ہیں۔ وفاق کی ناک کے عین نیچے واقع اسلام آباد میں کافی عرصے پہلے خود مختار اتھارٹی بنانے کا مقصد اسے ملک بھر سے بہتر اور موثر بنانا تھا مگر ایسا ابھی تک نہیں ہوسکا۔ سانحہ پمز کاسبق یہ ہے کہ نئے انتظامی یونٹ کے پہلے پائلٹ پراجیکٹ کی اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری سے بسم اللہ کی جائے اور اسلام آباد کے اسپتال اور اسکول سی ڈی اے اور محکمہ داخلہ کو دیئے جائیں تاکہ وہی انہیں چلائیں اور ان سے اسکی جواب دہی بھی کی جائے، دوعملی سے کام خراب ہوتا ہے اسلام آباد میں تجربہ کریں اگر کامیاب رہا تو ملک بھر میں اسے پھیلانا آسان ہوجائیگا۔

آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کے بعد سے پوری قوم طالبان کی دہشت گردی کے خلاف یکسو ہوئی تھی، سب سیاسی جماعتوں نے ملکر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنائی تھی فوج عوام اور سیاستدان ایک صفحہ پر آئے تبھی دہشت گردی کیخلاف پالیسی میں جو ابہام تھا وہ ختم ہوا۔ سانحہ پمز بھی انسانیت کو جھنجوڑنے والا ایسا ہی واقعہ ہے وزیر اعظم شہباز شریف نےسانحہ پمزکے ذمہ داروں کیخلاف فوجداری کارروائی کرکے درست فیصلہ کیا ہے لیکن یہ تو سانحے کی سزا ہے اس طرح کے واقعات کوآئندہ روکنے کیلئے انتظامی اصلاحات کرنے اور محکمہ جاتی عدم تعاون کو موثر طور پرختم کرنے کی ضرورت ہے، وزیر صحت کے ہفتے میں ایک روز پمز اسپتال بیٹھنے سے اچھا تاثر تو پڑئیگا مگر اس سےموثرو مستقل اصلاح احوال ممکن نہیں۔ وزیر صحت وہاں بیٹھ کر فوری نوعیت کے مسائل توحل کرسکتے ہیں مگر سی ڈی اے اور دوسرے محکموں کے ساتھ رابطہ کاری کے جوازلی مسائل درپیش ہیں وہ ان میں کوئی پیش رفت نہیں کرسکیں گے۔ سانحہ پمز نے اسپتال کے ڈاکٹروں،نرسوں اور وہاں تعینات عملے کی بے حسی اور عدم تیاری کو مکمل طور پرعیاں کر دیا ہے سوائے نرس رضیہ بی بی کے سانحہ پمز کے سارے کردارولن ہیں رضیہ بی بی وہ واحد امید ہے جس کے دم قدم سے مستقبل کے اچھے خوابوں کی تعبیر ممکن ہے۔صوبے میں انتظامی یونٹ بنانے ہوں یانئے صوبےبنانے ہوں،اس میں کئی سیاسی ،قانونی اور لسانی پیچیدگیاں ہیں مگر اسلام آباد تو پہلے سے ہی وفاق کے زیر انتظام علاقہ ہے ملک کی کسی جماعت، کسی صوبے یا کسی بھی شخص کو اسلام آباد کو آزاد، خود مختار اور بااختیار بنانے کے حوالے سے ذرہ برابر بھی اعتراض نہیں۔ اسلام آباد سے بہترین جگہ کونسی ہوسکتی ہے جہاں اس تجربے کا آغاز ہو۔ گھوڑا بھی تیار ہے، میدان بھی حاضر! اب دیر کس بات کی ہے۔پاکستان کی80سالہ تاریخ دیکھی جائے تو بلدیاتی اداروں کے اختیارات کے حوالے سے3بڑے ری سیٹ ماڈل آزمائے گئے۔ ایوب خان کے بنیادی جمہوریت کے نظام میں تعلیم اور صحت کے اختیارات مقامی اداروں کو دئیے گئے ،جنرل ضیاء الحق کے ری سیٹ ماڈل میں بلدیاتی نمائندوں کو بے تحاشا فنڈز تو دئیے گئے مگر صحت اور تعلیم، نوکر شاہی اور صوبائی حکومت کے پاس رہے۔ جنرل مشرف کے تیسرے ری سیٹ میں ایک بار پھر تعلیم اور صحت ضلعی حکومتوں کو دینے کی کوشش کی گئی مگر صوبائی حکومتوں اور نوکر شاہی نے اس ری سیٹ کو پہلے ناکام بنایا اور پھر اسے منسوخ کردیا۔ گویا اب اگر چوتھے ری سیٹ منصوبہ4th Reset Planمیں دوبارہ سے تعلیم اور صحت مقامی اداروں اور بلدیاتی نمائندوں کو دے دئیے جائیں تو یہ دراصل اس نظام پیروی ہوگی ،جوامریکہ اور برطانیہ میںکامیابی سے چل رہا ہے۔

اگر صوبوں کے حوالےسے تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو قراردادِ پاکستان میں صوبوں کی کنفیڈریشن یعنی مسلم اکثریتی خطوں کو ملا نے کا مطالبہ کیا گیا تھا، 1946میں مسلم لیگ نے اسے ملک (فیڈریشن ) کے مطالبے میں بدل دیا اور پھرقیام پاکستان کیلئے پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخوا (صوبہ سرحد) نے اپنی اسمبلیوں اور صوبہ سرحد نے ریفرنڈم کے ذریعےپاکستان میں شمولیت کا باقاعدہ سیاسی اور قانونی فیصلہ کیا۔ مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ اور مغربی پاکستان کی کم تھی آپس میں تصفیے کی صورت میں پیرٹیParity یعنی مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی برابری کا اصول طے ہوا اور پھر14اکتوبر1955ءکو مغربی پاکستان کے صوبوں کو ملاکرون یونٹ بنادیاگیا جس کا ہیڈ کوارٹر لاہور تھا تاہم جنرل یحییٰ خان نے ایک اور ری سیٹ کرتے ہوئےیکم جولائی1970ء کوون یونٹ توڑ کر نہ صرف پنجاب، سرحد اور سندھ کے صوبے بحال کئے بلکہ بلوچستان کو بھی صوبے کا درجہ دیدیا ،گویا صوبائی اعتبار سے اب یہ دوسرا اور مقامی حکومتوں کے اختیارات کے حوالے سے چوتھا ری سیٹ ہوگا۔

ماضی کے تین Re-setمیں سے بہترین جنرل مشرف کا ضلعی حکومتوں کا نظام تھا، اس نظام کی کمزوریوں میں صلاحیتوں (Capacity)کی کمی ،عدم احتساب اورعدم منصوبہ بندی تھی ۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس نظام کی کمزوریوں کی اصلاح کرکے اسے زیادہ جمہوری اور شفاف بنایا جاتا۔ ضلعی چیئرمین اور میئر کے انتخابات بالواسطہ کی بجائے براہ راست ہوتے اور صوبائی حکومتیں انہیں تحلیل نہ کرسکتیں۔ مگر اس نظام کو سرے سے ختم کرکے نو آبادیاتی دور کے ڈپٹی کمشنر نظام کو بحال کردیاگیا حالانکہ خود برطانیہ میں، جس نے یہ نظام بنایا تھا، بھی یہ نظام ختم ہوئے کئی دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اب اگر دوبارہ سے ری سیٹ کرناہی ہے توتعلیم اور صحت کوخودمختار مقامی حکومتوں کے حوالے کرنا چاہیے اور اسکے لئے آغاز اسلام آباد سے کرنا درست سمت میں کیا گیا پہلا قدم ہوگا۔ یہ ماڈل کامیاب ہوتا ہے تو باقی پورے ملک کیلئے مثال بنے گا ۔کم آبادی اور مضبوط انتظانیہ اور وہ بھی عین حکومتی ناک کے نیچے، اسلام آباد کی خود مختار حکومت کوٹھیک سے چلانا سب سے آسان ہو گا ،اسلام آباد میں نہ صلاحیت کی کمی آڑے آئے گی اور نہ منصوبہ بندی کی کمزوریاں۔سانحہ پمز سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ آئندہ ایسے حادثات اور واقعات کی مکمل روک تھام کا انتظام ہو جائے اگر ایسا نہ ہوا تو پھر یہ سانحہ کئی دوسرے المیوںکے ساتھ قومی روگ بن جائیگا اور لوگ بے حسی اور بد انتظامی کے حوالے سے اسکی مثالیں دیا کریں گے۔ یہ درست ہے کہ روم ایک دن میں نہیں بناتھا۔ (Rome was not built in a day)

مگر اصل بات تاریخ سے یہ سبق سیکھنا ہوتاہے کہ جو غلطی، کوتاہی یا زیادتی ایک بار ہوگئی وہ دوبارہ ہونے نہ پائے، مغربی دنیا نے اپنی ہی غلطیوں سے سیکھ کران غلطیوں اور کوتاہیوں سے اجتماعی ضمیر اور شعور کے ذریعے ترقی کی منزلیں عبور کیں جبکہ مشرقی دنیا بار بار وہی غلطیاں دُہراتی ہے اور ان سے کوئی سبق نہیں سیکھتی۔ ہوسکتا ہے ہمارے وزیر اعظم ہاؤس اور اہم ترین سرکاری عمارتوں میں بھی آگ بجھانے اور ایمرجنسی سے نمٹنے کی کوئی سہولت ہو اور نہ تیاری۔پمز کی آگ، آئندہ وقتوں کے آتش فشائوں سے بچنے کیلئے سبق کے طور پریاد رکھنی چاہیے وگرنہ لندن اور روم بھی تو جل گئےتھے، ہمیں بڑی آگ سے بچنے کی پہلے سے تیاری کرنا ہوگی۔

 

Back to top button